برطانیہ میں غیر قانونی دولت رکھنا مشکل ہورہا !

zaheer-babar-logo

برطانیہ کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ وہ دنیا بھر میں غیر قانون جائیدادوں رکھنے کے حوالے سے معروف ہے۔ برطانوی سرزمین ایسے بہت سارے لوگوں کو پناہ فراہم کرتی ہے جو اپنے ملکوں میں متازعہ قرار پاتے ہیں ، دنیا کی قدیم ترین جمہوری مملکت میں ایسے بھی ہیں جن کی آمدنی ان کے رہن سہن سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے حضرات جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ غیر قانونی طریقہ سے پیسیہ بنانے میں ملوث ہیں۔ اس پس منظر میں برطانوی پارلمینٹ نے 31جنوری کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق غیر قانونی طریقہ سے برطانیہ میں لائے گے سرمایہ کے زریعہ جائیداد خریدنے کی تحقیقات کی جاسکے گی۔ ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر نامی قانون سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا جاسکتا ہے جو برطانوی سرزمین میں قیمتی جائیدادوں کے مطابق ہونے کے باوجود اپنے ذرائع آمدن بتانے سے قاصر ہونگے۔ برطانوی حکومت کے اس نئے قانون کا اہم پہلو یہ ہے کہ جائیدادوں کے بارے میں مطعمن کرنے کا بوجھ بھی جائیدادوں کے مالکان پر ہوگا۔
ادھر ٹرانسپریسی انڑ نشینل نے لندن میں پانچ ایسے محلات اور لکڑی کے اپارٹمنٹس کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جائز آمدنی سے نہیں بنائے گئے۔ ان پانچ جائیدادوں میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے لندن کے مہنگے ترین علاقے میں ایونفیلڈ اپارٹمنٹس بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والی ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے امید ظاہر کی ہے کہ اب برطانوی قانون نافذ کرنے والے ادارے اب غیر قانونی دولت سے خریدی گی جائیدادوں کی تحقیقات کرسکیں گے۔“
اہل پاکستان کے لیے نئے برطانوی قانون میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کو غیر قانونی طریقہ دولت جمع کرنے کے الزام میں ان کے عہدے سے برطرف کیا تو اب لندن میں بھی سابق وزیر اعظم کی مشکوک قیمتی جائیدادوں کی چھان بین شروع ہونے جارہی۔ ادھر میاں نوازشریف اپنی نااہلی کے فیصلے کو لے کر سپریم کورٹ کے خلاف جس طرح مورچہ زن ہے اس کے نتیجے میں عدالت عظمی کی ساکھ کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی۔ سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی طے شدہ حکمت عملی کے تحت عدالت عظمی کو متازعہ بنانے کی قابل افسوس کوشش میں ملوث ہیں۔ سینیٹر نہال ہاشمی کی توھین عدالت کیس میں سزا کے بعد سابق وزیر اعظم نہال اور دانیال کو بھی سزا دلوانے کے متمنی دیکھائی دیتے ہیں۔
پانامہ لیکس کسی پاکستانی ٹی وی چنیل یا اخبار کا انکشاف نہ تھا ، دنیا بھر کے مستند تحقیقی صحافیوں نے کئی مہینوں کی شب و روز محنت کے بعد دنیا کے طاقتور ترین افراد کی بدعنوانی کا ثبوت سامنے لانے میں کامیاب ہوئے۔ درست کہا جاتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے باسیوں کے لیے یہ سمجھنا بھی آسان نہیں کہ ان کی خدمت کا دعوی کرنے والے بعض افسران ،سیاست دان اور مذہبی شخصیات ان کو دھوکہ دینے کے بدترین فعل میں ملوث ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی ، پی ٹی آئی کے سربراہ پاکستان کے وہ واحد سیاست دان قرار دئیے جاسکتے ہیں
جنھوں نے پانامہ لیکس کو عام شہری کے دل ودماغ سے محو نہ ہونے دیا۔ عمران خان نے ایک طرف سیاسی طور پر اس معاملے کو زندہ رکھا تو دوسری جانب پارلمینٹ سمیت ہر فورم پر پانامہ لیکس کو اٹھایا۔ اسے اہل وطن کی بدقسمتی ہی کہنا چاہے کہ سابق وزیر اعظم اپنا جرم تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ خبیر تا کراچی وہ میاں نوازشریف ہر آن یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں کہ وہ معصوم اور بے قصور ہیں ۔
ایک سوال یہ ہے کہ آخر برطانیہ کو کیا ضرورت پیش آگی کہ وہ اپنے ہاں کروڈوں نہیںکھربوں پاونڈ کی جائیدادوں کی چھان بین کے لیے میدان عمل میں نکل آئے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ برطانیہ میں غیر قانونی انداز میں دولت اکھٹی کرنے والوں کے بازپرس خود برطانیہ کے لیے سومند ثابت ہوسکتا ہے، مثلا برطانیہ دنیا بھر میں یہ ثابت کرسکتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں کرپشن کے خلاف ہے یعنی اس نے اپنی سرزمین پر رہنے والے ان امیر ترین لوگوں سے باز پرس کرڈالی جو سمجھتے تھے کہ اس حوالے سے برطانوی حکام کوئی باز پرس نہیں کرنے والے۔
ٹھیک کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ حسنی مبارک ہوں یا صدام حیسن کسی کی بھی دولت اسے اس انجام سے نہیں بچاسکی جو اپنے دیس سے بے وفائی کرنے والوں کے لیے چلا آرہا۔ مسلم اشرافیہ کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ اس کی بقا وسلامتی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ہاں تعلیم کو فروغ دیں، عصر حاضر کے جدید علوم پر دسترسی حاصل کرکے ایسا نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ناانصافی کا فوری اور ہنگامی بنیادوںپر فیصلہ ہوجائے۔ اب امید کرنی چاہے کہ برطانیہ کے بعد دیگر مغربی ممالک بھی ترقی پذیر ملکوں کے ان طاقتور افراد کو احتساب کے لیے ایسے قوانین کے نفاذ پر مجبو ر ہوجائیں گے جو ان کے ہاںمختلف شکوں میں آموجود ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی زمہ داری ہے کہ وہ برطانیہ میں آنے والی تبدیلیوں کا گہری میں جائزہ لیں تاکہ مسقبل قریب میں اس کے مضر اثرات سے بچا جاسکے۔

Scroll To Top