خدمت خدمت اور صرف خدمت! 01-11-2012

kal-ki-baat

سب سے پہلے تو جماعت اسلامی میری معذرت قبول کرے۔ میں نے ایم کیو ایم کی ” خدمت ِخلق “ اور جماعت اسلامی کی ” الخدمت “ کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ کراچی میں کھالیں جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی جماعت ”الخدمت“ نہیں ” خدمت ِ خلق “ تھی۔
خدمت دراصل ہمارے سیاستدانوں کا پسندیدہ الفاظ ہے۔ ” خدائی خدمت گار “ کی ترکیب کے بارے میں بھی آپ نے سنا ہوگا۔ باچا خان کے سرخپوش ” خدائی خدمت گار “ کہلایا کرتے تھے۔ جیسے پنجاب کے وزیراعلیٰ اپنے آپ کو ” خادم ِ اعلیٰ“ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔
ہمارے بے شمار غیر سرکاری ادارے ہیں جنہیں ” این جی اوز“ کہا جاتا ہے اور جن کا کام ” خدمت “کے علاوہ اور کوئی ہے ہی نہیں۔ خدمت کے جذبے سے سرشار آپ کو بیگمات کی ایک پوری فصل اِن ” این جی اوز“ میں لہلہاتی نظر آئے گی۔ ان کے زرق برق کپڑے اور بناﺅ سنگھار دیکھ کر آپ کے لئے یہ اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیںہوگا کہ انہیں ” خدمت کرنے “ کا بڑا معقول معاوضہ ملتا ہے۔ اور اگر معاوضہ بھی ڈالروں میں ملے اور بلاناغہ باقاعدگی کے ساتھ ملے تو جی کیوں نہیں چاہے گا کہ خوب دل لگا کر ” خدمت “ کی جائے۔؟
ہمارے روشن خیال کشادہ نظر اور ” مادر پدر آزاد فکر “ دانشور بھی شب و روز خدمت کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ آپ فرخ سلیم کو ہی لے لیں۔ وہ ” سرتاپا“ خدمت ہیں۔ان کی ” ماہرانہ آرائ“ Deductive Logicپر مبنی ہوتی ہیں۔
اس قسم کی منطق کے مطابق ’ گھوڑے کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں اور چا ر ہی ٹانگیں کتے کی ہوتی ہیں’ اس لئے گھوڑا دراصل کتا ہے۔ فرخ سلیم دلائل دے کر آخر میں نتیجہ یہی اخذ کیا کرتے ہیں کہ عمران خان کی پی ٹی آئی کا بننا کچھ بھی نہیں۔ اور چونکہ بننا زرداری کا بھی کچھ نہیں اس لئے اگلے وزیراعظم میاںنوازشریف ہی ہوں گے۔
اگر آپ نے بھی خوشحال زندگی بسر کرنی ہے تو اپنے آپ کو ” خدمت “ کے جذبے سے ” مسلح“ کریں!

Scroll To Top