سانحہ قصور، مافیا اور معاشرتی انحطا ط

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyal


حضرت علی  کا قول ہے۔ ”معاشرے کفر پر قائم رہ سکتے ہیں لیکن ظلم میں نہیں“۔ اس وقت پاکستانی معاشرہ اخلاقی طور پرانحطاط کا شکار ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔معصوم زینب کے دلخراش واقعہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے گو کہ بچوں سے زیادتی کایہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے کہ زینب جیسی ان گنت کلیاں ہر سال درندوں کے ہاتھوں مسلی جا تی ہیں کہ اس سے پہلے بھی محض قصور شہر کی ہی 11بچیاں ایک سال کے اندردرندوں کی درندگی کا شکار ہوکر موت کے گھاٹ اتاری جا چکی ہیں لیکن آج کل جس تواتر سے اس قبیح فعل پر گفتگو ،مباحثے اور احتجاج ہو رہا ہے وہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ جب کہ ماضی میں ایسے جو واقعات رپورٹ ہوئے وہ بھی سیاسی اثرورسوخ ، پولیس گردی اور معاشرتی بے حسی کے باعث بعد ازاں دیمک زدہ الماریوں کی نذر ہو جاتے ہیں بدیں وجہ گذشتہ کئی دہائیوں سے بچوں سے زیادتی، تشدد اور قتل وغارت گری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ضلع قصور جو سنہ 2015 میں ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے خبروں میں رہا۔ اس واقعے کی گونج ساری دنیا میں سنی گئی تھی جس میں انکشاف ہوا کہ کچھ با اثرملزمان نے نہ صرف یہ کہ 286 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی بلکہ انکی ویڈیو بنا کر طویل عرصے تک انہیں بلیک میل کرتے رہے۔جبکہ حقائق کے برعکس صوبائی وزیر قانون نے یہ کہہ معاملہ دبا نے کی بھرپور سعی کی ہے کہ یہ اراضی کا تنازعہ ہے۔ پاکستان میں سال 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 768 واقعات پیش آئے جن میں سے 68 ضلع قصور سے رپورٹ ہوئے۔ گذشتہ دو برسوں میں اسلام آباد، قصور، لاہور، راولپنڈی، شیخوپورہ، مظفرگڑھ، پاکپتن، فیصل آباد، وہاڑی، خیرپور، کوئٹہ، اوکاڑہ اور سیالکوٹ ایسے اضلاع کے طور پر سامنے آئے جہاں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔
لیکن اس بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جہاں سماج دشمن عناصر کی اس ”جنسی سرکشی“پر باشعور افراد تشویش میں مبتلا ہیں۔ وہاں چند درپردہ بااثر عناصر اور ان کے میڈیا ترجمانوں کی پریشانی اور حکومتی ایوانوں کی بھوکھلاہٹ اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ دعوے کیوں کیا کہ قصور میں ہونے والے بچوں پر جنسی تشدد کی واقعات میں بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث ہے جن پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے۔ اس ”جرم“ کی پاداش میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی پھانسی تک کا مطالبہ کر دیا گیا ان عناصر کی طرف سے۔
جبکہ حقیقت ہے کہ گذشتہ روز ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بین الاقوامی پولیس انٹرپول کی نشاندہی پر جھنگ میں چھاپہ مار کر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا۔ جس کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر برآمد ہوا ہے جس میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز کا مواد اور دیگر غیرقانونی سامان بھی شامل ہے۔ ایسا ہی ایک نیٹ ورک حال میں میں سرگودھا سے گرفتار کیا گیا جرمن سفارت خانے کی نشاندہی پر۔ یہ سب بین الاقوامی سفارتحانوں کی نشاندہی پر ہوا ہے۔ مگر حکومتی ترجمان کہتے ہیں کہ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ان کو اتنا ہائی لائیٹ سیاست چمکانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ان واقعات کی آڑ میں آج لبرلز جنسی تعلیم کو تعلیمی اداروں میں عام کرنے کا علم اٹھائے پھر رہے ہیں۔ تعلیمی نصاب میں سے قرآن و سنت کی مضامین نکالنے کے بعد اب جنسی تعلیم کو عام کرنے کے لیے مضمون ترتیب دیا جارہا ہے۔ بد قسمتی سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کوSEX Free State بنایا جا رہا ہے۔مقامی حکومت اور قانون نافذ کر نے والے ادارے مجرمانہ طور خاموش ہیں بلکہ باثر عناصرحکومتی اثرو رسوخ اور میڈیا پریشر کے ذریعے ہر اس آواز کو بھر پور طریقے سے دبا دینا چاہتے ہیں جو اس مکروہ اور وحشانہ دھندے کے خلاف اٹھ رہی ہے۔
