پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ اے رب العزت ہمارے اعلیٰ ترین ججوں کی رہنمائی اِس انداز میں کر کہ کروڑوں عوام کے سینوں میں امید کے چراغ پھر جل اٹھیں۔۔۔

فارسی کے مشہور شاعر عرفی کے ایک معروف شعر کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
” جب آسمان سے کوئی آفت زمین کی طرف سفر شروع کرتی ہے تو سب سے پہلے اسے میرا گھرملتا ہے۔۔۔“
میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آسمان سے زمین کی طرف سفر کرنے والی آفات کی پسندیدہ منزل وطنِ عزیز ہے کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ دنیا میں درجنوں ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ہمارے ملک سے بھی زیادہ ” بداعمال حکمرانیاں“ پائی جاتی ہیں۔ عرف عام میں ایسی حکمرانیوں کوBanana Republicsکہاجاتاہے۔
اگر پاکستان میں اس قدر مثالی انداز میں تشکیل کیا گیا مثالی عسکری سٹرکچر نہ ہوتا ` اور ہماری عدلیہ میں ایسے جج نہ ہوتے جو آس پاس کی متعفن فضا سے بے نیاز ہو کر اپنے فرائض حتی الامکان مستحسن انداز میں انجام دیتے ہیں تو جس قسم کے لوگ ہمارے حکومتی ڈھانچے اور سیاسی کلچر میں پائے جاتے ہیں ان کے پیش نظر ہم اپنی مملکت ِ خداداد کو بھی Banana Republicقرار دے سکتے تھے۔ مگر کیا Banana Republicکی اصطلاح سے اُس کرپشن اور نااہل حکمرانی کا نقشہ دیانت داری سے کھنچ جاتا ہے جس نے ہماری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو گزشتہ دنوں یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ” یہاں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے۔ اور عوام کو چاہئے کہ اپنے حکمران منتخب کرتے وقت احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دیں۔۔۔“؟
بات سپریم کورٹ اور اس کے چیف جسٹس تک پہنچی ہے تو میں اپنی آج کی بات اس دعا کے ساتھ ختم کرنا چاہتا ہوںکہ” اے رب العزت ہمارے قابل احترام منصفِ اعلیٰ کو توفیق عطا کر کہ وہ اِس بدنصیب قوم کے مقدر میں لکھی گئی آفتوں کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار بن سکیں۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کا کام قانون کے مطابق فیصلے کرناہے انصاف ڈلیور کرنا نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس کا نام عدلیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ ۔۔ عدلیہ کا مطلب تو عدل فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔۔۔ اے رب العزت ہمارے پیارے پاکستان کے اعلیٰ ترین ججوں کی رہنمائی اِس انداز میں کر کہ اس کے کروڑوں باسیوں کے سینوں میں امید کے چراغ پھر جل اٹھیں۔۔۔“
آپ جانتے ہیں کہ میں یہ دعا کیوں کررہا ہوں۔۔۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم مقدمہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے۔۔۔ اورمقدمے کی کارروائی شروع بھی ہوچکی ہے۔۔۔

Scroll To Top