نیکٹاکے سربراہ کا اعتراف

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میں ایسے لوگ کی کمی نہیں جو اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان پر ویسا عمل درآمد نہیںہوسکا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی، اس کی ایک وجہ منتخب حکومتوں کی عدم دلچسپی بھی نظر آتی ہے جو باجوہ خاطرخواہ نتائج دینے کا باعث نہیں بن سکیں۔آرمی پبلک سکول میں سینکڑوں بچوں کی شہادت کے نتیجے میں خبیر تا کراچی جو اتفاق رائے سامنا آیا تھا اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا گیا، یہ تاثر تو اب بھی موجود ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ صرف اور صرف سیکورٹی فورسز کی زمہ داری ہے یعنی سیاسی جماعتوں کا یہ درد سر نہیں۔
نائن الیون کے بعد پاکستان میںکشت وخون کا جو بازار گرم ہوا اس میں ہزاروں جانیں ارض وطن پر قربان ہوئیں۔ ستم ظریفی یہ کہ ان دنوں ملک کی کم وبیش سب ہی سیاسی جماعتیں دہائی دیتی رہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری لڑائی ہی نہیں۔ اہل سیاست ومذہب اس حقیقت سے صرف نظر کرتے رہے کہ امریکہ سے دشمنی آڈ میں کالعدم گروہوں نے ارض وطن میں آگ وخون کا کھیل شروع کردیا ۔ شومئی قسمت سے رہنمائی کے منصب پر فائز حضرات کی اکثریت اس کا ادراک کرنے میں ناکام رہی کہ پرتشدد تنظیمیں ارض وطن کی سیاسی ونظریاتی اساس تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی منظرنامے پر چھائے ہوئے رہنماوں سے قومی میڈیا نے ایسی امیدیں وابستہ کرلی تھیںجن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی وہ اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی نیت۔ یہی وجہ ہے کہ سالوں گزرنے کے باوجود اب بھی مطلوبہ نتائج کاحصول ممکن نہ ہوسکا۔
اب نیکٹا کے سربراہ کا یہ اعتراف سامنے آیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خاتمہ کے لیے بہت کم کام کیا گیاجبکہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بھی مسائل کا سامنا ہے۔ بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے احسان غنی کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کے دوحصے تھے جہاں ایکشن لینا تھا وہ تو لےا گیا مگر جہاں مختلف پراسیس پر کام ہونا تھا وہ بتدریج ہورہا ہے۔
تعلیمی اور مدارس میں پڑھ جانے والے نصاب تبدیل کرنے کے سوال پر احسان غنی کا موقف تھا کہ اس ضمن میں صوبوں کو تحفظات ہیں بعقول ان کے مجھے زیادہ علم نہیںکہ ان کے تحفظات کیا ہیں مگر صوبوں کا کہنا ہے کہ اب تعلیم ان کا شعبہ ہے۔ “
نیکٹاکے سربراہ کی گفتگو سامنے آنے کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قیام امن کے لیے ان کوششوں کو تیزی کرنے کی ضرورت ہے جو بظاہر بے دلی سے جاری ہیں۔ احسان غنی کے انکشافات ایسے موقعہ پر سامنے آئے ہیں جب عام انتخابات کو زیادہ عرصہ نہیںرہ گیا لہذا ایسا کسی طور پر ممکن نہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں وہ کام کرجائیں جس سے کسی بھی شکل میں ان کے ووٹروں کی ناراضیگی کا احتمال ہو ۔ اب کہا جاسکتا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نئی منتخب حکومت کے قیام تک ممکن نہ ہوسکے گا۔
دراصل یہ تاثر تاحال ختم نہیں ہوسکا کہ بعض سیاسی جماعتیں خواہشمند ہیں کہ دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہ ہو، اندرون خانہ اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ صرف یہی طریقہ جو دفاعی اداروں کو الجھائے رکھنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔
نہیں بھولنا چاہے کہ قبائلی علاقوں میں ضرب عضب کا آغاز بھی جنرل راحیل شریف نے کیا تھا جس کی تائید بعدازاںسول حکومت کی جانب سے آئی۔ ناکامیوں کی بجائے صرف اور صرف کامیابیوںکا کریڈٹ لینا ہرگز صحت مندانہ رویہ نہیں۔ دراصل سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر رہنمائی کرنا ہوگی یہی وہ بات ہے جس کا جنرل قمر جاوید نے سینٹ میں کھل کا اظہار کیا ، سپہ سالار کا موقف تھا پارلیمنٹ داخلہ اور خارجہ پالیساںبنائے فوج اس پر عمل کریںگی۔ “
سیاسی قائدین کو سمجھنا ہوگا کہ وطن عزیز میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوچکیں۔ میڈیا ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا، دوسری جانب علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی پاکستان پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ملک کا جغرافیائی کے محل وقوع ایک طرف تعمیر وترقی کے بہت سارے مواقع دے رہا وہی خدشات اور خطرات کا باعث بھی بن رہا۔
سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ غلط نہیںکہ وہ نیکٹا سربراہ کی مشکلات دور کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ایک خیال ہے کہ سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سالوں سے وہ مراحل طے نہیٰں کیے جارہے جو حقیقی امن وامان کے لیے لازم وملزوم خیال کیے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں پارلیمنٹ اہم کردار ادا کرسکتی ہے ، اہداف کے حصول کی تمام تر زمہ داری حزب اقتدار پر عائد کرنا بھی درست نہ ہوگا ، دیکھنا چاہے کہ خود اپوزیشن جماعتیں کس حد تک ایسے مسائل ایوانوں میں اٹھانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔
امریکہ بہادر ہمارے سیاست دانوں کی خامیوں اور خوبیوں سے باخوبی آگاہ ہے یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ مطالبہ تواتر کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموںکے خلاف پاکستان موثر طور پر کارروائی نہیں کررہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر نیکٹاکا سربراہ بہت سے حوالوںسے اعتراضات اٹھا رہا تو امریکہ کی تنقید بھی بلاوجہ نظر نہیں آتی۔ کاش ایسا ہو کہ ہماری سیاسی قوتیں انفرادی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک کو درپیش مسائل کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس کام کر دکھائیں ۔

Scroll To Top