اس بیانیہ کو تقویت ان اعداد شمار سے بھی ملتی ہے جو بتاتے ہیں کہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ان واقعات کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔جبکہ حکومتی زعماءاُس وقت تک اِس طرح کی خبروں کا ”نوٹس“نہیں لیتے جب تک درندگی کا شکار اپنی جان سے نہ چلے جائے، یا اس پر کوئی بڑا عوامی احتجاج سامنے نہ آئے۔ پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی آبادی میں گلی محلوں کی بنیاد پر ا±وباش لوگوں نے اپنے اپنے ” انٹرنیشنل کریمنل گروپ“ بنائے ہوئے ہیں۔جس کا ادارک جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جناب شوکت عزیز صدیقی بھی اپنے حالیہ ریمارکس میں کر چکے ہیں ۔جب کہ تشویشناک افسوس کا مقام ہے کہ عموماًیہ کریمنل گروپس کے پاکستانی قانون نافذ کر نے والے اداروں سے رابطے میںہیں ،یہ لوگ جب بچوں کو اغوا کر تے ہیں یا ان پر جنسی تشدد کر تے ہیں تو ان کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔تھانے میں ملزمان کو ”پروٹوکول“ملتا ہے اور مدعی کی تذلیل کی جاتی ہے۔ بعض جگہ تو دونوں پارٹیوں کو سامنے بیٹھا کر باقاعدہ مدعی سے معافی منگوائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لو گ بچوں پر جنسی تشدد کی رپورٹ درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان گروپوں کو سیاسی مافیا کی حمایت اور مدد حاصل ہوتی ہے۔
ان لوگوں کے ساتھ پولیس و سیاسی با اثر افراد کی ملی بھگت نے سماجی منظر نامے کو کو مزید وحشی بنادیا ہے۔ اسی طرح بچوں کے اغواہ کا’کاروبار‘بھی اس وقت پورے زور سے چل رہا ہے۔
قصور کے ایک دیہی علاقے حسین خان والا میں ہونے والے واقعہ نے اصولاًپوری قوم کو ہلا کر رکھ دینا چاہیے تھا، جہاں 300 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور ان کی فحش وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پہ بیچی گئیں۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ اس مکروہ دھند ے کی سرپرستی وہاں با اثر سیاسی شخصیات کر رہی تھیں یہ وجہ ہے کہ اس واقعہ کے پر میڈیا کوریج اور عوامی احتجاج کے بعد بھی بچوں کے لیے حالات یہی ہیں۔
ہمارے سماج پر یہ سماجی و ثقافی یلغار اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب اس کا تدارک نہایت ہی ضروری ہے۔آج اس قبیح فعل کو روکنے کے اشد ضرورت ہے کیونکہ ہماری نسلیں داو¿ پر لگ چکی ہیں۔حکمرانوں کے بچوں کے علاوہ کسی کے بچے محفوظ نہیں ہیں اور خطرات بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں کہ کچرے کے ڈھیر پر جگر گوشوں کے کٹے پھٹے اور زخم زخم لاشے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔اب یہ امر ناگزیر ہے کہ جہاں زیادتی کے مرتکب افراد کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔وہاں مکروہ گرہوں کے سرپرست با اثر عناصر کی نشاندی کر کےانہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی نے کہا تھا کہ : اخلاقی جرائم لازمی طور پر خدا سے بے خوفی اور آخرت سے بے فکری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔آج احیائے اسلامی اور احیائے تہذیب وقت کی اہم ضرورت ہے۔آج قرآن پاک کو نصابی مضمون کے طور پر ترجمے کے ساتھ پڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایک صحت مند اسلامی معاشرہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top