اس عفریت کی جڑیں کہاں ہیں ؟ 24-11-2012

پی ٹی اے کے چیئرمین فاروق اعوان نے ” پوری رات کھل کر مفت بات کرو“ پیکجز پر پابندی عائد کرکے ملک میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور اخلاقی زبوں حالی کے خلاف ایک نہایت ضروری قدم اٹھایا ہے جس پر اُن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پی ٹی اے نے اچانک خود کو ” خوابِ خرگوش “ سے بیدار کیاہے۔ پی ٹی اے کے یکایک یوں بیدار ہو جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی سربراہی نئے ہاتھوں میں آئی ہے۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دو آراءہو ہی نہیں سکتیں۔ اپنی آبادی کے جس حصے کو ہم یوتھ کہتے ہیں اسے ملکی مستقبل کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانا چاہئے۔ اور مسلسل شب بیداری کی وجہ سے اس ” ریڑھ کی ہڈی“ میں کتنی بیماریاں داخل ہورہی ہیں اس کا اندازہ لگانا اُن لوگوں کے لئے مشکل نہیں جو ” جوان خون “ اور ” جواں جذبوں“ کی فطرت میں رچی بسی چنگاریوں کے بارے میں آگہی رکھتے ہیں۔
جواں نسل کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو زیرِ تعلیم ہے ۔ اور ایک وہ جو تعلیم پا کر معاش کی جدوجہد میں شریک ہے۔ دونوں میں شب بیداری کا رحجان صرف اس لئے زور پکڑ رہا ہے کہ انہیں ” جو کچھ کہنا ہے کہہ ڈالو“ کے لئے مفت یا انتہائی سستے پیکج مل رہے ہیں۔ اس قسم کے پیکج دینے کی دوڑ میں نہ تو موبی لنک ` نہ یُو فون ` نہ ٹیلی نار ` نہ وارد اور نہ ہی ژونگ مات کھانے کے لئے تیار ہے۔
اپنا تجارتی حجم اور منافع بڑھانے کی دوڑ میں ہمارا ہرنیٹ ورک ہر قسم کی حدود توڑتا چلا جارہا ہے۔ اگر ان کمپنیوں کے اشتہارات کو ہم اپنی قومی اور اخلاقی اقدار کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کریں تو ہمارے لئے یہ جاننا مشکل نہیں رہے گا کہ عریانی اور فحاشی کا جو عفریت ہمارے معاشرے پرحملہ آور ہے اس کی جڑیں کہاںہیں۔
سننے میں آیا ہے کہ ہمارے نیٹ ورک پی ٹی اے کے فیصلے کے خلاف عدالت میں جارہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ججوں کے گھروں میں بہو بیٹے اور بیٹیاں ہوئیں تو وہ پی ٹی اے کے چیئرمین کے اقدامات کو ناکافی قرار دیں گے۔۔۔

kal-ki-baat

Scroll To Top