اسلامی فوجی اتحاد کا دنیا سے دہشتگردی کے خاتمے کا عزم

  • محمد فیاض

دہشگردی کےخلاف قائم ہونےوالے اسلامی فوجی اتحاد (IMCTC)کی قیادت کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گےاہے کہ مستقبل مےں یہ فوجی اتحاد دہشتگردی کےخلاف جنگ لڑنے مےں سب سے کامیاب اور مو¿ثر تنظیم ثابت ہو گا۔ سعودی دارالحکومت ریاض مےں ہونےوالے اسکے پہلے اجلاس مےں اس امر کا اظہار بھی کیا گےا کہ کرہ¿ ارض سے دہشتگردی کی لعنت کو جڑوں سے اکھاڑنے اور دہشتگردگروپس کی مالی معاونت کے ذرائع کو مکمل طور پر ختم کرنے کےلئے انکے پاس منظم منصوبے اور لائحہ عمل موجود ہےں۔ اسلامی فوجی اتحاد (IMCTC) نے اس موقع پر یہ عہد بھی کیا کہ وہ اسلام کے جہاد کے اس تصور اور بیانیہ کو بھی درست انداز مےں پےش کرےں گے جسے انتہا پسند تنظیموںنے جہاد کی تعریف مےں گھڑ رکھاہے۔
نومبر 2017مےں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی دارالحکومت ریاض مےں اےک اعلیٰ سطح کے اجلاس کا افتتاح کیا جس مےں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کےلئے قائم ہونےوالے اسلامی فوجی اتحاد (IMCTC) کے اعلیٰ دفاعی حکام نے دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کےلئے اسلامی اتحاد کی فوجی استعداد کار بڑھانے پر اتفاق کیا ۔سعودی ولی عہد نے اپنے اہم خطاب کا بنیادی نکتہ ان کی طرف سے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ دہشتگردوں کا تعاقب اس وقت تک جاری رکھےں گے جب تک کہ اس دنیا کو دہشتگردوں کے وجود سے پاک نہیں کردیا جاتا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے باعث پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان لاکھوں معصوم قیمتی جانوں کاضیاع ےا مالی خسارہ ےادنیا مےں باہمی منافرت کا فروغ نہیں بلکہ اصل نقصان اسلام اور جہاد کی پےش کی جانےوالی وہ غلط تعبیرات ہےں (جن کی بنیاد پر دہشتگرد سادہ لوح مسلمانوں کو بے وقوف بناتے اور اپنی تخرےبی کارروائیاںانجام دےتے ہےں)۔
سعودی ولی عہد نے مزید کہا کہ آج ہم دہشتگردی کا تعاقب شروع کررہے ہےںاور آج ہم دنیاکے کئی ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک مےں (ظاہری طور پر) شکست بھی دےکھ رہے ہےں لےکن آنےوالے دنوں یہ ہم ہی ہوں گے جو اس دنیا سے دہشتگردی کا خاتمہ کر کے دم لےں گے۔
اس اجلاس کے دو روز بعد سعودی شاہ سلمان نے کابینہ کے جلسے کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس بیان کی حماےت کی جس مےں انہوں نے دہشتگردی کےخلاف کارروائیاں کرنے اور اسکی ہر شکل و صورت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ کابینہ کے اس اجلاس مےں اسلامی فوجی اتحاد (IMCTC) کے اختتامی اعلامیہ کی بھی تعریف کی گئی۔ “دہشتگردی کےخلاف اتحاد” کے جھنڈے تلے ریاض کانفرنس مےں دہشتگرد گروپس کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے مےں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گےا، دہشتگردی کے نظرےے اور منفی پراپےگےنڈے کا مقابلہ کرنے کےلئے ذرائع ابلاغ (خصوصاً الےکٹرانک میڈیا) کو مو¿ثر اور طاقتور بنانے اور اس مےں سرمایہ کاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا گےا۔اختتامی اعلامیے مےں دہشتگردی کےخلاف جنگ مےں فوج کے کرداد کی اہمیت اجاگر کرنے، اس اتحاد کے رکن ممالک مےں امن و سلامتی کو ےقینی بنانے اور قومی اور بےن الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے قیام مےں تعاون بڑھانے پر زور دیا گےا۔ اس امر کو بھی اجاگر کیا گےا ہے کہ دہشتگردی کا عفریت خصوصاً اسلامی دنیا مےں (جو دہشتگردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کررہی ہے) پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے اور اس نے امن و آشتی کےساتھ زندہ رہنے کا خواب دےکھنے والے معاشروں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان وزراءنے جنہوں نے دہشتگردی اور انتہاپسندی سے مقابلہ کرنے کے سلسلے مےں اپنی ہر ممکن کوشش جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، دہشتگردوں کی مالی معاونت کے تمام ذرائع اور وسائل کو ختم کرنے کی اہمےت پر بھی اصرار کیا۔ انہوںنے مزید اےسے اقدامات کرنے پر بھی زور دیاجس سے عالمی معےار کو برقرار رکھنے مےں مدد مل سکے۔
اسلامی فوجی اتحاد(IMCTC) کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا کہ اکیسویں صدی مےں خصوصی طور پر اسلامی دنیا مےں امن و سلامتی کو لاحق سب سے بڑے خطرے ےعنی “دہشتگردی” سے مقابلہ کرنے کا چےلنج درپےش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگرد تنظیموںنے اپنے مذموم اور تخرےبی عزائم کی تکمیل کےلئے اسلام کے نظریہ¿ جہاد کی نہاےت غلط تعبیرات پےش کی ہےں۔ا نہوں نے مزید کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ کےلئے درست اور مستند حقائق پر مبنی اےسا موادبھی تےّارکرکے اسکی تشہیر کرےں گے جس سے اسلامی نظرےات کی درست تعبیر پےش کرنے اور دہشتگردوں کی پھےلائی ہوئی غلط فہمیوںسے مقابلہ کرنے مےں مدد مل سکے گی۔
جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ اسلامی فوجی اتحاد (IMCTC) دہشتگردتنظیموں کو ملنے والی ہر قسم کی مالی معاونت کے ذرائع کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرےگا۔
اسلامی فوجی اتحاد مےں شامل41ممالک کے وزرائے دفاع نے اس اتحاد کے قیام کےلئے کی جانےوالی سعودی حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی اوراسکی افتتاحی تقریب کے انعقادکے سلسلے مےں مےزبانی اور صدارت کے فرائض ادا کرنے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ سعودی حکومت نے دسمبر 2015مےں 41ممالک کے اتحاد پر مبنی اس فوج کے قیام کا اعلان کیا تھا جبکہ مارچ 2016 مےں اسلامی ممالک کے تمام چیفز آف سٹاف نے ریاض مےں ملاقات کی تھی اور دہشتگردی کےخلاف متحد ہو کر کوششےں کرنے کے عزم کا اعلان کیا تھا۔

Scroll To Top