پاک بھارت تنازعات کے خاتمہ کیلئے ثالثی لازم

پاکستان کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا پاک بھارت تنازعات میں ثالثی کروانے کی پیشکش پر خیر مقدم کرنا بلاوجہ نہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے ہر علاقائی اور عالمی فورم پر یہ مطالبہ کرتاچلا آرہا ہے کہ بھارت سے کشمیر سمیت سب ہی مسائل اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب دونوں ملکوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائمز آف انڈیا کو دیئے گے انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگے تو وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کروانا چاہیں گے کیونکہ تنازعات کی وجہ سے خطے میں کشیدیگی ہے۔ امریکی صدارتی امیدوار کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ ماحول دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ معاملے بہت گرم ہے۔ اگر دونوں ملکوں دوستانہ ماحول میں ساتھ رہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور مجھے امید ہے وہ ایساکرسکتے ہیں“۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفیگ کے دوران اس ضمن میں پوچھے گے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم اپنے ان دوستوں سے جو ا س وقت امریکہ انتظامیہ میں موجود ہیں زور دیتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات خصوصا مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔“
پاک بھارت تعلقات کی تاریخ سے آگاہ ہر شخص آگاہ ہے کہ 70سال سے بھارت مسلہ کشمیر کی شکل میں وادی کے نہتے عوام پر ظلم وستم کے پہاڈ توڈ رہا ہے۔ اٹوٹ انگ کا بے بیناد دعوی کرکے بھارت عالمی برداری کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ کشمیر ایک طرف انسانی حقوق کا معاملہ ہے تو دوسری جانب یہ اقوام متحدہ کی اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے چیلنج بھی ہے تاکہ یواین کا عالمی سطح پر بھرم برقرار رہ سکے۔ پاکستان اور بھارت میں تعلقات کے بگاڈ کو مسلسل نظر انداز کرکے بین الاقوامی برداری بھارت کو شاباش دے رہی کہ وہ نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم ستم جاری وساری رکھے سکے۔
دنیا کے امن پسند حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہے کہ تنازعہ کشمیر کو لے کر دنیا بھر کے مسلمانوںکو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اہل توحید کے مسائل سے ”مہذب دنیا “کو کچھ لینا دینا نہیں۔ ایسٹ تمیور کے معاملے میں تیزی سے آگے بڑھنے والی اقوام متحدہ کشمیر اور فلسطین کے معاملہ میں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں اگر قابض علاقوں کے نوجوان بندوق اٹھا کر حریت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو قابض ریاستیں دہشت گرد قرار دے ڈالتی ہیں۔ بادی النظر میں انصاف کا یہی دوہرا معیار عالمی سطح پر انہتاپسندی کو بڑھانے میں معاون بن رہا ۔ اکسیویں صدی میں جب دنیا کے ایک کونے میں رونما ہونے والا واقعہ پل بھر میںدوسرے سر ے پر رہنے والوں پر اثرانداز ہورہا زمہ دار حلقوں سے انصاف پسندی کا تقاضا کرنا بلاجواز نہیں۔
اس میں شک نہیں کہ کراہ ارض پر جمہوریت کا ڈنکا چار سو بجایا جارہا ۔ مغربی دنیا کے کرتا دھرتا یہ دعوے صبح وشام کررہے کہ وہی ریاست جدید کہلانے کی حقدار ہے جہاںعوام کی مرضی ومنشاءکو کلیدی اہمیت حاصل ہو۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر طاقتور دنیا کا واقعتا معیار یہی ہے تو پھر کشمیر ، فلسطین جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے عوامی رائے کی اہمیت کو کیونکر تسلیم نہیں کیاجارہا۔ عالمی پالیسی سازوں کو سمجھ لینا ہوگا کہ کشمیر کے مظلوم عوام ان ہی اصولوں کی روشنی میں اپنا حق طلب کررہے ہیں جو مغربی دنیا میں مسلمہ ہیں۔حق خود اردایت کا فیصلہ بھی عالمی قوانین کی روشنی میں ہی کیا گیا یعنی ہر قوم کو اپنے مسقبل کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دیگر سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر پاک بھارت تنازعات کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں ۔ یقینا اس بارے حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے کہ کل امریکی صدارتی الیکشن کی دوڈ میں کامیاب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کس حد تک اپنے دعوے کا بھرم قائم رکھتے ہیں ۔
بھارت کو ان دنوں تنازعہ کشمیر کو لے کر جب مشکل صورت حال کا سامنا ہے اب وہ کسی سے بھی مخفی نہیںرہی۔ کئی مہینوں سے بھارتی سیکورٹی فورسز نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ مسلسل کرفیو کے نفاذ سے وادی میں زندگی عملا مفلوج ہوکر رہ گی ہے۔ اہل کشمیر کا اب ایک ہی متفقہ مطالبہ ہے کہ انھیں بھارتی ظلم وستم سے حقیقی معنوں میں آزادی دلائی جائے ۔نوجوان کمانڈر مظفر وانی کی شہادت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو اس طرح جلا بخشی ہے کہ وہ اب تمام تر بھارتی جبر واستحصال کے باجود ماند نہیں پڑرہا ۔ چھروں والی بندوقوں کے زریعے درجنوں کشمیریوں کی شہادت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے باوصف وادی سے آزادی آزادی کی صدائیں مسلسل آرہی ہیں۔ افسوس مودی سرکار مظلوم کمشیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے مسلسل طاقت کے استمال کا آپشن استمال کررہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی حریت پسندوں سے بات چیت کرکے اپنی کمزوری کا اظہار کسی صورت نہیں کرنا چاہ رہی۔ امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارتی ظلم وستم میںجوں جوں اضافہ ہوگا اہل کشمیر زیادہ شدت سے آزادی کے مطالبے کے ساتھ سامنے آئینگے۔ مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں حریت پسندوں کی کاروائیوں میں اضافہ ہوچکا۔ اس پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز یقینا امریکی انتظامیہ سمیت سب ہی بااثر مغربی ممالک کے لیے غور فکر کا سامنا لیے ہوئے ہے۔

Scroll To Top