ایم کیوایم اپنے پاو¿ں پر کھڑی ہورہی

zaheer-babar-logo

سینٹ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر ایم کیوایم کے اندر جو اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہی اس نے ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کہلانے والی پارٹی کا سیاسی مسقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار کردیا ۔ ایم کیو ایم میں متنازعہ قرار پانے والی شخصیت کامران ٹیسوری کو سینٹ کا ٹکٹ دینے پر جو اختلاف ہوا وہ ڈاکڑ فاروق ستار اور ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے درمیان کھل کر ظاہر ہوچکا اب تک یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ اعلانیہ طور پر لڑی جانے والی اس لڑائی کا آخر انجام کیا ہوگا۔
پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے ایم کیوایم بانی کی صوبائی اور قومی سیاست سے بے دخلی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیںلے رہے ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک لندن میں موجود شخصیت کی مکمل تابعداری کرنے والوں کو اطاعت کی اس قدر عادت پڑچکی کہ وہ آزانہ طور پر فیصلے کرنے میں ناکام ہورہے۔ ایم کیوایم میں انتشار کا فائدہ کئی سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ہوسکتا ہے، اس صورت حال میں جو جماعت پھولے نہیں سما رہی وہ پی پی پی ہے جو سمجھتی ہے کہ طویل عرصہ بعد ایک بار پھر وہ سندھ کے شہری علاقوں سے قومی وصوبائی اسمبلی کی نشتیں حاصل کرسکیں گی۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف بھی چند روز قبل کراچی کا دورہ کرچکے جس میں انھوں نے کھل کر شہر میں امن وامان بحال کرنے کا کریڈٹ لیا۔ میاں نوازشریف اہل کراچی کو یہ کہتے ہوئے بھی نظرآئے کہ اگر آنے والے عام انتخابات میں کراچی سے مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی تو وہ اس شہر میں ”ریکارڈ “ ترقیاتی کام کروائیں گے۔ سندھ کے گورنر اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ پی ایم ایل این کو یقین ہے کہ وہ ایم کیوایم کی صفوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں عمران خان نے روشنیوں کے شہر سے ہزاروں نہیں لاکھوں ووٹ لیے۔ایک خیال یہ ہے کہ اگر عمران خان پنجاب کے ساتھ کراچی پر بھی توجہ مبذول رکھتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی قابل زکر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہتی مگ اب بھی پاکستان تحریک انصاف کے لیے تاحال امکانات ختم نہیںہوئے ۔ نہیں بھولنا چاہے کہ پشاور کے بعد اب کراچی میں بھی شوکت خانم ہسپتال تیزی سے تکمیل کو پہنچ رہا۔
ایم کیوایم میں حالیہ تھوڈ پھوڈ ایک بار پھراس سچائی کو بیان کرگی کہ ملک کی قابل زکر سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت کا فقدان ہے۔ کم وبیش سب ہی سیاسی ومذہبی جماعتوں میں شخصیات اس قدر طاقتور ہیں کہ ان کا حکم ہی آخری فیصلہ کہلاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کمر بستہ رہنا حیران کن نہیں مگر انفرادی اور گروہی مفادات کو عوامی مفاد پر ترجیح دینا ایسی خامی ہے جس کے مظاہرے ہمارے ہاں جا بجا موجود ہیں۔
ایک خیال یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں ملک میں جمہوریت کا فروغ اسی وقت ممکن ہے جب مقامی حکومتوں کی شکل میںایسا نظام فعال کیا جائے جو عوام کی دہلیز پر ان کی مشکلات کم کرے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ملک میںبلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور ان کے نتائج کا اعلان بھی کردیا گیا مگر کہیں بھی کونسلرز اور ناظمین کو اختیارات اور فنڈز تاحال نہیںدیے گے۔ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی فنڈز اور اختیار کو کسی طور پر چھوڈنے کو تیار نہیں۔ افسوس کہ ہمارے سیاست دان بھی یہی تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ جمہوریت یہی ہے کہ ایوانوں کے منتخب اراکین ہی سڑکوں اور گلیوں کا افتتاح کرتے پھریں۔
پرنٹ ،الیکڑانک اور سوشل میڈیا سے یہ شکایت کرنا غلط نہ ہوگا کہ اس نے آگے بڑھ کر عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش نہیں کہ مقامی حکومتوں کا نظام رائج کیے بغیر کسی طور پر حقیقی بہتری کا عمل پایہ تکمیل کو نہیں پہچنے والا۔ ایسا نہیں کہ مقامی حکومتوں کی حمایت میں کہیں سے آواز نہیں اٹھ رہی اس کے برعکس حالات یہ ہیں کہ مقامی حکومتوں کو اختیار اورفنڈز دینے کا مطالبہ زور نہیں پکڑ رہا۔
متحدہ قومی موومنٹ کی مشکل بھی یہی ہے کہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتے ہوئے وہ اپنے بنیادی مقاصد کو فراموش کرگی۔ ایم کیوایم کئی دہائیوں سے یہ دعوی کرتی چلی آرہی کہ وہ مڈل کلاس کی نمائندہ ایسی جماعت ہے جو کراچی کے پڑھے لکھے لوگوں کی نمائندہ ہے۔ مگر افسوس کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے بیزاری کی علمبردار ایم کیوایم اپنے حقیقی مقاصد سے انحراف کرگی۔
یقینا ایم کیوایم کا بطور سیاسی جماعت ملک بالخصوص کراچی میں رہنا لازم ہے۔ ایم کیوایم کے سنجیدہ حلقوںکو اپنے طرزعمل سے ثابت کرنا چاہے کہ ان کی جماعت میں لسانیت کے نام پر نفرتیں پھیلانے والے ماضی کا قصہ بن چکے۔ وطن عزیز کا مسقبل جمہوریت کے ساتھ ہی وابستہ ہے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی سیاست قیادت ہی ایسے فیصلے کرسکتی ہے جو ملک کو روشن اور محفوظ مسقبل دیں۔ ایم کیوایم میں ہونے والی اکھاڈ پچھاڈ سے یقینا مایوس نہیںہونا چاہے ۔لندن سے ریموٹ کنڑول کے زریعہ چلائی جانے والی سیاسی جماعت کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت چاہے جو یقینا پاکستان بالخصوص کراچی کے باسی دینے کو تیار ہیں۔

Scroll To Top