بیرونی بنکوں میں پڑی دولت ملکی اثاثہ ہے، واپس لانا ہو گی: چیف جسٹس پاکستان

  • بیرون ملک بنک اکاﺅنٹس اثاثہ جات از خود نوٹس کیس
  • بادی النظر میں ایسی رقوم غیر قانونی طریقے سے کمائی گئیں اور بیرون ممالک بھیجی گئیں جس سے ملک میں عدم توازن پیدا ہوا،غیر قانونی پلاٹس کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس میاں ثاقب نثارکے ریمارکس
  • مرکزی بینک ،ایف بی آر اور ایس ای سی پی سے تمام ریکارڈ طلب ، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو معلومات شیئر کرنے کی ہدایت ، آئندہ سماعت دو ہفتے کے بعد خصوصی بینچ کرے گا

سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس اور املاک کا ازخود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ میں غیر قانونی پلاٹس کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بیرون ملک پڑی پاکستانیوں کی غیر قانونی رقوم ملکی اثاثہ ہے جسے واپس لانا ہے، بادی النظر میں ایسی رقوم غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی اور بھیجی گئی۔اعلیٰ عدالت نے کہا کہ اکثر پاکستانیوں کے ملک سے باہر بینک اکاو¿نٹس ہیں اور بیرون ملک رقوم بھیجے جانے سے ملک میں عدم توازن پیدا ہوا۔چیف جسٹس نے بیرون ملک بینک اکاو¿نٹس اور املاک کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی بینک ،ایف بی آر اور ایس ای سی پی سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ عدالت نے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو معلومات شیئر کرنے کی بھی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت دو ہفتے کے بعد خصوصی بینچ کرے گا۔

Scroll To Top