جتنا نقصان پاکستان کو اپنے کچھ دانشوروں سے پہنچ رہا ہے دشمن کے میزائل اور بم بھی نہیں پہنچا سکتے! 07-11-2012

kal-ki-baat


پاکستان آرمی کے سربراہ کا بیان غیر معمولی انداز میں سامنے آیا ہے مگر اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو غیر معمولی ہو۔ کون اِس بات سے اختلاف کرے گا کہ ملک و قوم کے مفاد کا حتمی تعین کوئی ایک فرد یا ایک ادارہ نہیں کرسکتا؟ اور اس بات سے اختلاف کی گنجائش بھی کہاں ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور فوجی قیادت اور سپاہ کے لئے الگ الگ خانے بنانے کی کوششوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔؟
جنرل اشفاق پرویز کیانی کو یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔؟ انہوں نے اپنے بیان میں مخاطب کس فرد یا ادارے یا افراد کو کیا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہے جو یقینی طور پر بہت سارے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں۔
فوج کے علاوہ جو ادارے اس وقت ملک کے معاملات میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں یا ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ان میں ایک تو عدلیہ ہے` دوسری انتظامیہ ہے (جو اپنی بقاءکو طول دینے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے )اور تیسرا میڈیا ہے۔
اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہوگا کہ ملک میں بہتری لانے یا مزید ابتری پھیلانے کے کام میں جتنا کلیدی کردار اس وقت میڈیا اداکررہا ہے وہ کوئی اور ادارہ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔ عدلیہ کے پاس تو اِتنا اختیار بھی نہیں کہ وہ اپنے کسی فیصلے پر عملدرآمد کراسکے۔ حکومت کے پاس اختیار بھاری قرضے لینے اور ملک کی معیشت کو بربادی کی دلدل میں دھکیلتے رہنے کے سوا اور کوئی نہیں۔شاید اسی وجہ سے آرمی چیف کو یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ ملک اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک دور سے گزررہا ہے۔ میڈیا کیا کرسکتا ہے ۔؟ اس سوال کاجواب جاننے کے لئے کامران خان کے وہ تینوں پروگرام دیکھیں جو انہوں نے یکے بعد دیگرے جمعرات ` جمعہ اور پیر کو کئے اور جن میں انہوں نے کھل کر لفظ ” جنرل “ کو تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنایا۔ فوج کی اس سے زیادہ موثر کردار کشی کی ہی نہیں جاسکتی ! اور یہ امتیاز صرف کامران خان تک محدود نہیں۔ جن دانشوروں کو علامہ اقبال ؒ کا نظریہ ءپاکستان کبھی ہضم نہیں ہوا وہ اب کھل کر فوج کے خلاف زہرا گل رہے ہیں۔
میں اس ضمن میں یہ کہناچاہوں گا کہ اگر میں بھی سی آئی اے یا موساد یا را کا سربراہ ہوتا تو پاکستان میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سب سے زیادہ بھرتیاں یہاں کے میڈیا سے کرتا۔
چیف جسٹس صاحب کا یہ فرمانا شاید درست ہو کہ وہ دن گئے جب ملکی استحکام کا تعین توپوں ٹینکوں اور میزائلوں کی تعداد سے کیا جاتا تھا۔
لیکن زیادہ درست یہ بات ہوگی کہ جتنا نقصان پاکستان کو یہاں کے ہی کچھ دانشور پہنچا رہے ہیں اتنا نقصان دشمنوں کے بم توپیں اور میزائل بھی نہیں پہنچا سکتے۔

Scroll To Top