5فروری۔ کشمیریوں کیساتھ یک جہتی کے اظہار کا دن

  • زین العابدین

یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ ہرسال جب 14اگست کا دن آتا ہے تو مقبوضہ جموں و کشمیر سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتا ہے اور کشمیری پاکستان کےساتھ اپنی دلی وابستگی ، عقیدت اور محبت کا کھل کر اعلان اور اظہار کرتے ہےں اور دنیا اور خاص طور پر بھارت کو یہ پےغام دےتے ہےں کہ پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان ان کےلئے کتنی اہمیت کے حامل ہےں۔ کشمیریوں کی پاکستان کےساتھ اس انداز کی وابستگی کے جواب مےںانہیںبھارتی قابض افواج کیجانب سے بدترین ظلم و ستم اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس اےک دن پر ہی موقوف نہیں، کشمیری ہر اس دن کو نہاےت جوش و جذبے اور خوشی کےساتھ مناتے ہےں جو پاکستان کےلئے کوئی تاریخی اہمیت رکھتاہے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے توکشمیری عوام اسکی آزادی کے دن کےساتھ ساتھ ہر اہم اور بڑے دن کو” ےومِ سیاہ” سے تعبیر کرتے ہےںاور بھارت سے اپنی لاتعلقی اور اسکے ظالمانہ اور غےرجمہوری طرزِ عمل سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہےں۔ وادی مےں بھارت مخالف مظاہروں مےں کشمیری بھارتی قابض افواج اوربھارت کے ہاتھوں مےں آلہ¿ کار بننے والی کشمیرکی کٹھ پتلی حکومت کےخلاف نعرے لگاتے ہےں۔ کشمیری نوجوان ، عورتےں اور بچے بھارتی قابض افواج پر پتھراو¿ کرکے انہیں یہ ےاددہانی کرواتے ہےں کہ انکی حےثیت اےک قابض اور غاصب قوت کے سوا کچھ نہیں اور کشمیریوں کےلئے انکی وادی مےں موجودگی ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابےن ہونےوالے کھےل کے مقابلوں کو بھی اسی تناظر مےں دےکھےں تو پاکستان کی ہر جےت کا جشن سرینگر کی سڑکوں پر مناےا جاتا ہے جس پر بھارت بھر مےں کشمیریوں اور خاص طور پر کشمیری نوجوان طلباءکو پرتشدد کارروائیاں برداشت کرنا پڑتی ہےں۔ اس سلسلے مےں بھارت کی کئی ےونیورسٹیوں مےں کشمیری طلباءکو زد و کوب کا نشانہ بناےا گےاہے اور انہیں مختلف طریقوں سے خوفزدہ اور ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

