مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاسکتا! 22-11-2012

ملک و قوم کی خدمت کرنے کے لئے ہر ایک کو اقتدار کی طلب ہے۔ جن کے پاس اقتدار پہلے سے موجود ہے وہ ہر قیمت پر اسے اپنے ہی پاس رکھنا چاہتے ہیں اور جن کی پہنچ سے اقتدار فی الحال باہر ہے وہ ہر قیمت پر اسے اپنے ہاتھوں میں لیناچاہتے ہیں۔
یہ کھیل آج کا نہیں صدیوں پرانا ہے۔ صدیوں سے انسانوں اور انسانوں کے گروہوں کے درمیان اقتدار کے لئے زور آزمائی ہورہی ہے اور اکثر یہ زور آزمائی خون آشام جنگ وجدل میں بھی تبدیل ہو جاتی رہی ہے۔
میرے سامنے میاں نوازشریف کا تازہ ترین بیان ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام سبز باغ دکھانے والوں اور جھوٹے وعدے کرنے والوں کے بہکاوے میں نہ آئیں `اور انہیں یعنی میاں صاحب کو ووٹ دے کر اپنی بھی اور ملک کی بھی تقدیر تبدیل کرڈالیں۔
کہنا میاںصاحب یہ چاہتے ہیں کہ ” میں واحد سیاستدان ہوں جو سبز باغ نہیںدکھاتا اور جھوٹے وعدوں سے لوگوں کو نہیں بہکاتا“۔
یہ دعویٰ کرتے وقت میاںصاحب بھول جاتے ہیں کہ وہ تقریباً تین دہائیوں سے کسی نہ کسی حیثیت میں اقتدار کی مسند پر فائز رہے ہیں ۔ بڑے لمبے عرصے تک وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ پھر وہ دومرتبہ ملک کے وزیراعظم بھی رہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برس سے پنجاب پر اُن کے برادر خورد کی حکومت ہے۔ اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب امن وامان کا گہوارہ بناہوا ہے اور وہاں حکمرانی کا معیار باقی صوبوں کے لئے مشعلِ راہ بن چکا ہے تو اسے میں اُن کی سادگی سمجھوں گا۔
میرے سامنے صدر زرداری صاحب کا بھی تازہ بیان ہے جس میںانہوںنے فرمایا ہے کہ پارلیمنٹ صدر کو زیادہ فعال دیکھنا چاہتی ہے۔ یہاں میں صرف یہ تبصرہ کروں گا کہ اگر صدر کا نام اس وقت عبدالقدوس یا فردوس خان یا چوہدری شہباز وغیرہ ہوتا اور اس نام کے ساتھ صدر صاحب ملک کی سیاست میں اس قدر فعال ہوتے جس قدرفعال زرداری صاحب ہیں تو اب تک پاکستان پیپلزپارٹی ” جمہوری روایات کی بے حرمتی “ کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج سڑکوں پر لاچکی ہوتی۔
مطلب اس ساری بات کا یہ ہے کہ” طلبگارانِ اقتدار “ میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہے کہ ملک آئین پارلیمنٹ غرضیکہ ہر ادارہ اس کی ذات کے اردگرد گھومے۔
اور یہ خواہش انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مشہور فلسفی برٹرانڈرسل نے انسان کی اس فطرت پر ” پاور “ کے نام سے ایک مشہور مقالہ بھی لکھا تھا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھاکہ معاش اور نفسانی خواہش کا بھی انسانی رویوں میں اہم عمل دخل ہوتا ہے مگر بنیادی طور پر ” پاور “ کی طلب آدمی کو بے چین رکھتی ہے۔ یہ طلب ہر گھر میں ` ہر محلے میں ` ہر خاندان میں ` ہر شہر میں `ہر قبیلے میں اور ہر ملک میں اپنی تمام تر جولانیوںاور وحشتوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔
آج کا پاکستان شاید اس آفاقی حقیقت کا منہ بولتا نمونہ ہے۔
پاکستان کے عوام کیسے فیصلہ کریںکہ اقتدار کا کون سا طلبگار سچے اور کون ساطلبگار جھوٹے وعدے کررہا ہے۔؟
میرے خیال میں ہمیں رہنمائی کے لئے اپنے سامنے مشہور حدیث مبارک رکھنی چاہئے ۔
” مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔۔۔“

kal-ki-baat

Scroll To Top