توہین عدالت بھی اور توہین رسالت بھی

isma-tarar-logo

ہفتے کو وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری صاحب نے جڑانوالہ میں جو شعلہ بیانی فرمائی، اور جس طرح معززجج صاحبان کو مخاطب کیا، اور عوام کو اُکسایا، یوں معلوم پڑ رہا تھا کہ جیسے موصوف یا تو کسی شیطانی طاقت کے اثر میں ہیں یا پھر ان پرکوئی وجد طاری ہے۔ ان کے جلال کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے میاں صاحب کو نعوذ باللہ رسول ا للہ سے تشبیہ دے ڈالی اور معززجج صاحبان کو کعبے کے بت کہہ ڈالا۔ اور میاں صاحب سے درخواست کی، بلکہ درخواست کیا باقائدہ حکم ہی دے ڈالا کہ ان کو نکال باہر پھینکو۔ ان گستاخان کی جرا¿ت کیسے ہوئی تمھیں نااہل قرار دینے کی اور کیسے ہمت ہوئی عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے کی۔
یہ سب سنتے اور دیکھتے ہوئے ذہن میں خیال آیا کہ جو گفتگو وزیرِ مملکت نے فرمائی ہے، جو کھلی دھمکیاں انہو ں نے دی ہیں، تو کیا یہ رانا ثناءاللہ کی معاشرے میں انتشار، بدامنی، بے یقینی اور افراتفری پھیلانے کی تعریف کے ضمر ے میں آتی ہے کہ نہیں ؟ یا پھر یہ سعادت وہ صرف عمران خان ، طاہرالقادری ، شیخ رشید اور اپنے دوسرے مخالفین کو ہی بخشتے ہیں؟
اور اگر ڈاکٹر شاہد مسعود کا اتنا سا مطالبہ کہ زینب کے قاتل کے ساتھ ساتھ ان تمام گروہوں کی بھی تفتیش کی جائے جو ان جرائم میں ملوث ہیں معاشرے میں انتشار پھیلانے کے مترادف ہے، تو کیا وزیر مملکت بھی اِسی جرم کے مرتکب نہیں؟ اور ساتھ ہی یہ خیال بھی اُبھرا کہ طلال چوہدری اپنے جوش اور جاہ وجلال میں یہ بھی بھول گئے کہ وہ دو اور انتہائی سنگین جرائم کے بھی مرتکب ہوئے۔ ایک توہین رسالت اور دوسرا توہین عدالت۔ اوراگرڈاکٹرصاحب صرف ایک خبر کی بنیاد پر پھانسی کے حقدار ہیں تو طلال صاحب تو پھر اس سے بھی بڑی سزا کے مستحق ہیں۔ مگر سزا اور جزا کا فیصلہ کرنے والی ذات صرف خدا کی ذات ہے، انسان نہیں۔ اور انسان کو انسان ہی رہنا چاہئے۔ نہ تو خدا بننا چاہیے اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لینا چاہئے۔

Scroll To Top