نہال ہاشمی کے بعد اب کس کی باری

zaheer-babar-logo

سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کو توھین عدالت کے جرم میں ایک ماہ قید، پچاس ہزار روپے جرمانہ اور پانچ سال تک کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار د ے دیا ۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی نے اپنی ایک متازعہ تقریر میں فاضل جج صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نوازشریف کا بیٹا ہے ہم تو نوازشریف کے کارکن ہیں،حساب لینے والوں !ہم تمارا یوم حساب بنا دیں گے “´۔
سابق وزیر اعظم ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے قریب سمجھے جانے والے بعض افراد جس طرح عدالت عظمی کو سرعام تنقید کا نشانہ بنا رہے وہ ہر جمہوریت پسند شخص کے لیے تکلیف دہ ہے۔ محض اپنے سیاسی مفاد کے لیے جس طرح اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے طویل المدت بنیادوں پر اس کے نتائج ہر گز بہتر نہیں نکلنے والے ۔یہی وجہ ہے کہ مختلف عدالتوں میں میاںنوازشریف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف توھین عدالت کی درخواستیں دی جارہی ہیں۔ ادھر سپریم کورٹ نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چھ فروری کو طلب کرلیا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ مخالف تقریر پرسابق وزیر اعظم ، مریم نوازاور صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ کو بھی نوٹس جاری کردئیے ۔
پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد جس انداز میں اعلی عدلیہ کے خلاف پی ایم ایل این نے محاز گرم رکھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، ایک خیال یہ ہے کہ حکمران جماعت طے شدہ حکمت عملی کے تحت عدالتوں کو دباو میں لانے کی پالیسی پر کاربند ہے تاکہ مرضی کے فیصلے حاصل کیے جاسکیں ۔ سیاسی جماعتیں یہی نہیں وکلاءتنظمیں بھی معترض ہیںکہ مسلم لیگ ن کے زمہ داروں کے خلاف توھین عدالت کی بنیاد پر کاروائی کیونکر عمل میں نہیںلائی جارہیں ۔
پاکستان پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ مسلم لیگ ن کے زعماء جتنی توھین عدالتوں کی کرچکے پی پی پی کے لیے اس کا تصور تک کرنا محال ہے لہذا فاضل جج صاحبان کو پی ایم ایل این کے منہ پھٹ حضرات کو کنڑول کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہے۔ دلچیسپ یہ ہے کہ سینیڑ نہال ہاشمی کو سزا دینے کے عمل کی عوامی حلقوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جارہی ، خیال کیا جارہا ہے کہ پی ایم ایل این میں توھین عدالت کے مبینہ طور پر مرتکب افراد میں سے چند اور کےخلاف قانونی کاروائی اس منفی رجحان کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتی ہے۔
دوآراءنہیں تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنی والی شخصیت جس انداز میں اپنے سیاسی اور مالی فائدے کے لیے قومی اداروں کو ہدف بنائے ہوئے ہے اس کا نقصان مسلسل قومی اداروں کو پہنچ رہا ہے۔ میاں نوازشریف کے مخالفین کے بعقول سابق وزیر اعظم تاحال دل سے قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اعلی عدلیہ ان کے خلاف بھی فیصلہ سناسکتی ہے۔ پانامہ لیکس میں جے آئی ٹی کی تحیق کے نتیجے میں شریف خاندان کے مالی معاملات جس طرح مشکوک قرار پائے وہ یقینا اپنی مثال آپ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں جس طرح غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اس کے ثبوت بھی عدالتوں کو دئیے جاچکے۔
بظاہر احتساب کسی ایک جماعت یا خاندان تک محدود نہیں رہا۔ قومی احتساب بیورو جس تیزی سے مختلف کیسز میں تیزی سے کام کررہا ، قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں چند اور بڑی شخصیات قانون کی گرفت میں آجائیں۔ عدالت عظمی اس پس منظر میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کررہی۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار پانامہ لیکس اور پیراڈائز لیکس میں متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرچکے ۔حقیقت یہ ہے کہ عوامی مسلہ ہو یا انتظامی ہر معاملے میں عدالت عظمی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کررہی ہے، اس صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیںاپنے آئینی اور قانونی کردار ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں۔
تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ آنے والے عام انتخاب میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اپنی نااہلی اور عدالتوں کے خلاف لب ولہجہ لے کر عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کیونکر کامیاب ہونگے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ماہ فروری میں میاں نوازشریف کے خاندان کے خلاف دائر مقدمات کا فیصلہ بھی سامنے آسکتا ہے۔یقینا میاں نوازشریف اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ، سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ان کے خلاف قائم مقدمات کو تو آمرانہ اقدمات کہہ کر مسترد کیا جاسکتا تھا مگر اب یہ عذر بھی قبول نہیں کیا جاسکتا ۔
میاں نوازشریف اور شہبازشریف کی باہم کشدیگی بھی حکمران جماعت کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی۔ شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ کے بشیتر نمایاں شخصیات دو ٹوک انداز میں کہہ چکیں کہ میاں شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جاسکا۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ شہبازشریف کے مقابلے میں مریم نواز کو آگے لانا دونوں بھائیوں کے درمیان اختلاف کا باعث بن چکا۔ ملک کا سیاسی منظر نامہ قیاس آرائیوں کی زد میں ہے۔ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد تک کیا صورت حال بنے ، اگر مگر کے باوجود سیاست دانوں کے زمہ دارنہ کردار ادا کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا چاہے ان کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا پھر حزب اختلاف سے ۔

Scroll To Top