کشمیریوں نے بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا

  • قابض بھارتی فوج کی پوری وادی میں پابندیاں اورتلاشی کی کارروائیاں،سرینگر کے تمام راستوں پر ناکہ بندی
  • بڑی تعداد میں فوجی تعینات،شہروں اور قصبوں میں بھارتی غیر قانونی تسلط کےخلاف احتجاج کیلئے سیاہ جھنڈے لہرائے

کشمیریوں نے بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا

سرینگر (این این آئی) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیابھر میںمقیم کشمیریوں نے جمعہ کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایاجس کامقصد عالمی برادری کوباور کراناتھا کہ بھارت کا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ مکمل طور پر گمراہ کن ہے کیونکہ وہ کشمیریوںکو ان کا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دینے  سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے د ی تھی ۔آج مقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال کی گئی اور دنیا بھر کے دارلحکومتوںمیں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر پورے مقبوضہ کشمیر خاص طورپر سرینگراور جموں کامحاصرہ کر لیا ۔مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میںہزاروں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکو تعینات کیاگیا تھا،جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔ فورسز اہلکار مختلف علاقوں میں اچانک چھاپوں کے علاوہ سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشیاں لیں۔تما م کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر گاڑےوں کی آمد ورفت معطل رہی۔سرینگر سمیت تمام بڑے قصبوں کی سڑکوں پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار گشت کر رہے ہیں اور سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جموں کے مولاناآزاداسٹیڈیم اورسرینگر کے سونہ وارکرکٹ اسٹیڈیم جہاں یوم جمہوریہ کی سرکاری تقاریب منعقد ہوئیں کے نواحی علاقوں کو فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کردیاگیا تھا ،اہم عمارتوں پر شارپ شوٹرز تعینات تھے اور تین حصار پرمشتمل سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے ۔ سرینگر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر کی ناکہ بندی کی گئی تھی ۔ بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود سرینگر ، بارہمولہ، اسلام آباد اور وادی کشمیر کے دیگراہم شہروں اور قصبوں میں لوگوںنے بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف احتجاج کیلئے سیاہ جھنڈے لہرائے ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے اجتناب کیلئے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکو الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی تھی،جبکہ سرینگر شہر میں مزید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے اور شہربھر کی سڑکوںپر پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری گشت پر ماموراور مذید فوجی بنکر قائم کئے گئے تھے ۔ اسٹیڈیم کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور صرف فوجیوںاور سرکاری گاڑیوں کو ہی جانے کی اجازت تھی ۔ سرینگر جموں شاہراہ پراور ریلوے سٹیشن بانہال کی سیکورٹی سخت اور مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور راستوں پر فورسز کا گشت بڑھادیا گیاتھا۔انتظامیہ نے حریت رہنماﺅں سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمرفاروق ،محمدیاسین ملک ، محمد اشر ف صحرائی ، مختار احمد وازہ اور ہلال احمد وار کو بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں میں نظربند یا حراست میں رکھا ۔ انتظامیہ نے پورے مقبوضہ علاقے میں موبائیل اور انٹرنیٹ سروس معطل رکھیں۔

Scroll To Top