پولینڈ میں ہولوکاسٹ سے متعلق بل پیش، اسرائیل کی تنقید

zاسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے پولینڈ میں پیش کیے جانے والے اس بل کی مذمت کی ہے جس میں پولینڈ میں نازیوں کے بنائے گئے موت کے کیمپس کو پولش کہنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

جاری کیے گئے بیان میں انھوں نے کہا: ‘میں اس بل کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔ تاریخ کو آپ نہیں بدل سکتے اور ہولوکاسٹ کی آپ تردید نہیں کر سکتے۔’

پولینڈ میں پیش کیے گئے اس بل میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اگر نازیوں کے جرائم کے لیے پولینڈ کو مورد الزام ٹھہرائے گا اسے جیل کی سزا سنائی جائے گی۔

توقع ہے کہ یہ بل پولش سینیٹ میں منظور ہو جائے گا جس کے بعد صدر اس پر دستخط کر دیں گے۔

اسرائیل میں متعین پولینڈ کے سفارت خانے کے سینئیر اہلکار کو اسرائیلی وزارت خارجہ نے وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔

یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ پر جرمنی نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا اور ہولوکاسٹ میں لاکھوں پولش شہریوں کو قتل کر دیا گیا تھا جن میں پولینڈ میں مقیم یہودی شہری بھی شامل تھے۔

لیکن پولینڈ ایک طویل عرصے سے اس قسم کے جملوں پر تنقید کرتا رہا ہے جن سے نازیوں کے بنائے گئے موت کے کیمپس کو پولینڈ یا پولش حکومت سے منسلک کیا جائے۔

یہ کیمپ نازیوں نے 1939 میں پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بعد قائم کیے تھے۔

اسرائیلی حکومت کے اہلکاروں نے بھی اس بل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے منظور ہونے سے ہولوکاسٹ کے بارے میں کی جانے والی گفتگو کم ہو جائے گی۔

لیکن پولینڈ کی حکومت نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کا یہ مقصد قطعی نہیں ہے کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں کی جانے والی گفتگو کو کم کیا جائے یا اس کی تردید کی جائے۔

Scroll To Top