کہیں ایسا تو نہیں کہ میاں نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کالی دیوی کے کالے جادو کی مدد لی ہو ۔۔۔؟

جب دنیا میں صدر ریگن اور صدر گوربا چوف کاڈنکا بجا کرتا تھا ` پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ ملک کے فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے منہ بولے بیٹے میاں نوازشریف تھے۔۔۔صدر گوربا چوف افغانستان کی جنگ ہار کر رخصت ہوگئے۔۔۔ صدر ریگن نے بھی صدارت کی دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد وہائٹ ہاﺅس جارج بش سینئر کے لئے خالی کردیا۔۔۔ جارج بش خلیجی جنگ تو جیت گئے مگر صدارت ان سے بل کلنٹن نے چھین لی جو پورے آٹھ برس تک امریکہ کے حکمران رہے۔۔۔ان کے دور میں پاکستان کی وزارت عظمیٰ کبھی بے نظیر بھٹو کے پاس ہوتی تھی تو کبھی میاں نواز شریف کے پاس۔۔۔کلنٹن گئے تو جارج بش جو نیر واِئٹ ہاﺅس کے مکین بن گئے۔ انہوں نے پورے آٹھ برس تک دنیا میں آگ اورتباہی برسائی۔ پھر وہ بھی رخصت ہوگئے۔ اوراُن کی جگہ صدر اوباما نے لے لی۔۔۔ صدر اوباما نے بھی پورے آٹھ برس امریکہ پر حکومت کی۔۔۔ پھر وہ جوانی میں ہی واِئٹ ہاﺅس کو خیر باد کہہ گئے۔

اب امریکہ پر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت ہے۔۔۔ صدر ریگن سے صدر ٹرمپ تک کئی حکومتیں آگے پیچھے ہوئی ہیں ۔۔۔ نسلیں تبدیل ہوگئی ہیں۔۔۔ دنیا کہیں کی کہیں جاپہنچی ہے ۔۔۔ لیکن پاکستان پر ہنوز میاں نواز شریف اوراُن کے خاندان کاقبضہ ہے۔
یہ کیسی جمہوریت ہے؟
جمہوریت میں تو لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ۔۔۔ کبھی کوئی ایک صدر یا وزیر اعظم بنتا ہے تو کبھی کوئی اور۔۔۔فرانس میں پتہ نہیں کون کون آیا اورکون کون چلا گیا۔ ۔۔ یہی حال برطانیہ کا ہے ۔۔۔ جرمنی میں مارکل صاحبہ کو دس برس سے زیادہ کاعرصہ ہوگیا ہے پر لگتا ہے کہ جیسے ایک صدی سے اُن کی ہی حکومت ہے۔۔۔
بھارت میں بھی کئی وزیر اعظم آئے گئے۔
ایک بار فرانس کے آنجہانی صدر چارلس ڈیگال نے کہا تھا۔۔۔” آٹھ دس سال کے بعد لوگ اپنے حکمرانوں کے چہروں سے بھی چڑجاتے ہیں۔۔ ۔ اس سے پہلے کہ لوگ ڈیگال کے نام سے نفرت کرنے لگیں میں صدارت چھوڑ دوں گا۔۔۔“
مگر میاں نواز شریف کے خاندان کا خیال یہ ہے کہ قائداعظمؒ نے پاکستان بنایا ہی اس لئے تھا کہ میاں محمد شریف کی اولاد اس کی جان کبھی نہ چھوڑے۔ ۔۔
اور ستم طریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ شریف فیملی کے پہلو بہ پہلو بھٹو/زرداری فیملی بھی چل رہی ہے۔۔۔
صد ر ریگن کے دور میں صرف میاں برادران کا ہی چرچا نہیں تھا۔۔۔ زرداری صاحب کا بھی چرچا تھا۔۔۔ اُس دور میں میاں برادران کے میڈےامنیجر حسین حقانی نے زرداری صاحب کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیا تھا۔۔۔
اب میاں برادران خیر سے خود نوے پرسنٹ بن چکے ہیں ۔۔۔ باقی دس پرسنٹ پر پاکستان کے عوام کا گزارا ہورہا ہے۔۔۔
28جولائی2017کو عوام کی امید بندھی تھی کہ ِان خاندانوں سے ان کی جان چھوٹنے والی ہے۔۔۔ لیکن ہنوز یہ”امید“ بس ”امید“ ہی ہے۔۔۔
لگتا ہے کہ پورا پاکستا ن اِن خاندانوں کے سامنے بے بس ہے۔۔۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ میاں نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کالی دیوی کے کالے جادو کی مدد لی ہو۔۔۔؟

aj ni gal new logo

Scroll To Top