اگر دورِ ایوب نہ آتا تو پاکستان آج بھی اندھیروں میں ہوتا!

پاکستان میں ہر کیرئر `پروفیشن یا پیشے کی کوئی نہ کوئی کوالیفکیشن ضرور ہوتی ہے۔ صرف پاکستان میںہی نہیں دنیا بھر میں ایسا ہی ہے۔ پاکستان کو منفرد مقام اس لئے حاصل ہے کہ یہاں سیاست دان بننے یا کہلانے کے لئے کسی کوالیفکیشن کی ضرورت نہیں ۔ ڈاکٹر کو میڈیسن میں ڈگری لینی پڑتی ہے۔ انجینئر کو انجینئرنگ کرنی پڑتی ہے۔ وکیل کو قانون کی تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ غرضیکہ کہ کوئی بھی کیرئیر ایسانہیں جس کے لئے کوئی نہ کوئی کوالیفکیشن نہ ہو۔ صرف اور صرف چپڑاسی یا سےاستدان بننے کے لئے کسی بھی قابلیت سند یا ڈگری کی ضرورت نہیں ۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چپڑاسی کا کام حکم بجا لانا ہوتا ہے اور سیاست دان کا کام حکومت کرنا اور ملک کا نظم ونسق سنبھالنا۔
یہاں بات جمہوریت کی کی جاتی ہے۔ بابائے قوم کی کی جاتی ہے۔ ان بانیانِ وطن کی کی جاتی ہے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا۔ مگر وہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ان میں کم از کم ایک قابلیت ضرور تھی کہ انگریز انہیں اس قابل ضرور سمجھتے تھے کہ انہیں اپنا نمک کھلائیں ۔ بے شمار نمک حلالوں نے اپنے آقاﺅں کو خوش کرکے جاگیریں پائیں ۔ نوابیاں اور سرداریاں حاصل کیںاور اپنا نام حکمران طبقے کے عنوان تلے لکھوالیا۔
میں یہاں اُن غیور فرزندانِ قوم کا ذکر نہیں کر رہا جن کی قابلیت اور جدوجہد نے کامراینوں کی متعدد ایمان افروز داستانیں لکھیں۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ تو روشنی کے مینار تھے ہی، یہاں مولانا محمد علی جوہرؒ ، ظفر علی خان، حسرت موہانی، اور اس قبیل کے دیگر رجالِ عظیم کا ذکر بھی ہونا چاہئے۔
جو بات میں یہاں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سیاست یا حکمرانی کا شعبہ ایسا ہے جو وطنِ عزیز میں طالعِ آزماﺅں ، موقع پرستوں، خوشامدیوں ابن الوقتوں اورParasites کے لئے چھوڑ دیا گیا۔
اور اس شعبے کو قابلِ تعظیم بنانے کے لئے اسے جمہوریت یعنی سلطانی جمہور کی رسمی چھتری فراہم کر دی گئی۔
یہ موضوع بڑا طویل اور تلخ ہے۔
لیکن آج کا پاکستان اپنی تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں تلخ حقائق کو سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ہمارے ملک میں فوجی آمروں اور آمریتوں کو بر ا بھلا کہنا اور گالیوں سے نوازنا ایک انٹلکچوئل فیشن کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ اس سے بڑی ستم ظریفی کی بات کیا ہوگی کہ میاں نواز شریف جیسے لوگ بھی فوجی آمر وں اور آمریتوں کو گالیوں سے نوازکر اپنا نام جمہوریت کے ثنا خوانوں میں لکھواتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ میاں نواز شریف جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی سٹیٹ ٹیوب بی بی تھے۔ اِس عذابِ عظیم کو پاکستان پر مسلط کرنے کا جرم کسی اور سے نہیں جنرل ضیا الحق سے سرزد ہوا تھا۔
جو بڑی تلخ سچائی میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے اگر اکتوبر 1958میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا کر حکومت پر قبضہ نہ کیا ہوتا تو پاکستان کی حالت سوڈان اور کانگو وغیرہ سے مختلف نہ ہوتی۔ پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کا سہرا ملک کے پہلے فوجی آمر کے سر پر ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے انکار صرف ایسے لوگ کر سکتے ہیں جن میں سچائی کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں۔
ہم جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے تصورات کا کریڈٹ زیڈ اے بھٹو کو دیتے ہیں اور شاید غلط طور پر نہیں دیتے۔ مگر یہ زیڈ اے بھٹو ہی تھے جنہوں نے 30اپریل 1958کو ایک خط میں تب کے صدر میجر جنرل (ر) سکندر مرزا کو لکھا تھا۔ ”جناب عالی۔ آپ اسے خوشامد مت سمجھئے گا۔ میں یہ دل سے سمجھتا ہوں کہ آپ محمد علی جناح سے بڑے آدمی ہیں۔“
بھٹو کے دستخطوں کے ساتھ یہ خط اب تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھٹو بڑے آدمی نہیں تھے ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور پاکستان کی تاریخ کا سنہری دور تھا ہی اس لئے کہ ان کی کابینہ میں بھٹو، شعیب منظورقادر اور ان جےسے دوسرے کئی قابل لوگ موجود تھے۔
ملکوں کو قابل لوگ چلا یا کرتے ہیں یا پھر ایسے نظام جو قابل لوگوں کو سامنے لاتے ہیں۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top