روس کے انتخابات میں صدر پوتن کی جماعت کی سبقت

روس میں پارلیمانی انتخاب کے ابتدائی نتائج اور جائزوں کے مطابق صدر ولادی میر پوتن کی جماعت کو انتخاب میں سبقت حاصل ہے۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت کے ’نتائج بہت اچھے رہے ہیں۔‘

انتخاب میں قوم پرست جماعت ایل ڈی پی آر اور کیمونیسٹ پارٹی نے 14 سے 16 فیصد ووٹ لیے ہیں جبکہ حزب مخالف کی روشن خیال جماعتیں پارلیمانی انتخاب میں محض پانچ فیصد ہی ووٹ لے سکی ہیں۔

ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً نصف ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے جس میں صدر پوتن کی جماعت یونائیٹیڈ رشیا کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

سنہ 2014 میں کرائمیا کا روس ساتھ الحاق کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ روس کرائمیا میں اپنی پارلیمان کے انتخابات کا انعقاد کیا۔

اس انتخاب میں عوام نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایوان زیریں کے 450 اراکین کو منتخب کیا۔ اس وقت دما یعنی ایوان زیریں میں پوتن مخالف ارکان کی تعداد انتہائی کم ہے۔

اس انتخاب میں بھی ٹرن آؤٹ بہت کم رہا اور پولنگ کا وقت ختم ہونے سے دو گھنٹے قبل تک ٹرن آؤٹ 40 فیصد تک رہا۔

سنہ 2011 میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے شواہد سامنے آنے کے بعد سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

ملک میں الیکشن کمیشن کی سربراہ کا کہنا ہے کہ ’وہ پر اعتماد ہیں کہ انتخابات کا انعقاد قانونی ضوابط کے مطابق ہوا ہے۔‘

روس کی معیشت کے حوالے سے پائی جانے والی بے چینی اور یوکرین اور شام کو لے کر مغرب کے ساتھ کشیدگی کے باوجود بعض مبصرین نے انتخابی مہم کو حالیہ تاریخ میں غیر دلچسپ قرار دیا ہے۔

یوکرین میں تناؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جہاں حکومت روس کی جانب سے کرائمیا میں انتخابات کروانے کے منصوبے پر شدید برہم ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریانہ بیٹسا کا کہنا ہے کہ روسی انتخابات ان کے ملک میں نہیں ہو سکتے، یہاں تک کے روسی ڈوپلومیٹک اور قونصلیٹ کی عمارتوں میں بھی نہیں۔

دوسری جانب ان کی ہم منصب ماریہ زاخروو کا اس بات پر اسرار ہے کہ ’یوکرین میں روسی سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل میں بھی پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔‘

جبکہ صدر ولادی میر پوتن کے ترجمان دمیتری پیسکوو نے کہا ہے کہ ’روس نے اپنے سر زمین پر ہونے والے انتخابی عمل کے بارے میں کسی دوسری ملک کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے۔‘

Scroll To Top