اِس لحاظ سے ہم آج کے پاکستان کو خوش قسمت سمجھ سکتے ہیں کہ جو غدار اس پر اپنا وار کر رہے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو چُھپا نہیں رکھا

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وطنِ عزیز میں دو ادارے آج بھی اس قدر مضبوط اور فعال ہیں اور ان کی قیادت آج بھی اس قدر ذمہ دار اور طاقتور ہاتھوں میں ہے کہ اس کے دشمن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میری مراد اُس عدلیہ سے ہے جو بڑے عزم اور بڑی ہمت کے ساتھ ملک کی ان طاغوتی طاقتوں سے نبرد آزما ہے جنہوںنے کئی دہائیوں سے اپنے پنجے اس کے وجود میں گاڑ رکھے ہیں۔ اور میری مراد اُس فوج سے بھی ہے جو شب و روز اس ملک کی آزادی قائم رکھنے اور اس کے دشمنوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے اپنے جوانوں کی جانوں کی قربانی دے رہی ہے۔
مگر اس ملک کو بڑا خطرہ اب اس کے باہر کے دشمنوں سے نہیں اس کے اندر کے دشمنوں سے ہے۔
تاریخ میں اندر کے دشمنوں کو ہمیشہ غداروں کا نام دیا گیا ہے۔ اور قوموں کی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنے غداروں کی پہچان تب ہوا کرتی ہے جب وہ اپنا وار کرچکے ہوتے ہیں۔
اِس لحاظ سے ہم آج کے پاکستان کو خوش قسمت سمجھ سکتے ہیں کہ جو غدار اس پر اپنا وار کر رہے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو چُھپا نہیں رکھا۔ ہم ان کے چہرے صاف دیکھ رہے ہیں۔ ہم ان کی آوازیں صاف سن رہے ہیں۔
وہ واشگاف انداز اور الفاظ میں قوم کو ملک کے اُن اداروں کے خلاف ورغلا رہے ہیں جن کا وجود ہی اس ملک کی حقیقی طاقت ہے۔
آج کے دور کے ان غداروں کو اپنے مکروہ عزائم سے روکنے کے لئے کون آگے بڑھے گا۔ کون آگے بڑھ کر ان سے کہے گا۔
Enough is enough?
عام حالات میں شاید یہ ملک ان کی غدارانہ سرگرمیوں کا متحمل ہو جاتا۔ مگر حالات عام نہیں ہیں۔ ملک میں جو حکومت قائم ہے اس کے تمام کل پرزے ہدایات اوررہنمائی اِن غداروں سے حاصل کررہے ہیں۔
اگر ان غداروں کی سرگرمیوں سے ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری سے وہ ادارہ اپنے آپ کو مبرا قرار نہیں دے سکے گا جس کے کندھوں پر اللہ تعالیٰ نے اس ملک کی سالمیت اور آزادی کے تحفظ کا بوجھ ڈال رکھا ہے۔

aj ni gal new logo

Scroll To Top