سرل المیڈا سے شاہد مسعود تک۔۔۔۔۔

27-01-2017

ملک کے معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران علی کے 37 بنک اکاؤنٹس ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم عمران علی انٹرنیشنل پورنوگرافی مافیا کا ایک فعال رکن ہے جو کم سن بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیتے ہیں۔ جنہیں اعلیٰ شخصیات کا تحفظ حاصل ہے۔ اپنے پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے سو موٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ خدارا اس معاملے کو دیکھا جائے۔ اب یہ ایک خبر تھی جو کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو کہ تسلیم کر چکا ہے کہ وہ قصور کی متعدد معصوم بچیوں کے ساتھ اس گھناو ¿نے فعل کا مرتکب ہو چکا ہے۔ جبکہ باوثوق میڈیا ذرائع کے مطابق آخری متاثرہ بچی زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس بچی کے ساتھ متعدد لوگوں نے زیادتی۔ یہاں پر صرف ایک شخص کو مجرم قرار دے کر باقی کرداروں پر پردہ پوشی بہت سوالات جنم لیتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے سو موٹو ایکشن لیا اور تحقیقات کا حکم دے دیا۔ خیال رہے کہ پاکستان سے اس قسم پونوگرافک ویڈیوز باہر بیچنے کے لیے متعدد واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک گھناؤناکردار جرمن صفارت خانہ کے کہنے پر ایف آئی اے نے پکڑا۔ جس کا کیس ابھی عدالت میں چل رہا ہے۔ جبکہ آئے روز ایسے متعدد اندوہناک واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔

لیکن سپریم کورٹ کا نوٹس لینے کی دیر تھی کہ ہر طرف حکومتی حلقوں میں بھونچال آگیا۔ یہ امر میری ناقص سمجھ سے بالا تر ہے کہ مخصوص حکومتی حلقوں میں اس قدر ہلچل کیوں مچی ہوئی ہے۔ جبکہ الزامات تو چند مکروہ کرداروں کے بارے میں ہیں۔ حتیٰ کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل پنجاب سپریم کورٹ پہنچ گئیں اور استدعا کی اس کیس کو نہ سنا جائے۔پنجاب گورنمنٹ خود ہی تحقیقات کر لے گی۔

اب فوری طور پر اسٹیٹ بینک کی رپورٹ بھی حکومت کی طرف سے نشر کئی گی اور دعویٰ کیا گیا کہ شاہد مسعود کیس پر اثر انداز ہوا ہے۔ جبکہ حکومتی ایماءاور لفافے کی بنیاد پر کئی نام نہاد صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کی اس خبر کو بھونڈے دعوے اور غلط خبر قرار دے کر پوری شدت سے اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ چونکہ اس خبرسے ملکی بدنامی ہوئی اس لیے شاہد مسعود کو سزا بھی دی جائے اور اسے فوراًصحافت بھی چھوڑنی چاہیے۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر موجود حکومتی نژاد حلقوں نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ان سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرشاہد مسعود نے غلط خبر دی اور اپنے مبینہ جھوٹے دعوو ¿ں سے پاکستان کی دنیا بھر میں ہتک عزت کا سبب بنے۔جبکہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کتنی سچی اور کتنی جھوٹی اس کا فیصلہ تو ابھی سپریم کورٹ میں ہونا باقی ہے۔ میراان ”ملکی سلامتی کے نام نہاد محافظوں“سے سوال اتنا ہے کہ یہ خبر کیا سرل المیڈا کی ڈان لیکس میں ملکی اداروں کےخلاف چھاپی گئی جھوٹی خبر سے زیادہ ملکی سلامتی کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے جوکہ کسی ملکی ادارے نہیں بلکہ ایک جرائم پیشہ مکروہ شخص کے بارے میں کیا گیا ہے۔

شاہد معسود کی خبر جھوٹی نکلنے کے لیے صورت میں پھانسی اور صحافت کو خیر باد کرنے کی صحافت کو خیرباد کہنے کی سزا تجویز کرنے والے سب سے پہلے سرل المیڈا کی لیے پھانسی کا تقاضہ کریں۔ مگروہاں تو یہ سب متحد تھے اور معصر تھے اس بات پر کہ ”جناب آپ صحافی سے نہیں پوچھ سکتے کہ اس نے اس قدر حساس نوعیت کی میٹنگ کی خبر کس ذرائع سے چھاپی؟ کیوں چھاپی؟ کس مقصد کے تحت چھاپی؟۔ جناب آپ اس خبر کی تردید یا تصدیق کر دیں صحافی کو کچھ نہیں کہہ سکتے “۔۔یعنی ثابت یہ ہوا ہے کہ پاک فوج اور ملکی سلامتی اداروں پر جھوٹے الزامات اور انٹرنیشنل ایجنڈے کے طابع ملکی بدنامی پر ان لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔ جبکہ قصور جیسے چھوٹے سے شہر میں کئی سالوں سے معصوم بچوں کے ساتھ پے در پے اس طرح اندوہناک واقعات پر حکومتی مجرمانہ خاموشی کسی سے پنہاں نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ڈان لیکس سیکنڈل سے بھارت کے اس بیانے کو بھرپور تقویت دی گئی کہ پاکستان کی فوج دہشتگرد پالتی ہے۔ اورآج تک امریکہ اوربھارت اسی بیانیے کی بنیاد پر پاکستان پر لاتعداد ہرزہ سرائی کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز ہی امریکہ نے ایک بار پھرڈان لیکس کے مرکزی کردار حافظ سعید کے خلاف کاروائی کا پھر مطالبہ کر دیا ہے۔ یکن سرل المیڈا کا عمل ان خود ساختہ منصف نما صحافیوں اور وزیروں کے لیے نہ تو قابل مذمت ہے نہ قابل سزا، نہ ملکی سلامتی کا مسئلہ۔

یہ بدلے ہوئے معیار صاف بتاتے ہیں کہ معاملہ کچھ اور ہے۔۔۔۔۔۔۔مخصوص حکومتی وغیر حکومتی حلقوں کی اس قدر بوکھلاہٹ اور پریشانی بہت سے سوالوں کو جنم دی رہی ہے۔ جن کی معتبر حساس اداروں کے ذریعے بالکل شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ورنہ زینب جیسے حادثات اس وطن عزیز کی سرزمین پر وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔

٭٭٭٭٭

Scroll To Top