چین قطب شمالی میں بحری گزرگاہیں بنائے گا

hچین نے کہا ہے کہ وہ پولر سلک روڈ بنانے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

چین نے ایسے بحری راستوں کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو قطب شمالی سے گزریں گے اور یہ ایک قطبی سلک روٹ بن جائے گا۔

چین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے کا مطلب ہے قطبِ شمالی سے گزرنے والی بحری گزرگاہیں زیادہ قابل استعمال ہو جائیں گی۔ اِس طرح یہ گزرگاہیں عالمی تجارت کے لیے تیزی سے اہم ہوتی جائیں گی۔

چین کا کہنا ہے کہ اِس منصوبے کے لیے روس اور دیگر قطبی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ چین کے اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں سے تجارتی رابطے قائم کرنا چاہتا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ نامی منصوبے کا مقصد بھی یورپ اور ایشیا کے درمیان بندرگاہوں، سڑکوں اور ٹرینوں کا ایسا جال بچھانا ہے جس کا محور چین ہو۔ اِس کے لیے چین نے ایک کھرب ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ عالمی درجۂ حرارت کے اضافے میں صنعتوں کا اپنا ایک کردار ہے لیکن اِسی وجہ سے تجارت کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں پہلی مرتبہ ایک روسی بحری جہاز نے ناروے سے جنوبی کوریا کا سفر برف توڑنے والے بحری جہاز کی مدد کے بغیر کیا۔

خطۂ قطب شمالی سے متعلق اپنے پہلے سرکاری پالیسی پیپر میں چین نے لکھا ہے کہ ’چین قطبی یا پولر سلک روڈ بنانے کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ ‘

پیپر میں لکھا گیا ہے کہ قطب شمالی کے بحری راستے کو استعمال کرنے کے لیے ہر ملک کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔

یہ شمال مشرقی آبی گزرگاہ چین کو سوئس اور پاناما کینال کے مقابلے میں دنیا کی کئی بندرگاہوں تک ایک تیز رفتارسمندری راستہ فراہم کرتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اِس وقت بذریعہ نہرِ سوئس روٹرڈیم سے چین تک کا سفر 48 روز میں ہوتا ہے جبکہ اِس نئے راستے کی وجہ سے اِس سفر میں 20 روز کی کمی ہو سکتی ہے۔

گرین لینڈ  چین کا کہنا ہے کہ اِس منصوبے کے لیے روس اور دیگر قطبی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے نائب وزیرِ خارجہ نے اِن خدشات کو غیر ضروری قرار دیا ہے کہ چین قطب شمالی کے وسائل کو لوٹنا چاہتا ہے اور وہاں کا ماحول تباہ ہو جائے گا۔

تاہم پالیسی پیپر میں تیل، گیس، معدنیات، ماہی گیری اور دوسرے وسائل کے بارے میں چین کی دلچسپی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین دوسرے ممالک کے تعاون سے یہ سب کرے گا۔

چین کے سرکاری پالیسی پیپر میں کمپنیوں کو قطب شمالی میں سہولتوں کے ڈھانچے کی تعمیر اور کمرشل بنیادوں پر تجرباتی طور پر سفر کی ترغیب دی گئی ہے۔

Scroll To Top