کلبھوشن معاملہ پر خاموشی اختیار کرنیوالے نواز شریف نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا، ڈاکٹر طاہر القادری

  • عالمی برادری کشمیری عوام کی امن پسندی کو موقع غنیمت سمجھے‘کشمیری عوام سے استصواب رائے کا جو وعدہ کیا گیا 70سال کے بعد بھی پورا نہیں ہوا، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بیان

لاہور:سہ روزہ دورہ علوم الحدیث کے دوسرے روزعلامہ طاہر القادری دوسری نشست سے خطاب کر رہے ہیں

لاہور(اےن اےن آئی )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ کشمیر کے جری ،قانون و امن پسند عوام نے استصواب رائے کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حق کے حصول کیلئے بے مثال قربانیاں دیں دنیا ان قربانیوں کا احترام کرے اورمسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔کشمیر کو ’نو ملٹری زون‘ بنایا جائے،سویلین آبادی کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ہیومن رائٹس کی بین الاقوامی آرگنائزیشنز کو آمدورفت کی اجازت دی جائے ،انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ بالخصوص امریکہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی قومی وبین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی تیسری نسل پرامن طریقے سے استصواب رائے کا حق مانگ رہی ہے دنیا اس امن پسندی کو موقع غنیمت سمجھے اور کشمیری عوام کو ان کا حق لوٹائے، انہوں نے کہا کہ 1 لاکھ سے زائد کشمیری جانوں کے نذرانے دے چکے، اس سے دو گنا زیادہ شہری زخمی واپاہج ہوئے جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان سبھی شامل ہیں۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام 70سال کے بعد بھی استصواب رائے کے حق کیلئے عالمی برادری کے وعدوں پر عملدرآمد کی منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج استصواب رائے کے حق کی جدوجہد کی باگ ڈورکشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جس مقصد کے حصول کی جدوجہد کی قیادت نوجوان کررہے ہوں اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ نواز حکومت نے بوجوہ مسئلہ کشمیر پرمصلحت سے کام لیا، مسئلہ کشمیر کو قومی خبر نامے اور سفارتی مہمات سے آﺅٹ کروایا اور اسے چند خاص مواقع پر روایتی بیانات تک محدود کر دیا ،انہوں نے کہا کہ افسوس پارلیمنٹ نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے کی نذر کرنے کے معاملہ پر نواز حکومت کی کبھی باز پرس نہیں کی، انہوں نے کہا کلبھوشن کے معاملہ پر خاموشی اختیار کرنے والے نواز شریف نے کشمیرکاز کو نقصان پہنچایاجو نام نہاد وزیراعظم قومی سلامتی کے خلاف نیٹ ورک چلانے والے شخص کا نام لے کر مذمت نہ کر سکے اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی سنجیدہ کردار ادا کرے گا تلوار سے زخم بھرنے جیسی امید لگانے کے مترادف رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ استصواب رائے کے حق کیلئے برسرپیکار بزرگ کشمیری قیادت اور نوجوان ایک پیج پر ہیں، خطہ میں امن کی خواہشمند طاقتیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروائیں،خطے کا پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

Scroll To Top