میاں شہباز شریف کے لئے میری دُعا ہے 17-11-2012

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار گزشتہ دنوں پاکستان کے سیاستدانوں اور میڈیا دونوں کی آنکھ کا تارہ بنے رہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ” برُی حکمرانی “ سے لوگ کس قدر متنفر اور ” اچھی حکمرانی “ کے کس قدر متمنی ہیں۔ برُی حکمرانی کی پہچان صرف کرپشن نہیں نالائقی اور نا اہلی بھی ہے۔ پاکستان کے وزرائے اعلیٰ میں میاں شہبازشریف بلاشبہ لیاقت اور اہلیت کے لحاظ سے دوسروں پر سبقت رکھتے ہیں۔ کرپشن کا ذکر میں اس حوالے سے اس لئے نہیں کروں گا کہ جو بھی حکومت قائم ہوتے ہی بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کرتی ہے میرے لئے اسے کرپشن سے پاک سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مثال میں یہاں پی پی پی کی دوں گا۔ آئی پی پی کا ملٹی بلین ڈالر پراجیکٹ بھی پی پی پی کا کارنامہ تھا اور آر پی پی )رینٹل پاور پراجیکٹ(بھی پی پی پی کے نامہ اعمال کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے ٹھیکے ایسے تھے اور خریداریاں اس قسم کی تھیں جن میں اربوں کی رقم اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہوتی رہی۔
پی ایم ایل این کو پرکھا جائے تو ییلو کیب اور موٹر وے کے منصوبوں کے بعد موجودہ دور کی سستی روٹی اور مفت لیپ ٹاپ کے منصوبوں کی طرف دھیان جاتا ہے۔ اور دھیان یہاں نہیں رکتا۔ آگے بڑھ کر میٹرو بس پراجیکٹ کی طرف بھی جاتا ہے جو لاہور میں زیر تکمیل ہے۔ کھربوں کے ان منصوبوں کو جو فوقیت ملی اس سے ان شکوک و شبہات کا ابھرنا فطری سی بات ہے کہ اربوں کی کمیشن نے مختلف جیبوں کا سفر ضرور کیا ہوگا۔
لیکن کرپشن ایک ایسا الزام ہے جو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ صرف اس کے منطقی شواہد موجود ہوتے ہیں جنہیں مسترد کرنا یا ” پائے تمسخر “ سے ٹھکرانا مشکل نہیں ہوتا۔
چنانچہ ہمیں میاں شہبازشریف کی فضیلت مان لینی چاہئے۔ شاید اُن کے اِس حالیہ ارشاد میں منشائے الٰہی ہو کہ وہ اسلامی سوشلزم سے رغبت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں سب کچھ ہے۔ وہ چاہے تو جیسے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے اندر اس نے ” روح محمدی “ پھونک دی تھی ویسے میاں شہبازشریف کے اندر بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کی روح پھونک سکتا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ نے تو اقتدار سنبھالتے ہی اپنی اور اپنے پورے خاندان کی املاک سرکاری خزانے میں جمع کرا دی تھیں ¾ میاں شہبازشریف یہ نیک کام شاید اب کر گزریں۔ شاید اُن کی نظروں سے ابن خلدون کی یہ بات گزر گئی ہو کہ ایک اسلامی مملکت میں حکمران کا تاجر ہونا معاشرے کے لئے زہر قاتل ہوتا ہے۔ یا پھر شاید انہوں نے حضرت عمر فاروق ؓ کا وہ خط پڑھ لیا ہو جو اانہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمر و العاص کو لکھا تھا اور جس میں انہوں نے کہا تھا ۔ ” عاص کے بیٹے میرا دل نہیں مانتا کہ ایک منصفانہ معاشرے میں کوئی بھی شخص اتنی دولت رکھ سکتا ہے جتنی تم نے جمع کرلی ہے۔“
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں شہبازشریف کو حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے تاکہ معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی سوشلزم کی برکات سے فیضیاب ہوسکے !

kal-ki-baat

Scroll To Top