بچوں کے خلاف جرائم کے خوفناک اعداد وشمار

zaheer-babar-logo
قصور میں زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کرنے کے بعد یہ سوال تواتر کے ساتھ پوچھا جارہا ہے کہ ملک میں بچوں کےخلاف ہونے والے جرائم کی شرح ہے کیا۔ اس ضمن میں سامنے والے تازہ اعداد وشمار کچھ یوں ہیں کہ ملک کے طول وعرض میں میں ہر روز اوسطا گیارہ بچوں اور بچیوں کو ریپ اور گینگ ریپ سمیت جنسی استحصال اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یعنی سال بھر کم وبیش سو نابالغ پاکستانی لڑکے لڑکیوں کو ریپ کے بعد قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے گیارہ سے پندرہ برس تک کی عمر انتہائی پرخطر ہو چکی جبکہ دوسری خطرناک ترین عمر چھ سے گیارہ برس تک کے درمیان ثابت ہوئی۔ تشویشناک یہ ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار محض پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ہیں جبکہ بچوں کے خلاف ایسے بہت سے جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے جس کے بارے عام طور پر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔ماہرین کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم کو روکنا صرف کسی فرد یا ادارے کا کام نہیں بلکہ یہ معاشرے کے ہر طبقے کی ذمے داری ہے یعنی پہلے تو بچوں کو باور کرایا جانا چاہیے کہ انہیں اپنی حفاظت کے لیے کس قدر چوکنا رہنا ہوگا اس ضمن میں تعلیمی نصاب میں بھی تبدیلیاں کرنا ہونگی تاکہ ایسے جرائم کے خلاف بچوں کو باشعور بنایا جا سکے۔ ایسے مقدمات میں مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے عدالتی نظام میں بہتری کے ساتھ تفتیسی نظام بھی بہتر بنانا چاہے جس کے ذریعے کمزور ایف آئی آر اور پھر نامناسب عدالتی فیصلوں سے بچا جا سکے۔
دوہزار سولہ میں ملک بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی، اغوا، قتل، گمشدگی اور ان کی جبری شادیوں کے کل سوا چار ہزار کے قریب کیس رجسٹرڈ کیے گئے ۔ دراصل یہ تعداد اس سے ایک سال قبل سن دو ہزار پندرہ کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ تھی۔ گزشتہ سال بچوں سے جنسی زیادتی، اغوا اور قتل کے مجموعی طور پر قریب ساڑھے تین ہزار واقعات ہوئے ۔ ایسے جرائم سب سے زیادہ قصور میں ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر لاہور میں ہوئے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق ملک میں تاحال کم عمر بچوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیاں کہیں زیادہ تعداد میں جنسی جرائم کا نشانہ بنی۔عمومی طور پر تاثر یہی ہے کہ اگر کسی کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کا جرم ہو جائے، تو مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے بدنامی سے ڈرایا جاتا ہے لہذا ایک طرف ایسے جرائم رپورٹ بھی نہیں ہوتے اور مظلوم کو ہمدردی کی جگہ طنز اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
دراصل کسی بھی معاشرے کا سب سے غیر محفوظ طبقہ بچے ہی ہوتے ہیں جو اپنی حفاظت کے تقاضوں کی کافی سمجھ نہیں رکھتے۔ زینب قتل کیس میں معاشرے نے بھرپور درعمل دیا یعنی کہاگیا ملزم کو پکڑ کر جیل بھیج دو یا پھانسی پر لٹکا دو،۔ زینب کیس پر جس طرح پورے ملک میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم سمجھا گیا یہ یقینا مثبت سماجی پہلو ہے۔
بلاشبہ بچوں کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ اس کا آغاز گھر سے ہوتا ہے یعنی والدین یہ سمجھیں کم سن بچے کو اکیلا ہی کسی دکان، بازار، مدرسے یا اسکول بھیجیں گے تو کبھی کچھ نہیں ہو گا تو ایسا نہیں ہے۔ درحقیقت ایسے جرائم کا سبب بننے والے عوامل سے نمٹنے کے لیے قانون اور پولیس سے بھی زیادہ اہمیت معاشرے کی اجتماعی ذمے داری کی ہے۔جنسی تشدد جیسے جرائم کے خاتمے کے لیے پہلے توجہ لازمی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ جب کسی مظلوم سے اس کے ارد گرد کا معاشرہ بھی ہمدردی نہ کرے، تو بات ظلم در ظلم تک پہنچ جاتی ہے۔ افسوس کہ ملک میں دیگر کئی معاملات کی طرح بچوں کےخلاف جرائم کے حوالے قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اہل اقتدار قانون سازی تو فوری طور پر کر دیتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیںہوتا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ
آئی ایل او کے مطابق ملک میں محنت مزدوری پر مجبور قریب چالیس لاکھ بچے یا تو کوڑا چنتے ہیں یا پھر سڑکوں پر چھوٹی موٹی چیزیں بیچتے ہیں، ریستورانوں میں کام کرتے ہیں یا مختلف ورکشاپوں میں مزدوری کرتے ہیں۔ درحقیقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں بڑے بڑے دعوی کرتی ہیں مگر ان پر عمل درآمد کرنے کی نوبت کم ہی آئی۔ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستانی سماج برائیوںکو تسلیم کرنے کے عمل سے گزر رہاہے۔ ماضی میں خامیوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ لامحالہ طور پر مسائل میںاضافہ کا باعث بنتا رہا یعنی کہا جاسکتا ہے کہ اب سماج نے بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے شروع کردیا ۔ یاد رہے کہ کمزور طبقات کی آواز بلند ہونا ہرگز کم اہمیت کا حامل نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ ملک بھر میںبچوں سے جرائم انہونی بات نہیں مگر اب تیزی سے اپنا اثر رسوخ پھیلاتا الیکڑانک اور سوشل میڈیا پوری قوت سے ایسے مسائل کو اٹھانے کا فریضہ سرانجام دے رہا۔ آنے والے دنوں میں ایسے جرائم کے خلاف بھرپور قانون سازی کے لیے حکومت پر دباو بڑھ سکتا ہے۔ یقینا معاشرتی مسائل پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔ اس ضمن معاشرے کے ہر فرد کی جانب سے زمہ دارنہ کردار ادا کرنا ہی مشکلات پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

Scroll To Top