بھارتی یومِ جمہوریہ اور مقبوضہ کشمیر

  • زین العابدین

انسانی حقوق کا عالمی منشور جس پر بھارت سمےت اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک نے دستخط کررکھے ہےں، ہر انسان کے اس بنیادی او پےدائشی حق کو تسلیم کرتا ہے کہ اسے اپنی مرضی اورمنشاءکے مطابق جےنے کا حق حاصل ہے۔ اسی جمہوری اصول کے تحت 1947مےں تقسیمِ ہند کے منصوبے مےں یہ طے پاےا کہ تمام آزاد ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہو گاکہ وہ اپنے عوام کی خواہشات، جغرافیائی، تہذیبی و ثقافتی اور مذہبی روابط کو مدِّنظر رکھتے ہوئے انہیں نئی قائم ہونےوالی ریاستوں پاکستان ےا بھارت مےں سے کسی اےک کےساتھ الحاق کرنے ےا اپنی آزاد حےثیت کو برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہو گا۔جہاں تک جموںو کشمیر کی ریاست کا تعلق ہے تو اسکا المیہ یہ تھا کہ اس مےں مسلمان اکثریت مےں تھے لےکن یہاں ہندو ڈوگرا مہاراجہ کی حکومت تھی جسکے ظلم و ستم اور جبر واستبداد کے طریقوں اور ہتھکنڈوں نے کشمیری عوام کی زندگی کو جہنم بنا رکھا تھا۔ اس سے پہلے رواداری، تحمل و برداشت اور آزادی کشمیریوں کی زرّیں رواےات کا حصہ تھے۔یہاں یہ بات ےادررکھنے کی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاست کو تاجِ برطانیہ نے 1846مےں اےک معاہدے کے تحت اسکی تمام املاک اور رہنے والوں سمےت محض 75لاکھ کی حقیر رقم کے عوض ڈوگرا مہاراجہ کو بےچ دیا تھا۔ ڈوگرا مہاراجہ نے اپنی حکومت کے قائم ہوتے ہی قابض قوت کی حےثیت سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئےے۔ بھاری ٹےکسو ں کے اےک غےرمنصفانہ نظام کے ذریعے کشمیریوںکا معاشی استحصال کیا گےا۔ سیاسی و مذہبی آزادی کوسلب کر دیا گےا۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگادی گئی۔ کسی کو سیاسی و مذہبی اجتماع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی ماحول مےں 1931مےں کشمیریوں نے ڈوگرا مہاراجہ کےخلاف علم بغاوت بلند کردیا اورآزادی کی تحریک نے جنم لیا۔
یہ وہ وقت تھا جب متحدہ ہندوستان مےں برطانوی سامراج سے آزادی کی تحریک عروج پر تھی ۔ مسلمانوںنے اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے الگ ملک “پاکستان “کا مطالبہ کیا تو یہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز بن گےا جس مےں کشمیری بھی برابر کے شریک تھے۔ تاریخی نکتہ¿ نظر سے دےکھا جائے تو جموں و کشمیر کے رہنے والے ہر اعتبار سے ان علاقوں اور لوگوں سے جڑے ہوئے تھے جنہیں پاکستان کا حصہ بننا تھا۔جموں و کشمیرکو بھارت کےساتھ منسلک کرنےوالا کوئی زمینی راستہ بھی موجود نہ تھا۔ لہٰذا کانگرس کی ہندو قیادت نے برطانیہ کےساتھ ساز باز کی اور رےڈ کلف اےوارڈ مےں گورداس پوراور فےروز پور کے اضلاع جو پاکستان کا حصہ تھے ، بھارت مےں شامل کر دئےے گئے ۔ ان اضلاع کو بھارت کا حصہ بنا کر اسے جموں و کشمیر تک زمینی راستہ فراہم کردیا گےا۔
