پاکستان سمیت دنیا بھر میں بیک وقت سپر بلیو بلڈ مون کا نظارہ

eآخری مرتبہ سپر بلیو بلڈ مون 1866 میں دیکھا گیا تھا۔ فوٹو: بشکریہ اسپیس ڈاٹ کام

 کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں چودھویں کے پورے چاند اور سپرمون کو گرہن لگنے کا نظارہ کروڑوں افراد نے دیکھا۔ 

بدھ کی رات ہونے والے چاند گرہن کی خاص بات یہ تھی کہ ایک جانب تو یہ مکمل چاند یعنی ’’بدر‘‘  تھا جسے چودھویں کا چاند بھی کہتے ہیں۔ دوم یہ سپرمون بھی تھا یعنی عام حالات کے مقابلے میں یہ 14 فیصد بڑا دکھائی دے رہا تھا اور اس پر چاند کو گرہن لگنے کا منظر بہت تاریخی اور دلفریب تھا۔ اسے بلڈ مون یوں کہا جارہا ہے کہ گرہن لگنے کے دوران اس کی رنگت سرخی مائل دکھائی دی۔

اس دوران زمین کا سایہ چاند پر پڑنے سے اس کی رنگت سرخی مائل دکھائی دی ۔ ان تمام مظاہر کی بنیاد پر اسے ’’سپر بلیو بلڈ مون‘‘ کا نام دیا گیا ہے تاریخی لحاظ سے ایسا نظارہ 1866 میں دیکھا گیا تھا۔

اسی بنا پر دنیا بھر کے ماہرِین فلکیات اور دیگر افراد بے تابی سے اس قدرتی مظہر کے منتظر تھے۔  یہ چاند گرہن پاکستان سمیت مغربی شمالی امریکا، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور روس کے علاقوں میں دیکھا گیا ۔ شوقیہ ماہرینِ فلکیات اور فوٹوگرافروں نے اس کی لاکھوں کروڑوں تصاویر کو کیمرے میں بند کیا۔

31 جنوری کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق چاند کو اس وقت گرہن لگنا شروع ہوا جب وہ افق پر نمودار بھی نہیں ہوا تھا تاہم کراچی سمیت پاکستان کے کئی علاقوں میں سپربلیومون چاند گرہن سات بجے سے دکھائی دیا ۔

اس ضمن میں کراچی سمیت کئی شہروں کے لوگوں نے اسے دیکھنے کے خصوصی اقدامات کیے تھے ۔ جامعہ کراچی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس (اسپا) نے اس منظر کو دکھانے کا خصوصی انتظام کیا تھا۔ اس موقع پر عام شائقین اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں دوربین سے یہ منظر دیکھا اور اس یادگار واقعے کو مزید یادگار بنایا۔

پاکستانی وقت کے مطابق چاند گرہن 7 بجے نمایاں دکھائی دیا لیکن اس وقت زمین کا سایہ چاند پر حاوی ہوکر اترنے لگا تھا اور نو بجے تک یہ مکمل طور پر ختم ہوگیا اور یوں چاند اپنی اصلی حالت میں دوبارہ لوٹ آیا۔

اس دوران مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین سورج اور چاند کے درمیان آگئی تھی جس سے زمین کا سایہ چاند پر پڑا اور چند گھنٹوں کے لیے اس پر سرخی مائل اندھیرا چھا گیا تھا۔

اس دوران زمین کا واحد قدرتی سیٹلائٹ یعنی چاند اپنے بیضوی مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین سے قربت میں تھا اور 14 فیصد بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ معمول سے ذیادہ روشنی بھی دے رہا تھا۔

Scroll To Top