کہیں نہ کہیں وہ تلوار ضرور ہوگی جوابوجہل کا سرکاٹے گی 20-11-2009

”وطن عزیز کی سلامتی یکجہتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔“
آرمی چیف جنرل کیانی کے یہ الفاظ بروقت فضاﺅں میں گونجے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ کے مشکل ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک طرف ایک مستقل جنونی ہمسایہ ہماری سلامتی کے لئے خطرہ بنایا ہوا تو دوسری طرف اندرون ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ذریعے ریاست کی بنیادیں ہلانے کی سازش پر عملدرآمد ہورہا ہے۔
جنرل کیانی کے الفاظ میں پنہاں آہنی عزم وارادے میں ملک کے سترہ کروڑ عوام اپنے احساس کی تمام تر شدتوں اور اپنے جذبوں کی تمام تر صداقتوں کے ساتھ شریک ہیں۔
لیکن پاکستان کی سا لمیت اور اس کے مستقبل کو خطرہ صرف ایسے دشمنوں سے نہیں جن کی نشاندہی آسانی سے ہوسکتی ہے اور خود جنرل کیانی نے کردی ہے۔
میرے خیال میں زیادہ خطرناک دشمن وہ ہوتا ہے جو ہماری صفوں میں رہ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں لگا رہتا ہے۔
میں اس دشمن کی شناخت کسی فرد یا افراد کے کسی گروہ کی طرف سے اشارہ کرکے نہیں کروں گا۔ میں اس دشمن کی نشاندہی کرنے کے لئے اس سوچ کا ذکر کروں گا جو ” اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کا نام تبدیل کرکے ” َعوامی جمہوریہ پاکستان “ رکھوانا چاہتی ہے۔ میں اس سوچ کے علمبرداروں کا نام نہیںلوں گا ` آپ اگر اخبارات پڑھتے ہیں اور ٹی وی کے چینل دیکھتے ہیں تو آپ کی نظروں کے سامنے سے خود بخود وہ تمام چہرے گھوم جائیں گے جنہیں ” اسلام “ کا نام کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ لوگ جمہوریت کی چھری سے پاکستان کا حقیقی تشخص ذبح کرناچاہتے ہیں۔ قائداعظم ؒ نےکہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ جولوگ اس شہ رگ کو بھارت کی چھری تلے رکھناچاہتے ہیں وہی لوگ پاکستان کا رشتہ اسلام سے توڑنے کی ایک خوفناک سازش کے کردار ہیں۔ اسلام اس دل کا نام ہے جو پاکستان کے قالب میں دھڑکتا ہے۔ اسلام اس دماغ کا نام ہے جو کام بند کردے تو باقی جسم کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
آنے والی تاریخ یقینا یہ فیصلہ سنائے گی کہ ” اسلامی دہشت گردی کا عفریت“ واشنگٹن کی کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا اور اسے اسلامی دنیا کا ناسور بنانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے گئے۔
اور مجھے یقین ہے کہ آنے والی تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ مغرب کو اپنی اس مذموم سازش میں بری طرح ناکام ہوا۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور غیر حکومتی ادارے جن پر واشنگٹن کروڑوں اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے ¾ ایسی قبروں میں دفن کردیئے جائیں گے جن کے نشان بھی نہیں ملیں گے۔
میں اپنا شمار ان جنوینوں میں کرتا ہوںجو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ صدی مسلم نشاة ثانیہ کی صدی ہوگی ` اور پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے پیدا کیا وہ ضرور پورا ہوگا۔
لوگ کہتے ہیں کہ پسماندہ عالم اسلام اور پسماندہ پاکستان کیسے طاقت کی ان چٹانوں سے ٹکرائے گا جن کے ہاتھ میں دنیا کا مقدر ہے۔
انہیں تاریخ پڑھنی چاہئے۔
622کی دنیا میں حجاز کی حیثیت ویسی ہی تھی جیسی آج کی دنیا میں وزیرستان کی ہے۔ پوری دنیا دو سپر پاورز کے درمیان بٹی ہوئی تھی۔
642میں حجاز سے اٹھنے والی آندھی قیصر و کسریٰ کوخس و خاشاک کی طرح بہالے جاچکی تھی۔
اگر 622کی کسی رات کوئی شخص سوتا اور بیس سال کی نیند کے بعد بیدار ہوتا تو وہ جو کچھ دیکھتا اس پر یقین کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہوتا۔
اگر قدرت کو مسلمانوں کی نشاة ثانیہ مقصود نہ ہوتی تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔
محمد علی جناح ؒ ایک معجزے کی پیداوار تھے۔قیام پاکستان کو بھی ایک معجزے نے ہی جنم دیا۔
اور معجزوں کے دروازے قدرت کبھی بند نہیں کرتی ۔
بس ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم امید کے چراغ بجھنے نہ دیں۔ کہیں نہ کہیں وہ تلوار ضرور ہوگی جو ابوجہل کا سر کاٹے گی۔۔۔

Scroll To Top