اایک اور ڈرون حملہ ہوگیا

zaheer-babar-logo

امریکہ کی جانب سے ایک اور ڈورن حملے کو دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی اس بداعتمادی کے ثبوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو تاحال ختم ہونے کا نام لے رہی۔ کرم ایجنسی میںہونے والی کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ یہ کاروائی افغان مہاجرین کے کمیپ پر کی گی جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ اس نے حقانی نیٹ ورک کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا ۔“
مبصرین کا کہنا ہے کہ مسبقل قریب میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی زیادہ امید نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میںاپنی ناکامی کو بنیاد پاکستان کو دباو میں رکھنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی پر عمل پیراءہے، جیسا کہ خود امریکہ حکام اس کا اعتراف کرچکے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کا اب مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اپنے بڑے حریف ملکوں چین اور روس کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی قوت کو روکنا ہے۔ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ حقیقت میں افغانستان میںامن وامان کی خراب صورت حال واشنگٹن کو پڑوسی ملک میں رہنے کا جواز فراہم کررہی لہذا امریکہ بہادر کیوں چاہے گا کہ وہ افغان طالبان سے مذاکرت کے زریعہ افغان سرزمین کو پرامن بنانے کا کارنامہ سرانجام دے ڈالے۔ کئی دہائیوں سے جنگ سے تباہ حال ملک ماضی کی طرح اب بھی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک دوسرے سے بدلے چکانے کی سرزمین بن چکا۔ یہ امید کرنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں کہ افغان قیادت خود اپنی فہم وفراست سے مسائل کو حل کرنے کا فریضہ سرانجام دے ڈالے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں آگے بڑھ رہی، یقینا اس کا جواب اثبات میں نہیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو سالوں رکھ کر بھی افغانوں کے دل وماغ میں ہم اپنی جگہ نہیں بناسکے۔ اسے مودی سرکار کی مکاری کا نام دیا جائے یا بہترین سفارتکاری کہ کابل سمیت پور ے افغانستان میں پاکستان کی کہیں بھی قابل زکر حمایت موجود نہیں۔ افغانستان کے سیاست دان ، صحافی ، کاروباری افراد محکمہ تعلیم سے وابستہ لوگ غرض عوام کی اکثریت اس رائے کو تسلیم کرچکی کہ پاکستان افغان سرزمین پر بدامنی کرنے والوں کو پناہ فراہم کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کو سوچنا چاہے کہ وہ کون سے وجوہات ہیں جن کے سبب افغانستان ہم سے تیزی سے دور ہوچکا۔
عالمی تعلقات میںاتار چڑھاو ہرگز غیر معمولی بات نہیں، دراصل جو چیز ریاستوں کے درمیان مسقل رہتا ہے وہ مفاد ہے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان کے اب افغانستان سے مفادات وابستہ نہیں رہے۔ اس سچائی سے تو ہم باخوبی واقف ہیںکہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں۔ ہمیں اپنی پالیسی کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔آج بھی ہمارے ہاں ہزاروں نہیںلاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا ان میں چند ہزار بھی ایسے نہیں جو پاکستان کا دوستانہ تشخص اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ یقینا یہ تاثر ختم ہونا چاہے کہ چین پاکستان پر اثر انداز ہورہا۔ چین اور بھارت کی کشدیگی اپنی جگہ جو کام ہمیں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ صرف اور صرف قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھاجائے۔
افسوس کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بطور پانی وبجلی کے وفاقی وزیر بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ بہت آسان ہے کہ اپنی ناکامیوںکا بوجھ دوسروں پر لاد کر خود سرخرو ہونے کی کوشش کی جائے۔ مسلم لیگ ن کم وبیش پانچ سال سے اسی حکمت عملی پر کاربند نظر آتی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے تھوڈے یا زیادہ کے فرق کے ساتھ چار سال تک وزارت خارجہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا مگر جس طرح وہ دیگر کئی محاذ پر ناکام رہے اس اہم شعبہ کی بہتری پر بھی توجہ نہ دے سکے۔
تجربہ کار کہلانے کی دعویدار مسلم لیگ ن علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی کامیابیوں کی داد حاصل کے سرخرو نہ ہوسکی۔ مخالفین کے بعقول حکمران جماعت نے ثابت کردیا کہ وہ کسی طور پر پاکستان جیسے ملک پر حکومت کرنے کے قابل نہیں جس چند ایک نہیں درجنوں مسائل درپیش ہیں۔ ستم بالاستم یہ کہ میاں نوازشریف نے بطور وزیر اعظم وزرات خارجہ سمیت کسی بھی شعبہ میں بازپرس کا وہ کلچر پروان نہ چڑھایا جس کی بجا طور پر ان سے توقع کی جارہی تھی۔
آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو داخلہ اور خارجہ محاذ پر کئی مشکلات ہیں مگر مسلم لیگ ن کی حکومت عدالت عظمی سے نااہل ہونے والے میاں نوازشریف کے دفاع میں اپنی تمام تر صلاحتیںوقف کیے ہوئے ہے۔ 2018 عام انتخابات کا سال ہے مگر بظاہر حکمران جماعت کے پاس کوئی بھی ایسی قابل زکر کامیابی نہیں جو اسے باآسابی انتخابی دنگل میں سرخرو کردے۔ میاں نوازشریف قومی اداروں کو ہدف بناتے ہوئے آئے روز یہ دعوے کررہے کہ اگر وہ وزرات عظمی کے منصب پر براجمان رہتے تو مملکت خداداد پاکستان میں سب اچھا ہی کی رپورٹ ملتی۔
حکمران جماعت سے سنجیدگی اور زمہ داری دکھانے کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آج کا پاکستان نوئے کی دہائی کا ملک نہیں رہا۔ دوہزار سترہ کے پاکستان میں شہریوں کو بے وقوف بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوچکا۔حالات کی سنگینی تقاضا کررہی کہ امریکہ سمیت تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پارلمینٹ اپنا کردار ادا کرے جو تاحال بنیادی مسائل سے بڑی حد تک لاتعلق دکھائے دیتی ہے۔

Scroll To Top