ہمارا کون سا ٹی وی چینل ہے جو عتابِ الٰہی کو دعوت نہیں دے رہا ؟

کبھی کبھی میںسوچتا ہوں (اور یہ سوچ کر مجھے بڑے شدید کرب کا احساس ہوتا ہے) کہ وہ سب جو ہمارے دشمن ہیں انہوں نے ہمیں تباہی و بربادی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنے ہر اول دستے یہاں بھیج دیئے ہوئے ہیں ۔ میری مراد اُن لبرل اور روشن خیال دانشوروں سے نہیں جو ہماری نظریاتی بنیادوں کو ہلانے کے لئے دلائل کے گولے برساتے رہتے ہیں۔ اُن کے حملوں میں وہ طاقت اور شدت نہیں جو ہمارے وجود کے لئے خطرہ بن سکے۔ میری مراد ہمارے وہ ٹی وی چینل ہیں جو تفریح کے نام پر مملکت ِ خداداد پاکستان میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جس کی ترقی قرآن حکیم کے مطابق قوم عاداورقوم ِ ثمود کی بالعموم اور قوم صدوم کی بالخصوص تباہی کی وجہ بنی تھی۔ المیہ یہ ہے کہ اخلاق باختگی ` فحاشی اور بے حیائی کی ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ہر چینل دوسرے چینل پر سبقت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ فاحشہ عورتوں کو فیشن ماڈل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور جس سرعت کے ساتھ وہ اپنے جسم کو لباس کی قید سے آزاد کرتی چلی جارہی ہیں اور جس بے شرمی سے اپنے اعضائے جسم کی نمائش کے نت نئے طریقے آزما رہی ہیں `اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ٹی وی دیکھتے وقت خاندان کے بڑے اپنی آنکھیں بند کرلینے پر مجبور ہوا کریں گے۔

کبھی اس ملک میں سنسر کوڈ ہوا کرتا تھا۔
اشتہارات بھی سنسر کے قوانین کی کسوٹی پر پورا اترنے کے بعد سکرین کی زینت بنا کرتے تھے۔ مگر جب ہماری پارلیمنٹوں میں اخلاق باختہ لوگوں کو برتری حاصل ہونا شروع ہوگئی اور ہمارے ” مُلاّ “حضرات بھی ذہنی عیاشی کے عادی ہوگئے تو” سنسر“ کی اصطلاح صرف کاغذوں میں مقید ہو کر رہ گئی۔
میں جب سوچتا ہوں کہ ہماری جو نسل اس کلچر کے زیر اثر پروان چڑھ رہی ہے جو ہمارے چینلز کے ذریعے فروغ پا رہا ہے تو آنے والے دور کی تصویر دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
کوئی ہے جو اٹھ کر اس تباہی کے خلاف بندباندھے اور ہماری تہذیب اور ہماری روایات کے قاتلوں کو بلند آواز میں للکارے ؟
(یہ کالم اس پہلے بھی شائع ہوا تھا 13-11-2012)

aj ni gal new logo

Scroll To Top