کامران خان اور اجمل قصاب 23-11-2012

آج میرا جی چاہ رہا ہے کہ اپنے ملک کے سب سے بڑے چینل کے سب سے ممتاز اینکرپرسن یا میزبان جناب کامران خان سے پوچھوں کہ ” ان کا قبلہ کس طرف ہے ؟ ان کا دل کہاں بس رہا ہے ؟ اور ان کی وفاداریاں ” لکیر “ کے اِس طرف ہیں یا اُس طرف ۔۔۔؟“
جس لکیر کی میں بات کررہا ہوں وہ جغرافیائی نہیں۔ یہ لکیر دو سوچوں کے درمیان کھینچی ہوئی ہے۔ اگر چہ وقت کی دُھول اس پر کافی جم چکی ہے مگر پھر بھی یہ لکیر اتنی مدہم نہیں ہوئی کہ نظر نہ آئے۔
اِس لکیر کے اِس طرف جو لوگ بستے ہیں اُن کی سوچوں میں اب بھی علامہ اقبال ؒ کے اشعار گونجتے ہیں ` انہیں اب بھی یاد ہے کہ قائداعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ` اور وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ جب تک کشمیر بھارتی سنگینوں کے پہرے سے آزاد نہیں ہوجاتا ` حریت پسندوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
اور جو لوگ اِس لکیر کے اُس طرف بسنے لگے ہیں ان کے خیال میں ضرورت اب دل کو ایک ایسا مندربنانے کی ہے جس میں صرف امن کی آشا کے پھول کھلیں ¾ اور جس میں ہوا کے کسی ایسے جھونکے کا بھی گزر نہ ہو جس میں مسئلہ کشمیر کا فتنہ پرورشورہو۔
اگر آپ نے 21نومبر کی رات کو کامران خان شو دیکھا اور آپ نے دیکھا کہ کامران خان کتنی مہارت اور کس قدر جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان کو دہشت گردوں کی تربیت گاہ ثابت کررہے ہیں ` تو آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ میں پاکستان میڈیا کے اس بطلِ جلیل سے کیوں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ بھارتی میڈیا کی سوچ کو یہاںکیوں فروغ دے رہے ہیں۔
شاید میرے کانوں نے غلط سنا ہو۔ یا میری آنکھوں نے غلط دیکھا ہو۔ یا پھر میری فہم نے غلط سمجھا ہو۔ لیکن 21نومبر کی رات والا کامران خان مجھے ہم سب سے یہ کہتا محسوس ہوا کہ ” تم سب اجمل قصاب ہو۔ اور تم سب کو پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔۔۔“

kal-ki-baat

Scroll To Top