پنجاب بیورو کریسی تعاون نہیں کر رہی، چیئر مین نیب

  • شاہ کے وفادار سن لیں، غلط احکامات دینے اور لینے والوں کا احتساب ہو گا
    جمہوریت کےخلاف نیب کوئی سازش نہیں کر رہا ،کوئی انتقام لیا نہ لیں گے ، سیاسی رنگوں میں نہ رنگیں‘ بعض اداروں سے عدم تعاون کی شکایت ہے، یہ روش مناسب نہیں، آئندہ برداشت نہیں کیا جائےگا
  • بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے فیس نہیں بلکہ صرف اور صرف کیس کو دیکھیں گے ، احتساب سب کے لئے پالیسی پر زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی اولین ترجیحات ،بیوروکریسی کسی فرد واحد کے اشاروں پر نہیں ناچ سکتی،جسٹس (ر) جاوید اقبال کا خطاب

چیئرمین جسٹس( ریٹائرڈ )جاوید اقبال

لاہور ( این این آئی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جمہوریت کے خلاف نیب کوئی سازش نہیں کر رہا ،کوئی انتقام لیا نہ لیں گے لہٰذا اسے سیاسی رنگوں میں نہ رنگیں،پنجاب کے بعض اداروں کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت ہے،یہ روش مناسب نہیں، اسے آئندہ برداشت نہیں کیا جائے گا،بیوروکریسی کسی شخص کے اشاروں پر نہیں ناچ سکتی، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں، غلط احکامات دینے والے اور ان پر کام کرنے والوں کا مکمل احتساب ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز نیب لاہور کے دفتر میں ڈبل شاہ کیس اور ایلیٹ ٹاﺅن ہاﺅسنگ سکیم کے متاثرین میں 30کروڑ 41لاکھ روپے کی رقوم کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے متاثرین ،ان ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے ریگولیٹر اداروں کے سربراہان بھی مدعو تھے جن میں ڈی جی ایل ڈی سمیت مختلف ٹی ایم ایز اور متعدد ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے مالکان بھی شامل تھے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے فیس نہیں بلکہ صرف کیس کو دیکھیں گے ، ملک میں بد عنوانی ایک کینسر کی طرح سرایت کررہی ہے ، ملک ایک ہے مگر لٹیرے بہت ہیں جنہوں نے جی بھر کے ملک کو لوٹا ، ملک اس وقت 84ارب ڈالر کا مقروض ہے ، 84ارب ڈالر کہاں اور کیسے خرچ ہوئے کہیں نظر نہیں آئے مگر جواب ملتا ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے ، نیب کا کسی سیاست جماعت سے تعلق نہیں اور نہ ہی نیب کسی سے امتیازی سلوک پر یقین رکھتا ہے ، احتساب سب کے لئے پالیسی پر زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈبل شاہ کو سنگل شاہ بنا دیا ، 9ارب روپے کے فراڈ میں سے 4ارب روپے متاثرین کو واپس کیے جبکہ ڈبل شاہ کیس کے دوسرے ملزم تصور گیلانی کے ذمہ 1.9ارب روپے میں سے 1.2بلین روپے کی رقم متاثرین کو واپس لوٹا دی ہے جبکہ نیب نے ایلیٹ ٹاﺅن ہاوسنگ سکیم لاہور کے متاثرین کے 10کروڑ بمعہ منافع/سود کے 36کروڑ ورپے آج متاثرین کو واپس کر دیئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چار ماہ قبل جو قوم سے وعدہ کیا تھا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے متاثرین کی رقوم کی واپسی ہماری اولین ترجیح ہو گی اس پر عملدرآمد جاری ہے اور اب کسی کو مستقبل میں ڈبل شاہ نہیں بننے دیں گے ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے پرکشش اشتہارات کا ریگولیٹرز کو بخوبی جائزہ لینا چاہیے کہ متعلقہ سوسائٹی نے این او سی یا پھر بے آﺅٹ پلان جمع کروایا ہے اور منظور ہو چکا ہے کہ نہیں ، ااج کے بعد غیر قانونی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے علاوہ ریگولیٹرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عوام سے بھی کہا کہ وہ پورے اطمینان اور تسلی کے بعد صرف اور صرف قانون کے مطابق کام کرنے والی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں اپنی سرمایہ کاری کریں ۔ انہوں نے کہا کہ رزق حلال میں ہمیشہ برکت ہوتی ہے ، چند دنوں میں کروڑ پتی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی اور جو بھی لوگ اس دنیا سے گئے ہیں وہ خالی ہاتھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب لٹیروں اور ڈاکوﺅں جنہوں نے عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹ کر ان کو نہ پلاٹ دیئے ہیں اور نہ ان کی رقم واپس کی ہے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اب قانون کے مطابق کارروائی کرے گا اور کسی بھی شخص سے نہ رعایت کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کسی کے خلاف بلا جواز انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا ہے ۔ نیب قانون ، میرٹ ، شفافیت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے اور ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ کےلئے کسی دباﺅ ، سفارش اور دباﺅ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی خاص کر پنجاب کے بعض اداروں سے عدم تعاون کی شکایت ہے، اب تک مسکرا کر برداشت کیا لیکن آئندہ عدم تعاون ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔عدم تعاون کی روش مناسب نہیں، اسے ختم کریں کیونکہ تعاون اپنی ذات کیلئے نہیں غریب عوام کیلئے چاہیے ، یہ ضروری ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے بجائے ملک و قوم کا وفادار اور خدمت گزار بنا جائے۔چیئرمین نیب نے ایل ڈی اے سمیت تمام ریگیولیٹرز کو دو ٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کسی شخص کے اشاروں پر نہیں ناچ سکتی،نیب کسی کی کوتاہی کو برداشت نہیں کرے گا،شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا مکمل احتساب ہوگا اور غلط احکامات دینے والے اور ان پر کام کرنے والوں کا بھی مکمل احتساب ہوگا۔انہوں نے کہاکہ نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتا، جمہوریت کے خلاف نیب کوئی سازش نہیں کر رہا کوئی انتقام لیا نہ لیں گے،نیب کے گواہان کا مکمل تحفظ کروں گا۔قبل ازایں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب وہ واحد ادارہ ہے جو ملزمان سے لوٹی گئی رقوم وصول کرتے ہوئے متاثرین اور حکومتی اداروں کوواپس دلاتا ہے۔ چیئرمین نیب کے احتساب سب کے لیے کے وژن کو لے کر چل رہے ہیںاور ہماری پہلی فوقیت غریب عوام کے لوٹے گئے پیسے واپس دلوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹرز اور متاثرین کو آمنے سامنے بٹھانے کا مطلب ہم بھی جانتے ہیں اور یقینا آپ بھی سمجھ گئے ہونگے،پلی بارگین کے حوالے سے انکا کہنا تھا کی پلی بارگین کی مدد سے جلد از جلد مکمل رقم کی وصولی ممکن ہو پاتی ہے اور ملزم سزا یافتہ بھی تصور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب لاہور آج تک 3لاکھ متاثرین میں 18ارب روپے تقسیم کر چکا ہے،نیب لاہور کہ کوششوں سے ڈبل شاہ کیس کے 29000متاثرین میں 4 ارب روپے وصول کر کے تقسیم کر چکے ہیں، ایلیٹ ہاﺅسنگ سوسائٹی کے 450متاثرین میں 10 کروڑ روپے کے بجائے 36کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں،ایڈن ہاسنگ کی سینکڑوں متاثرین نیب لاہور سے رابطہ کر چکے ہیں جبکہ 2سے 3ماہ میں انتظامیہ تمام متاثرین کو گھر یا پلاٹ دینے کے پابند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کمیٹی بنا دی ہے جس میں ریگولیٹر بھی شامل ہیں اور ٹاﺅن انتظامیہ کے نمائندگان کو شامل کیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسے فراڈ کو روکا جا سکے۔

Scroll To Top