پی ایس ایل گورننگ کونسل خاموشی سے ختم، فرنچائزز تلملا اٹھیں

jچیئرمین پی سی بی کے’’ون مین شو‘‘ سے توازن خراب ہو جائے گا، ’’فیئرپلے‘‘ کیلیے کونسل ضروری ہے، فرنچائززکا موقف۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  پی ایس ایل گورننگ کونسل کو خاموشی سے ختم کردیا گیا جب کہ نئی فرنچائز ملتان سلطانز کے معاہدے میں اسحوالے سے کچھ شامل ہی نہیں جس پر بیشتر فرنچائزز کو سخت اعتراض ہے۔

پی ایس ایل میں گورننگ کونسل کو خاموشی سے ختم کر دیا گیا، نئی فرنچائز ملتان سلطانز کے معاہدے میں اس حوالے سے کچھ شامل ہی نہیں، دیگر 5 ٹیموں کو بھی نیا معاہدہ ارسال کر دیاگیا، بیشتر کو اس پر سخت اعتراض ہے، ان کے مطابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے’’ون مین شو‘‘ سے توازن خراب ہو جائے گا۔

ماضی میں جب شہریارخان بورڈ کے چیئرمین تھے  تو اختیارات حاصل کرنے کیلیے نجم سیٹھی نے طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی بنائی اور خود اس کے سربراہ بن کر اہم فیصلے کرنے لگے، پھر جب وہ خود چیئرمین بنے تو انھوں نے کمیٹی ختم کر دی۔

شہریارکے ہی دور میں پی ایس ایل کی چار رکنی گورننگ کونسل بنائی گئی جس کے سربراہ نجم سیٹھی اور ارکان چیف فنانشل آفیسر بدر منظور خان، چیف ایگزیکٹیوآفیسر سبحان احمد، ڈائریکٹر مارکیٹنگ نائلہ بھٹی تھے، اس کا مقصد لیگ کے معاملات الگ رکھنا اور چیئرمین بورڈ کی مداخلت سے بچنا تھا، بعد میں پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنانے پر بھی کام ہوا۔

اس حوالے سے پانچ رکنی کمیٹی تک کے نام سامنے آ گئے جس میں نجم سیٹھی، منصور مسعود خان، شکیل شیخ، عارف حبیب اورضیا رضوی شامل تھے، بورڈ کی نمائندگی سبحان احمدکو کرنا تھی، مگرنجم سیٹھی کے چیئرمین بننے پر اس منصوبے پر بھی عمل درآمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔

ذرائع نے بتایا کہ چھٹی ٹیم ملتان سلطان کے معاہدے میں گورننگ کونسل کا ذکر ہی شامل نہیں اور خاموشی سے اسے ختم کر دیا گیا، نجم سیٹھی چونکہ اب پی سی بی کے سربراہ بن چکے لہذا اب اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، بالکل ایسا ہی بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دیگر پانچوں فرنچائزز کو بھی اس حوالے سے معاہدے میں ترمیم کا مسودہ ارسال کر دیا گیا مگر بیشتر اس سے سخت ناخوش ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گورننگ کونسل کی موجودگی میں توازن رہتا، اسے برقرار رکھتے ہوئے کسی غیرجانبدار شخصیت کو چیئرمین بنانا چاہیے تھا، اب فرد واحد نجم سیٹھی ہی تمام فیصلے کیا کریں گے،  تمام تر اختیارات انہی کے پاس موجود ہیں، وہ بورڈ کے بھی سربراہ ہیں اور پی ایس ایل کے بھی تمام فیصلے انہی کو کرنے ہیں، اس سے ’’فیئرپلے‘‘ باقی نہیں رہا جب کہ اس سے قبل ٹی ٹین لیگ پر بھی بورڈ اور فرنچائزز میں شدید اختلافات سامنے آئے تھے، پھر معاہدے کی رقوم بورڈ کو نہ دینے کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت پی ایس ایل کے معاملات خاصے  بگڑے ہوئے ہیں لیکن ایونٹ قریب ہونے کی وجہ سے فرنچائزز کوئی تنازع نہیں چاہتیں، بعد میں اس حوالے سے  بورڈ سے دوٹوک بات کی جائے گی چند روز قبل فرنچائزز اور بورڈ میں پی ایس ایل کے تشہیری معاملات پر بھی اختلاف ہوا تھا، دونوں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری ہے،اب ایک ماہ سے بھی کم وقت رہنے پر تشہیری مہم شروع ہوئی ، بھاری سرمایہ کاری کرنے والی فرنچائزز کو اسپانسرز کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پی ایس ایل گورننگ کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے، البتہ چاروں افراد  یعنی چیئرمین نجم سیٹھی، سی ایف او، سی ای او اور اب ٹورنامنٹ ڈائریکٹر بننے والی نائلہ بھٹی ہی تمام فیصلے کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملتان سلطان  کے معاہدے میں کونسل کا ذکر نہیں  جبکہ دیگر پانچوں ٹیموں کو بھی ترمیم شدہ مسودہ بھیج دیا ہے، بعض نے دستخط کر کے واپس ارسال کر دیا جبکہ امید ہے کہ دیگر بھی جلد ایسا کریں گے۔

Scroll To Top