کچھ بکنے والے دوسروں سے زیادہ سمجھدار ہوا کرتے ہیں !

اس میں کوئی شک نہیں کہ نون لیگ نے میڈیا پر خزانوں کے منہ کھول دیئے ہیں۔۔۔ آج کل کچھ ایسے اینکرپرسنز اور تجزیہ کاروں کا لب ولہجہ بھی کچھ محتاط محتاط سا ` کچھ بدلا بدلا `کچھ بہکا بہکا سا اور کچھ مہبم مہبم اور غیر واضح سا ہے جو کچھ عرصہ قبل تک ڈنکے کی چوٹ پر عدلیہ اور فوج کی حمایت میں کھری کھری سچی سچی اور بے باک باتیں کررہے تھے۔۔۔

یہ بات تو کافی عرصے سے جاننے والوں کے علم میں ہے کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کی دسترس میں ایسے خزانے آچکے ہیں جن سے لوگ خواہ کتنے ہی بڑے پیمانے پر فیض کیوں نہ پالیں ان کے خالی ہونے کا کوئی امکا ن نہیں۔۔۔ ضروری نہیں کہ یہ خزانے نون لیگ کے ہی ہوں۔۔۔ حکومت بھی تو نون لیگ کی ہی ہے۔۔۔ پھر جو کچھ بھی حکومت کا ہے وہ نون لیگ کا کیوں نہیں ہوسکتا ؟
کچھ لوگ کُھل کر بکِتے ہیں۔۔۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔۔۔ سلمان غنی کو معلوم ہے کہ لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔۔۔حبیب اکرم کو معلوم ہے کہ لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔۔۔ میں یہاں کس کس کا نام لوں۔۔۔؟ کچھ نام ایسے ہیں جنہیں میں کئی دہائیوں سے محترم سمجھتا چلا آرہا ہوں۔۔۔ مگر کچھ لوگ جب دوسرے لوگوں کو دو دو کمروں کے گھروں سے بڑی بڑی کوٹھیوں میں منتقل ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے۔۔۔ پر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ایمان کو اتنے بڑے پیمانے پر ڈگمگانے نہیں دیتے جتنے بڑے پیمانے پر ایمان ڈگمگائے تو دنیا بھر میں شور مچ جاتا ہے۔۔۔ بھرم رکھنا بھی ایک آرٹ ہے۔۔۔ اور سمجھدار لوگ بہتی گنگا سے فیضیاب ہو کر بھی بھرم ضرور رکھ لیا کرتے ہیں۔۔۔
آج کل بحث یہ چل رہی ہے کہ اگر توہین عدالت کے جرم میں سزائیں دینے کا سلسلہ آگے بڑھا تو میاں صاحب کو اس کا بڑا سیاسی فائدہ ہوگا۔۔۔ اور یہ بات درست نہیں ہوگی۔۔۔
اس اندازِ فکر کو خود میاں صاحب کے کیمپ سے فروغ مل رہا ہے۔۔۔
میاں صاحب کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔ کہتے چلے جائیں۔۔۔ اور کہتے کہتے وہ اتنے بڑے ہیرو بن جائیں کہ عدلیہ کے پاس ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہے۔۔۔
لیکن یہ ایک گمرا ہ کن سوچ ہے جسے کچھ اینکر پرسن نامعلوم وجوہ کی بناءپر فروغ دے رہے ہیں۔۔۔
اب عدلیہ کو اپنا احترام کرانا ہوگا ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔۔۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top