تحریک آزادی کی حمایت کرنا آسان نہیں رہا !

zaheer-babar-logo
پانچ فروری کو اہل پاکستان کو یوم یکجتی کشمیر منانا اس عزم کا اظہار ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر واستبدار کے سامنے ڈٹ جانے والوں آج نہیں تو کل ضرور کامیاب ہونگے۔ تقسیم ہند سے کے کر اب تک تحریک آزادی کشمیر جس عزم وہمت سے جاری ہے وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔نہتے کشمیریوں اور بھارت کی ریاستی طاقت کے درمیان اعصاب شکن جنگ کئی دہائیوں سے لڑی جارہی جس میں لامحالہ طور پر مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام پس رہے۔
نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر حالات جس تیزی سے بدلے اس کے نتیجہ میں بڑی حد تک تحریک آزادی کشمیر متاثر ہوئی۔ امریکہ حکام نے فیصلہ دیا کہ ورلڈ ٹریڈ سنیڑ کو تباہ وبرباد کرنے والے سب ہی مسلمان تھے۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست نے اس دہشت گرد کاروائی کا زمہ دار القائدہ کو قرار دے دیا جس نے بھی ”زمہ داری “قبول کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہ کیا۔ نائن الیون کے بعد دنیا کے نمایاں صحافتی حلقوں نے یہ پیشن گوئی کرنے میں دیر نہ کی اب کراہ ارض کی سیاست بدل جائیگی۔ ان دنوں کابل میں ملاعمر کی حکومت تھی۔ امریکہ بہادر نے پاکستان پر بھرپور دباو ڈالتے ہوئے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کردیں مگر خدشات کے عین مطابق ملا عمر نے امریکی احکامات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے انکار کردیا جس کے بعد انکل سام کو امریکہ کو افغانستان پر حملے کا جواز مل گیا۔ ادھر افغان طالبان امریکہ کی جدید عسکری قوت کا زیادہ دیر مقابلے نہ کرسکے اور انھوں نے کابل خالی کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اس دوران ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کا ہر جائز وناجائز حکم تسلیم کیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوا۔ دس سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود امریکہ کو افغانستان میں مکمل کامیابی نہیں مل سکی۔ آج بدلی ہوئی صورت حال س سے بھی بھارت نے پوری طرح فائدہ اٹھایا اور تحریک آزادی کو نئے جوش وخروش سے دہشت گردی کہنا شروع کردیا۔ ان دنوں مقبوضہ وادی میں مسلح جدوجہد کو عارضی طور پر روک دیا گیا جس کے اہل کشمیر کو کچھ نقصانات اور کچھ فوائد حاصل ہوئے۔
بلاشبہ نائن الیون کے بعد اقوام عالم ہر مسلح جدوجہد کے خلاف ہوگی، بالخصوص وہ اہل توحید کی جانب سے ایسے کسی بھی تحریک کو جائز قرار دینے پر آمادہ نہ تھی جس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مسلمان شامل ہوں۔ اب فلسطین اور کشمیر کے مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں اس کی بینادی وجہ ایک خدا ایک رسول ﷺ اور ایک قرآن کو ماننا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراہ ارض پر درجنوں مسلمان ملکوں کی موجودگی کے باوجوہ اہل توحید انواع اقسام کے مسائل کا شکار ہیں۔
مسلہ کشمیر پر عالمی برداری کی بے حسی اور لاتعلقی کی ایک اور وجہ بھارت کا بڑی معاشی منڈی ہونا بھی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ مودی سرکار کو سعودی عرب اور ایران سمیت یواے آئی میں بھی خاصی پذرائی ملی۔ گجرات میں مسلمانوںکے منعظم قتل عام کرنے والے بھارتی وزیر اعظم کی اہم اسلامی ملکوں میں مقبولیت ان تلخ زمینی حقائق ثبوت ہے جس کا سامنا کیے بغیر گزارہ نہیں۔
حالیہ دنوں میں جو کچھ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہوا وہ مسلمانوں کی اس اخلاقی پستی کا منہ بولتا ایک اور ثبوت ہے۔ اہل اسلام قرآن وسنت سے دور ہیں۔ خدا کی آخری کتاب میں جو احکامات دیے گے ہیں ان میں سے شائد ہی کسی پر عمل درآمد کیا جارہا ہو چنانچہ مذہبی اور مسلمہ اخلاقی تقاضوں پر عمل درآمد نہ کیے جانے کے باوجود یہ امید رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمان اقوام عالم میں سرخرو ہونگے۔
تسلیم کہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی مثالی نہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے ہمارے درجنوں نہیں سفارتخانوں میں سے اکادکا ہی کہیں کشمیریوں کو ان کا حق دینے کے حوالے سے آواز اٹھتی ہے مگر سچ یہ بھی ہے کہ پاکستان ہی ہے جو دنیا بھر میں مقبوضہ وادی میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلندکررہا ، شائد یہی وجہ ہے کہ ماضی سے کہیں بڑھ کر مقبوضہ وادی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔
کراہ ارض کی سیاست بدل رہی ۔ عالمی حالات پر نگاہ رکھنے والے حلقوں کے خیال میں طاقت کا توازن جنوبی ایشیاءکی جانب جھک چکا ، حال ہی میں اعلی امریکہ عہدیدار نے برملا اس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی نہیں اب چین اور روس ان کا ہدف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بدلی ہوئی حالات میں پاکستان کس حد تک مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی داد رسی کرسکے گا۔بظاہر اس میں شک نہیں کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں جوں جوں تناو بڑھے گا اس کے نتیجہ میں پاکستان پر دباو محسوس ہوگا، اب بھی صورت حال یہی ہے کہ ایک طرف امریکہ بہادر کا مطالبہ ہے کہ اس کا پرانا اتحادی سی پیک سمیت چین سے قربت سے اجتباب کرے جبکہ دوسری جانب پاکستان سمجھ رہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے زریعہ وہ مشکلات پر بجا طور پر قابو پاسکتا ہے۔ درپیش حالات میں تنازعہ کشمیر کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھنا یقینا آسان نہ ہوگا ۔ امریکہ بھارت کے تیزی سے قریب آرہا جس کی بنیادی وجہ چین کے خلاف نئی دہلی کو تیار کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے۔

Scroll To Top