5جنوری 1949 کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد مےں کشمیریوں کو یہ حق دیا گےا تھا کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فےصلہ خود کرسکتے ہےں لےکن اس پر دستخط کرنے کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کو اپنے پےدائشی حق سے محروم کر رکھا ہے۔ بھارتی افواج کی بھاری تعداد کی مقبوضہ وادی مےں موجودگی کے علاوہ وہاں نافذ العمل کالے قوانین بھی یہی ظاہر کرتے ہےں کہ کشمیر پر بھارت نے زبردستی قبضہ کررکھا ہے۔Armed Forces Special Powers Act (AFSPA) جےسے کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں پر ریاستی دہشتگردی کا بازار گرم کردیا گےا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کا جعلی پولیس مقابلوںمےںماورائے عدالت قتل اور زےرِ حراست تشددکا نشانہ بنا کر انہیں جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر معذور بنانا روزکا معمول بن چکا ہے۔ صرف جولائی 2016مےں برہان وانی کی شہادت سے لےکر آج تک سےنکڑوں کشمیری نوجوانوں کو پےلٹ گن کے فائر سے اندھا بنا دیا گےا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت کےخلاف آزادی کی تحریک چلانے والے حریت پسندوں کےخلاف جعلی مقدماتقائم کرکے گرفتار کیا جارہا ہے اورانکے گھر کے دیگر افراد اور قریبی رشتہ داروں کو بھی ہراساں کرنےکی کوششےں کی جارہی ہےں۔ اس سلسلے مےں بھارت کی مےشنل انوےسٹی گےشن اتھارٹی (NIA) سرگرم ہے۔ بھارتی قابض افواج کے اسی ظلم و ستم پر مبنی طرزِ عمل نے کشمیری نوجوانوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ کشمیرکی آزادی کی تحریک کا متحرک اور فعال حصہ بن جائےںا ور اپنی حریت کی اس تحریک کو آگے بڑھائےں جسے بھارت “بےرونی مداخلت “اور” سرحد پار دہشتگردی” کا نام دےکر مسترد کرتا آےا ہے۔
بھارتی انتہا پسندتنظیموں اور جموعتوں نے بھی مقبوضہ کشمیر کی اس صورتِ حال مےںحالات کو مزید بگاڑنے مےں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کشمیر مےں صدیوں سے قائم باہمی بھائی چارے، تحمل و برداشت اورمذہبی رواداری و ہم آہنگی کی فضا کو ہندو انتہا پسندی کی بھےنٹ چڑھاےا جارہا ہے اور کشمیریوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششےں کی جارہی ہےں۔ کشمیر کے ہندو پنڈتوں کے مسئلے کو ابھارا جارہا ہے اور وادی مےں انکی الگ کالونیوں کے قیام کے منصوبے بنائے جارہے ہےں جس کےخلاف کشمیریوں نے اپنی صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ بھارت مسلسل ان کاوشوں مےں لگا ہواہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے وادی مےں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جائے اور مسلم اکثریت کو اقلےت مےں تبدیل کردیا جائے، غےر کشمیری ہندوو¿ں کی وادی مےں آبادکاری اسی سلسلے کی کڑی ہے اور تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے انہیں مستقل رہائش کےلئے ڈومیسائل سرٹےفکےٹ جاری کئے جارہے ہےں۔ بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 اور35(A)کو منسوخ کرنے کےلئے اےڑی چوٹی کا زور لگاےا جارہا ہے تاکہ بھارتی آئین مےں کشمیر اور کشمیریوں کو دی جانےوالی خصوصی حےثیت کو ختم کیا جا سکے ۔ کشمیری بھارت کے ان تمام مذموم منصوبوں کےخلاف اپنا احتجاج درج کروا رہے ہےں اور پاکستان کشمیریوں کی اس آزادی کی تحریک کی پرزور حماےت کرتا ہے ۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ کشمیری جغرافیائی، تہذیبی و ثقافتی، تجارتی و کاروباری اور سب سے بڑھ کر نظرےاتی و مذہبی اعتبار سے ان علاقوں اور ان مےں بسنے والے لوگوں سے بہت قریب رہے ہےں جو آج پاکستان کا حصہ ہےں۔ کشمیری پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کےساتھ اپنے اس اٹوٹ رشتے کے اظہار کےلئے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دے رہے ہےں اور بھارت کے اس جھوٹے دعوے کی قلعی کھول رہے ہےں کہ کشمیر بھارت کا “اٹوٹ انگ” ہے۔ کشمیری بھارتی قبضے سے آزادی کے خواہاں ہےں اور پاکستان بھی کشمیریوں کے اس دےرینہ اور جائز مطالبے کا حامی رہا ہے ۔ پاکستان کا مو¿قف ہمےشہ یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فےصلے کا اختیار ہونا چاہیے جےسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کسی آزاد ادارے کے زےرِ نگرانی استصوابِ رائے کرنا۔ پاکستان ہر سطح اور پلےٹ فارم پر کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور پےدائشی حق دےنے پر زور دےتا آےا ہے اور ہرسال 5فروری کے دن کو کشمیریوں کےساتھ “ےومِ ےک جہتی” کے طور پر مناتا ہے اور کشمیریوں سے اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل ہو جانے تک اسکی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حماےت جاری رکھے گا ۔پاکستان کشمیر کے مسئلے کے پر امن اور قابلِ قبول حل کی حماےت کرتا ہے اور کشمیریوں کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دےکھتا ہے جو انہوں نے اپنی آزادی کے حصول کی راہ مےں دی ہےں۔

Scroll To Top