نیب ریفرنس: اسحاق ڈار اور اہلیہ کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات پیش

  • الائیڈ بینک پارلیمنٹ ہاﺅس برانچ میں اسحاق ڈار کے اکاﺅنٹ میں 8کروڑ 46 لاکھ 78 ہزار 10 روپے موجود تھے
  • اثاثہ جات ریفرنس میں نادرا کے سابق ڈائریکٹر سمیت 3گواہوں کے بیانات بھی قلمبند،سماعت29 جنوری تک ملتوی

نیب کی ٹیم کا اسحاق ڈار کے گھر چھاپہ

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کےخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس کی سماعت کے دوران اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیز کے اکاو¿نٹس اور گاڑیوں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کےخلاف پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر استغاثہ کے مزید پانچ گواہان کے بیانات قلمبند کر لئے گئے جن میں بینکنگ ایکسپرٹ ظفر اقبال مفتی، نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے برطرف ڈائریکٹر قابوس عزیز اور میں موٹر رجسٹریشن اتھارٹی لاہور کے محمد نعیم کو بطور  گواہ پیش کیا گیا۔استغاثہ کے گواہ ظفر اقبال مفتی نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیز کے مختلف بینکوں میں 15 اکاو¿نٹس ہیں جن میں سے سابق وزیر خزانہ اور ان کی اہلیہ کے نام پر 7 جبکہ کمپنیز کے نام پر 8 بینک اکاو¿نٹس ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تمام بینک اکاو¿نٹس میں مختلف اوقات میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 81 لاکھ سے زائد جمع کرائے گئے تھے جبکہ چیکس اور دیگر ذرائع‘ کے ذریعے ان اکاو¿نٹس میں ایک ارب 55 کروڑ 68 لاکھ 9 ہزار سے زائد کی رقم جمع کروائی گئی۔ظفر اقبال مفتی نے بتایا کہ اگست 2017 تک ان اکاو¿نٹس میں ایک ارب 57 کروڑ 48 لاکھ 91 ہزار روپے سے زائد موجود تھے جبکہ اسحاق ڈار کے الائیڈ بینک پارلیمنٹ ہاو¿س برانچ کے اکاو¿نٹ میں ایک کروڑ روپے سے زائد موجود تھے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی ہدایات پر اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیز کے اکاو¿نٹس کی بینک کریڈٹ ان فلوز رپورٹ تیار کی تھی اور تمام معلومات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے حاصل کیں۔نادرا کے برطرف ڈائریکٹر قابوس عزیز نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ چیئرمین نادرا کی ہدایت پر 21 اگست 2017 کو نیب لاہور میں پیش ہوئے اور نیب کو اسحاق ڈار کے فیملی ٹری سے متعلق دستاویزات پیش کیں تھیں۔قابوس عزیز نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی بیٹی صدیقہ عادل رانا کے حوالے سے ذاتی معلومات بھی نیب کو فراہم کی گئیں جن پر نیب کو فراہم کردہ دستاویزات کے کور لیٹر پر پی ایس ٹو چیئرمین کے دستخط موجود ہیں۔استغاثہ کے گواہ محمد نعیم نے اپنا عدالت کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ وہ نیب کی طرف سے طلبی کے بعد گزشتہ برس 22 اگست کو نیب لاہور میں پیش ہوئے تھے اور نیب کو اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کے نام پر موجود گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کیں تھیں۔اسحاق ڈار کے نام پر موٹر رجسٹریشن اتھارٹی میں تین گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں جن میں 34 لاکھ سے زائد مالیت کی ایل زیڈ ای 19 نمبر گاڑی اسحاق ڈار نے بعد میں اپنی بیوی کے نام پر منتقل کردی تھی۔استغاثہ نے بتایا کہ ایل آر ایس 9700 نمبر کی گاڑی اسحاق ڈار نے سیدہ زہرہ منصور کی نام پر منتقل کردی تھی۔اسحاق ڈار کےخلاف ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے ایک اور گواہ الیکشن کمیشن کے حکام سعید احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ نیب کی طرف طلب کئے جانے پر گزشتہ برس 29 اگست کو نیب لاہور میں پیش ہوئے اور اسحاق ڈار کی طرف سے 2003 سے 2016 کے دوران الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات نیب کو فراہم کیں تھیں۔پروسیکیوٹر کے ایک اور گواہ ایف بی آر ان لینڈ ریونیو زون 5 لاہور کے کمشنر اشتیاق احمد نے عدالت میں اسحاق ڈار کا 30 سال کا انکم ٹیکس ریکارڈ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ ’نیب کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں اسحاق ڈار کے انکم ٹیکس کے حوالے سے معلومات طلب کی گئیں تھیں لہٰذا میں 23 اگست 2017 کو نیب کے سامنے پیش ہوا اور 1986سے 2016 تک کا انکم ٹیکس ریکارڈ تفتیشی افسر کو فراہم کیا۔عدالت نے آمدن سے زائد ریفرنس میں مزید 8گواہوں کو طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے سماعت 29 جنوری تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ اسحاق ڈار کےخلاف ریفرنس میں استغاثہ کے کل گواہان کی تعداد 28 ہے جن میں 18 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرادیئے ہیں۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات احتساب میںعدالت میں پیش
15 اگست کو نیب لاہور کی جانب سے خط موصول ہوا ، 22اگست کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا ، اسحاق ڈار کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرایا ، گواہ نعیم

