اگر امریکہ کا چیف جسٹس اپنے دفتر میں ری پبلکن پارٹی کی ڈیسک قائم کرلے۔۔۔؟ 20-11-2012

وفاقی وزیر اطلاعات جناب قمر الزمان کائرہ نے ایک بار پھر بڑے پُر جوش انداز اور پُر زور الفاظ میں اپنی پارٹی کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ صدر مملکت کا عہدہ چونکہ ایک سیاسی عمل کے نتیجے میں پُر ہوتا ہے اس لئے صدر کا غیر سیاسی ہونا ایک سیاسی نظام میں ممکن ہی نہیں۔

بظاہر بات میں بڑا وزن ہے ۔ یوں بھی پی پی پی کی ٹیم میں جناب قمر الزمان کائرہ غالباً واحد شخصیت ہیں جو کسی بھی موقف کے حق میں مضبوط دلائل سامنے لانے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی ان کے فرائض منصبی کا تقاضہ بھی ہے۔
لیکن ضروری نہیں کہ جو بات ظاہری طور پر وزن دار نظر آئے وہ حقیقت میں بھی وزن رکھتی ہو۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک کا ہر بڑا عہدہ کسی نہ کسی سیاسی عمل اور سیاسی فیصلے کے نتیجے میں پُر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے آرمی چیف اور چیف جسٹس کو بھی غیر سیاسی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے دوسرے کئی عہدے بھی ہیںجو سیاسی نہیں ہونے چاہئیں لیکن سیاسی عمل کے نتیجے میں پُر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نیب کا چیئرمین ۔ یا پھر اٹارنی جنرل۔ ایسے کسی بھی عہدے کے ساتھ اگر سیاسی وفاداریاں منسلک کردی جائیں تو پھر اُن کا اخلاقی جواز نہیں رہتا۔
یہ درست ہے کہ ملک میں کوئی بھی باشعور شخص نہیں ہوگا جو کوئی مخصوص سیاسی رحجان نہ رکھتا ہو۔ امریکہ کو دیکھیں تو وہاں کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رابرٹس ایک رجسٹرڈری پبلکن ہیں۔ اُن کی تقرری بھی سابق صدر بش نے کی تھی۔ لیکن کیا انہیں ری پبلکن پارٹی کا چیف جسٹس سمجھنا درست ہوگا۔؟
صدر کا عہدہ بھی پارلیمانی نظام میں ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے۔پارلیمنٹ صدر کا انتخاب ضرور کرتی ہے مگرصدر بننے کے بعد آدمی کو اپنی سیاسی وابستگی سے رشتہ توڑنا پڑتا ہے۔ اگر امریکہ کے چیف جسٹس رابرٹس اپنی سپریم کورٹ کی عمارت میں ری پبلکن پارٹی کا سب آفس کھول لیں تو امریکی سیاست میں زلزلہ آجائے گا۔
صدر صرف صدارتی نظام میں ” سیاسی “ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں صدر پورے ملک ‘پوری ریاست اور ان کے تمام عوام کی امنگوں کا امین سمجھا جاتا ہے ’ خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔۔۔

kal-ki-baat

Scroll To Top