خدا کی نگری میں خدا کا مذاق ! (نعوذ باللہ) 14-11-2012

ٹی وی چینلز کو کیا چیز دکھانے کی اجازت ہونی چاہئے اور کیا نہیں اس کا تعلق اظہار کی آزادی سے ہرگز نہیں۔ اظہار کی آزادی کا تعلق ملکی سیاست سے ہے۔ جہاں تک اخلاقیات اور اقدار کا تعلق ہے ان کی جڑیں ہمارے ایمان اور ہماری تہذیب و تمدن میں ہیں۔ ٹی وی چینلز کو تفریح کے نام پر طے شدہ اخلاقیات اور طے شدہ اقدار کے قتل عام کا لائسنس دینا بذات خو د ایک قومی جرم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس قومی جرم کا ارتکاب پہلے جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے کیا اور اب پی پی پی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت کررہی ہے۔
میں ایک تنگ نظر مولوی نہیں ہوں۔ مگر ایک مسلمان ضرور ہوں۔ اور میری حقیر رائے میں مسلمان اس شخص کو کہتے ہیںجو قرآن حکیم کو خدا کا کلام مانتا ہو ۔ قرآ ن حکیم اگر خدا کا کلام ہے تو انسانی معاشرت اور اخلاق و کردار سے متعلق متعین کردہ اس کی تمام حدود کو فرمان الٰہی سمجھنا چاہئے۔ جو لوگ ایسا نہیں سمجھتے وہ خدا کے باغی ہیں۔ اور خدا کے باغیوں کے ساتھ ایک ایسے معاشرے میں کیا سلوک ہونا چاہئے جس کی نوے فیصد آبادی کو مسلمان ہونے کا دعویٰ ہو اس کا فیصلہ آپ خود کرلیں۔
اخلاق باختگی فحاشی اور عریانی کا جو کھیل ہمارے ٹی وی پروگراموں میں کھیلا جارہا ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ایک شریف گھرانے کی دختر نیک اختر اور جسمانی نمائش کا کاروبار کرنے والی ایک فاحشہ عورت کے درمیان ہر قسم کا فرق مٹتا چلا جارہا ہے۔ کسی زمانے میں لڑکی کا لباس دیکھ کرکہا جاسکتا تھا کہ یہ کسی شریف گھرانے کی عزت ہے۔ اب یہ ممکن نہیں رہا۔اب تو صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز نے خبر ناموں کو بھی چٹپٹا بنانے کی ٹھان لی ہے۔ خبریں بھی اس انداز میں پیش کی جارہی ہیں جیسے لاہوری تھیٹر میں چٹکلے پیش کئے جاتے تھے۔
اسے میں اخلاقی انحطاط (Moral Decline)کہوںگا۔ اور اس کی ذمہ داری خودقبول کرکے متعلقہ ٹی وی چینل اپنی اصلاح کے اقدامات فوری طور پر نہیںکریں گے تو پھر بات ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔ اور اگر بات حکومت نے اپنے ہاتھوں میں نہ لی تو طالبان کا کوئی گروہ ” اصلاح احوال “ کے لئے اٹھ کھڑا ہوگا۔
خدا کی نگری میں خدا کا مذاق آخر کب تک اڑایا جائے گا؟

kal-ki-baat

Scroll To Top