میاں صاحب آپ خود اپنی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں !

یہ شخص کس قدر بے شرم ہے کہ اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے ۔۔۔ کہہ رہا ہے کہ مجھے صرف اِس بناءپر وزارت عظمیٰ سے الگ کردیا گیا کہ میں نے اپنے بیٹے سے ”فرضی “ تنخواہ نہیں لی۔۔۔ ”بھلا کون سا غیر تمند آدمی اپنے بیٹے سے تنخواہ لیتا ہے ؟“

میا ں نوازشریف کا یہ بیانیہ اتنی مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ سننے والوں کے کان پک گئے ہوں گے ۔۔۔ ظاہر ہے کہ جہاں جہاں میاں صاحب اپنی معصومیت کے ثبوت میں یہ بیانیہ دہراتے ہیں وہاں اُن سے یہ سوال پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ آپ کو اپنے ایک نالائق بیٹے کی ملازمت کرنے کی ضرورت آخر پیش کیوں آئی ۔۔۔ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے کہ تنخواہ فرضی تھی ؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جس اپائنٹمنٹ لیٹر کی بنیاد پر آپ کو ” اقامہ “ ملا اس میں آپ کی تنخواہ کا ذکر تفصیل سے موجود تھا ؟
آپ کہتے ہیں کہ پاناما کیس میں کچھ نہ ملا تو اقامہ میں دھر لیا گیا۔۔۔ تو میاں صاحب کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسی اقامے کی بدولت آپ نے کروڑوں کی رقوم اِدھر سے اُدھر کیں۔۔۔؟
کبھی آپ کو یہ سوچ کر شرم نہیں آئی کہ آپ نے ملک کا وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے ملک میں ملازمت کی ۔۔۔ ؟ کیا آپ پاکستان کی اس انداز میں تذلیل کرنے پرذرا بھی شرمندہ نہیں ہوئے ۔۔۔؟
آپ کہتے ہیں کہ آپ کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔۔۔ آپ تو خود سر سے پاﺅں تک اپنی کرپشن کا ثبوت ہیں ۔۔۔
آپ کے اثاثے ۔۔۔ آپ کی امارت۔۔۔آپ کی املاک ۔۔۔ آپ کے کاروبار۔۔۔ سب چیخ چیخ کر آپ کی کرپشن کا اعلان کررہے ہیں ۔۔۔
میں آپ کی معلومات کے لئے یہاں حضرت عمر فاروق ؓ کے وہ الفاظ درج کررہا ہوں جو انہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمرو العاص ؓ کو ایک خط میں لکھے۔۔۔
” عاص کے بیٹے ۔۔۔ تم نے اپنی بے پناہ دولتمندی اور اپنے وسیع کاروبار کے جائز ہونے کے جو ثبوت پیش کئے ہیں مجھے ان کی صحت سے انکار نہیں ۔۔۔ مگر میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان حاکم اس قدر امیر ہوسکتا ہے۔۔۔ اگر مصر کے ہر شہری کو تمہاری طرح کاروبار کرنے کے مواقع حاصل ہیں تو درست۔۔۔ ورنہ اپنی ضرورت سے زیادہ جتنا بھی مال تمہارے پاس ہے اسے بیت المال میں جمع کرا دو ۔۔۔ بصورت دیگر تمہیں پابہ زنجیر مدینہ لایا جائے گا۔۔۔“aj ni gal new logo

Scroll To Top