جمہوریت کا مستقبل پاکستان میں بے حد تابناک ہے کیوں کہ یہاں اس کے تحفظ کی قسّم کھانے میں کوئی دوسرے سے پیچھے نہیں۔۔۔۔

پاکستان میں ہر شخص نے اپنی اپنی بساط کے مطابق جمہوریت کے تحفظ کی قسّم کھا رکھی ہے۔۔۔ میاں نوازشریف تو پیدا ہی جمہوریت کے خمیر سے ہوئے تھے۔۔۔ جمہوریت نے ہی انہیں دنیا کے پانچوں براعظموں میں بڑی بڑی قیمتی املاک کا مالک بنا دیا۔۔۔ وہ اگر جمہوریت کے تحفظ کی قسّم نہیں کھائیں گے تو اور کون کھائے گا۔۔۔؟ اسی طرح جناب آصف علی زرداری جمہوریت کے تحفظ کی قسّم نہیں کھائیں گے تو اور کون کھائے گا ؟ جہاں تک مولانا فضل الرحمان ` اسفند یار ولی خان ` فاروق ستار اور مولانا سراج الحق وغیرہ کا تعلق ہے ان کا تو وجود ہی جمہوریت کے دم سے قائم ہے۔۔۔ شجرِ جمہوریت کی آبیاری کرنے میں عمران خان بھی کسی سے پیچھے نہیں۔۔۔
ان تما م اصحاب کا جمہوریت کے ساتھ چولی دامن کا رشتہ ہے۔۔۔
مگر جمہوریت کے تحفظ کی جو قسّم ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور ہمارے جج صاحبان نے کھائی ہوئی ہے اصل اہمیت اُسی قسّم کی ہے۔۔۔ جج صاحبان کی ” قسّم “ تو پھر بھی ایک فطری امر ہے۔۔۔ جمہوریت نہیں ہوگی تو جج صاحبان بھی ویسے جج صاحبان نہیں ہوں گے جیسے جج صاحبان وہ ہیں۔۔۔ گویا جس ” قسّم “ نے جمہوریت کی رگ و پے میں زندگی کی حرارت دوڑا رکھی ہے وہ ہمارے آرمی چیف کی قسّم ہے۔۔۔
ہمارے سیاست دانوں کو یقین سا ہوچکا ہے کہ وہ ملک کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں ` ہمارے آرمی چیف جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔۔۔ ملک کا نا اہل سابق وزیراعظم بڑی شان سے عدلیہ اور فوج کو گالیاں دیتا ۔۔۔ دندنا پھرے گا۔۔۔ اس کی صاحبزادی بھی بے دھڑک اداروں پر الفاظ کے تیر و نشتر برساتی پھرے گی۔۔۔
سینٹ کی سیٹوں کی تجارت کھلے عام ہوگی۔۔۔ کہیں بولی دس بیس کروڑ کی لگے گی تو کہیں بات ارب ڈیڑھ ارب تک جا پہنچے گی۔۔۔ چوروں ڈاکوﺅں ` رہزنوں ملک دشمنوں غداروں اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی ہوگی کہ وہ پارلیمنٹ کی رکنیت اختیار کریں۔۔۔ پارلیمنٹ ایسے قوانین بنانے کے لئے آزاد ہوگی جو کذابوں اور بے ایمان لوگوں کو جماعتوں کی سربراہی عطا کرسکیں۔۔۔
جمہوریت کا مستقبل پاکستان میں بے حد تابناک ہے کیوں کہ یہاں اس کے تحفظ کی قسّم کھانے میں کوئی دوسرے سے پیچھے نہیں۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top