پاکستان کے قیام کے وقت جموں و کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ نے عوامی خواہشات کےمطابق پاکستان کےساتھ الحاق کرنے کی بجائے پاکستان کےساتھ معاملات کوجُوں کا تُوں رکھنے کا معاہدہ کر لیا اور پاکستان کےساتھ الحاق کو مو¿خر کر دیا۔ لےکن کشمیریوں پر بھارت کی نےت کا فتور واضح ہو چکا تھا اسلئے کشمیریوں نے اپنی آزادی کا نعرہ لگاتے ہوئے ڈوگرا مہاراجہ کےخلاف آزادی کی تحریک کا اعلان کردیا ۔ بتیجتاً ڈوگرا مہاراجہ سرینگر سے بھاگ گےا اور بھارت کےساتھ اس بدنامِ زمانہ الحاق کی دستاوےز پر دستخط کئے جسے کشمیریوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بھارت نے ا س جعلی دستاوےز کا سہارا لےتے ہوئے اپنی قابض افواج سرینگر مےں داخل کر دیں اور جموں و کشمیر مقبوضہ جموں و کشمیر مےں تبدیل ہو گےا۔ جہاں ظالم ڈوگرا مہاراجہ کی افواج کی جگہ بھارت کی قابض افواج نے لے لی۔ اس فوج کو مزید طاقت کا حامل بنانے کےلئے کالے قوانین کا سہارا لیا گےا اورپچھلی سات دہائیوں کے دوران بھارتی افواج نے انسانی آزادی اور بنیادی حقوق کی دھجیاں بکھےر دی ہےں اور اس کے باوجود وہ جمہوری امن پسند اور انسانی حقوق کا چےمپ¿ن کہلوانے پر بضد ہے ۔
بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرنے کے بعد اقوامِ متحدہ کا رخ کیا اور کشمیریوں کو یہ ےقین دلاےا کہ انہیں اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا جائےگا ۔ پنڈت نہرو نے بارہا اس بات کا اعلان کیا کہ کشمیر کے الحاق کا فےصلہ کرنا ابھی باقی ہے جسے جمہوری طریقے سے حل کیا جائےگا اور کشمیریوں کی خواہشات اور دلی تمناو¿ں کے مطابق مقبوضہ وادی مےںاقوامِ متحدہ کے زےرِ نگرانی استصوابِ رائے کرواےا جائےگا۔ مگر آج بھارت اقوامِ متحدہ کی ان قرار دادوں سے ہی منکر ہو گےا ہے اور لاکھوں کشمیریوں کے جمہوری حقوق کا غاصب بنا بےٹھا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو اپنا “اٹوٹ انگ” کہنے پر مُصر ہے جسے کشمیری عوام کسی صورت قبول کرنے پر تےّار نہیں اور وہ اپنے جمہوری حق کے حصول کےلئے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہےں، اور پر عزم ہےں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہیگا۔
ہرسال26جنوری کو بھارت اپنا “ےومِ جمہوریہ” مناتا ہے لےکن دنیا بھر مےںبسنے والے کشمیرسی اس دن کو “ےومِ سیاہ” کے طور پر مناتے ہےں کیونکہ جب تک کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق نہیں ملتا بھارت اپنا ےومِ جمہوریہ منانے کا حق دار نہیں۔ اسلئے کشمیری بھارت کو یہ ےاد دلاتے ہےں کہ پچھلی سات دہائیوں سے اس نے لاکھوں کشمیریوں کو انکے پےدائشی اور جمہوری حق سے محروم کر رکھا ہے۔ کشمیری بھارت کو یہ احساس بھی دلاتے ہےں کہ جب تک بھارت کشمیریوں کو انکے حقِ رائے دہی اور استصوابِ رائے سے محروم رکھے گا بھارت کو اےک جمہوری ملک کہلوانے کا کوئی حق نہیں۔بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سےکولر ریاست کے طور پر پےش کرتا ہے لےکن اس جمہوری جھنڈے تلے انسانی حقوق کی جس قدر پامالیاں بھارت اور اسکی افواج کررہی ہےں اسکی نظیر ملنا مشکل ہے۔ جہاں بھارتی ریاست کا جمہوری چہرہ لاکھوں کشمیریوںکے خون سے آلودہ ہے،وہیں بھارتی جمہوریت مسلمانوں، سکھوں، مسیحیوں اور دلتوں کے خون کے چھینٹوں سے بھی داغ داغ ہے۔ بھارت اسی صورت مےں جمہوری اور انسانی حقوق کا علمبردار بن سکتا ہے جب وہ کشمیریوں کو بھی انسان سنجھتے ہوئے انکے حقوق کی پاسداری کرے اوران کے ساتھ کیا گےا وعدہ پورا کرے اور وادی مےں اپنی قابض افواج کا انخلاءےقینی بنائے، کالے قوانین کو منسوخ کرے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ کشمیریوں کی دلی تمناو¿ں کا احترام کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد از جلد رائے شماری کرائے اور اپنے جمہوری ہونے کا حق ادا کرے ۔ صرف اسی صورت مےں بھارت اپنے ےومِ جمہوریہ کو منانے کا مستحق ہے۔

Scroll To Top