اسلام آباد(این این آئی)آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات احتساب میںعدالت میں پیش کردی گئی ہیں۔ جمعہ کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کےخلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس کی سماعت جس میں استغاثہ کے گواہ محمد نعیم، ظفر اقبال اور قابوس عزیز پیش ہوئے۔ استغاثہ کے گواہ ظفر اقبال نیب لاہور کے بنکنگ ایکسپرٹ ہیں، محمد نعیم کا تعلق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور سے ہے جبکہ قابوس عزیز سابق ڈائریکٹر نادرا ہیں، گزشتہ سماعت پر ان کا بیان مکمل نہیں ہوسکا تھا۔اس موقع پر عدالت میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں، بینک کریڈٹ رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے۔استغاثہ کے گواہ محمد نعیم نے عدالت کو بتایا کہ 15 اگست کو نیب لاہور کی جانب سے خط موصول ہوا اور 22اگست کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا جس میں اسحاق ڈار اور ان کے فیملی ممبرز کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔سماعت کے دوران استغاثہ کے دوسرے گواہ ظفر اقبال مفتی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگست 2017 کو اسحاق ڈار، فیملی ممبران اور کمپنیوں کے اکاﺅنٹ کی تفصیلات مانگی گئیں، اسٹیٹ بینک نے معلومات طلبی کے لیے مختلف بنکوں کو سمن کیے، رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار، اہلیہ اور کمپنی کے 15 اکاﺅنٹس تھے جن میں 9 اکاﺅنٹس البرکا بنک میں تھے، البرکا بنک میں موجود اکاﺅنٹس میں سے 8 کمپنی جبکہ ایک تبسم اسحاق کا تھا۔استغاثہ کے گواہ ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ الائیڈ بینک پارلیمنٹ ہاﺅس برانچ میں اسحاق ڈار کے اکاﺅنٹ میں 8کروڑ 46 لاکھ 78 ہزار 10 روپے موجود تھے، اسحاق ڈار کے بینک الفلاح کے اکاﺅنٹ میں 49 لاکھ 77 ہزار 781 روپے جبکہ حبیب بینک کے اکاﺅنٹ میں58 لاکھ 83 ہزار 463 روپے موجود تھے۔ انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیز کے اکاﺅنٹس کی بینک کریڈٹ ان فلوز رپورٹ تیار کی جبکہ اکاﺅنٹس کے حوالے سے معلومات اسٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل کیں اور تفتیشی افسر نے نیب کے آفیسر اقبال حسن اور عبید سائمن کی موجودگی میں میرا بیان قلمبند کیا۔عدالت میں سماعت کے موقع پر استغاثہ کے تیسرے گواہ بر طرف ڈائریکٹر نادرا قابوس عزیز کا بیان بھی قلمبند کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نادرا کی ہدایت پر 21 اگست 2017 کو نیب لاہور میں پیش ہوا، نیب کو اسحاق ڈار کے فیملی ٹری سے متعلق دستاویزات پیش کیں، اسحاق ڈار کی بیٹی صدیقہ عادل رانا کے حوالے سے پرسنل انفارمیشن بھی فراہم کی، نیب کو فراہم کردہ دستاویزات ڈیٹا بیس سسٹم سے پرنٹ کیے اور دستاویزات کے کور لیٹر پر پی ایس ٹو چیئرمین کے دستخط ہیں۔استغاثہ کے گواہ محمد نعیم نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی طرف سے طلبی کے بعد 22 اگست کو نیب لاہور میں پیش ہوا اور نیب کو اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کے نام پر موجود گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کیں، اسحاق ڈار کے نام پر موٹر رجسٹریشن اتھارٹی میں 3 گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، 34لاکھ کی ایل زیڈ ای 19 نمبر گاڑی اسحاق ڈار نے بیوی کے نام پر منتقل کردی، ایل آر ایس 9700 نمبر کی گاڑی اسحاق ڈار نے سیدہ زہرہ منصور کے نام پر منتقل کردی۔ محمد نعیم کا کہنا تھا کہ تفصیلات فراہم کرنے کے بعد تفتیشی افسر نے میری فراہم کردہ دستاویزات کا سیزر میمو تیار کیا اور بیان بھی قلمبند کیا۔

Scroll To Top