امریکہ افغانستان کو سمجھے

پاک امریکہ تعلقات بارے یہ کہنا غلط نہیں کہ کسی بھی دورمیں اس سلسلے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے،ایک دوسرے کی ضرورت ہونے کے باوجود دونوں ملکوںبارے اگر کچھ یقین سے کہا جاسکتا تو وہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مکمل لاتعلق ہونے کے امکانات کم ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ امریکہ نے عندیہ دیا کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد نہیں روکے گا۔ دورہ واشنگٹن کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ میں مختلف لابیز ہیں جو اپنی پسند کے بل متعارف کرواتی رہتی ہیں مگر جو ہماری امریکی انتظامیہ سے بات چیت ہوئی ہے اس حوالے سے ہم پرامید ہیں۔ ایک سوا ل کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے کئی تجربات کیے جارہے ہیں لیکن افغانستان اور پاکستان کا جغرافیہ ایک ہی ہے لہذا امریکہ کو افغانستان میں امن کی کوششوں میں دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان سے زیادہ مدد گار نہیں ہوسکتا۔“
ادھر امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی امداد بند کرنے کا حربہ بری طرح ناکام ہوا اور اسلام آباد ابھی تک اپنی پرانی پالیسی پر کاربند ہے۔ کمیٹی کے ری پبلیکن چیرمین سینیٹر رابرٹ کروکر نے پاکستانی امداد روکنے کے فیصلے کی بھرپور تائید کی، ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا رہیگااس وقت تک پاکستان کی اربوں ڈالر کی امداد پر پابندی عائد ہوگی، بعقول ان کے یہ ایک واضح لکیر ہے کیونکہ دہشت گرد عام شہریوں سمیت امریکی اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہیں“۔
افغانستان میں اتحادی افواج سے برسر پیکار گروہوںکی پاکستان میں محفوظ پناگاہوں کا الزام نیا نہیں۔ نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ بہادر مختلف موقعوں پر پاکستان پر یہ بہتان باندھتا چلا آرہا ہے کہ پاکستان ان متشدد گروہوں کو اپنے ہاں پناہ فراہم کررہا ہے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ بظاہر یہ الزامات اس وقت اپنی قدر کھودیتے ہیں جب عالمی میڈیا میں ایسی خبریں تواتر سے سامنے آرہیں کہ سالوں کی کاوش کے باوجود امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان میں اپنی رٹ بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مثلاً حال ہی میں بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ میںانکشاف کیا گیا کہ افغان حکومت کی ساٹھ فیصد سے زائد علاقے میں اپنی رٹ نہیں رکھتی۔ بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی اکثر علاقوں میں طالبان کی رٹ ہے اور وہاں ان ہی قانون چلتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے یہ بھی دعوی کیا کہ افغانستان میں داعش بھی اپنا اثررسوخ رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا غلط نہیں کہ طالبان جگنجو گروہوں کے لیے سرحد پار کرکے پاکستان میںپناہ لینے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ افغانستان کے ان علاقوں کو اپنا مسکن بنائیں جہاںاشرف غنی حکومت کا عمل دخل نہیں۔“
دراصل امریکہ کو زمینی حقائق مدنظر رکھنا ہونگے۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ناجانے کیوں نہیں سمجھ پارہی کہ افغانستان میں کبھی بھی کسی بیرونی طاقت کو حتمی فتح میسر نہیں آئی۔ ماضی میںاگر تاج برطانیہ کا غرور خاک میں ملا تو گذشتہ صدی میں روس شکست وہزیمت سے دوچار ہوا۔ شائد امریکہ کو ہرگز اندازہ نہ تھا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر اس کی جارحیت اس کے گلہ پڑ جائیگی۔ امریکہ کے پالیسی ساز آج اس پر فکر مند ہیں کہ اس لڑائی کا خاتمہ کیوں اور کیسے ہو۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کے لیے یہ آٓسان نہیں کہ وہ اپنی شکست تسلیم کرلے۔
حال ہی میں ایک اعلی امریکہ عہدیدار کی جانب سے کیا جانے والے اس انکشاف کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا کہ اب واشنگٹن کی توجہ دہشت گردی کی بجائے روس اورچین پر مرکوز ہوچکی۔ درپیش حالات سے باخبر لوگوں کے مطابق امریکہ ایسے بیانات دے کر افغانستان میں اپنی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے کوشاں ہے۔ روس اور چین پر امریکی توجہ اسی وقت مرکوز رہ سکتی ہے جب خود افغانستان میں اسے چین نصیب ہوا مگر اس کے برعکس حالات یہ ہیں کہ افغانستان میں مسلسل غیریقینی صورت حال کے ڈیرے ہیں۔ بدامنی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کابل تک محفوظ نہیں رہا۔ درالحکومت میں آئے روز ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی بتا رہیں کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ افغان فوجی بھی حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔
انکل سام کے لیے یہ مشورہ غلط نہیں کہ وہ سب سے پہلے افغانستان سے نکلنے کی کوئی حتمی تاریخ دے۔ سمجھ لینا چاہے کہ افغانستان میں رہنے والوں کی اکثریت غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو پسند نہیںکرتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی سرزمین پر قبضہ کرنے والوںکوفوری طور پر علاقے خالی کردینا چاہے۔ افسوس کہ آج افغان جس طرح پاکستان سےنفرت کرتے ہیں وہ کسی اور ملک کے حصہ میں نہیںآئی، اسے امریکی حکمت عملی کی کامیابی کہنا چاہے کہ اب افغانستان میںپاکستان کی حمایت میں کوئی سامنے آنے کو تیار نہیں۔ افغان حکومت اور میڈیا طے شدہ حکمت عملی کے تحت اس منصوبہ پر عمل درآمد کررہا کہ افغانستان میں مسائل کو وجہ غیر ملکی افواج نہیں بلکہ پاکستان کی مداخلت ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لحاظ سے تشویشناک ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنا آسان نہیں رہی۔ سچ ہو یا جھوٹ حقیقت یہ ہےے کہ اب افغانیوں کی اکثریت پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتیں۔

zaheer-babar-logo

Scroll To Top