پاکستان کی عیسائی برادری پر حملے ایک سازش اور اسلام کو بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہیں

  • افتخار حسین

۱۷ دسمبر ۲۰۱۷ کو کوئٹہ میں ایک چرچ پر خودکش حملے کرکے عیسائی برادری کے ۹ افراد کو ہلاک اور ۵۶ کو زخمی کردیا گیا۔داعش نے یہ حملہ کرسمس سے چند روز قبل کیا تاکہ دشمن قوتوں کی ایماء پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جاسکے۔ دہشت گرد ملک بھر میں خودکش حملوں سے مسجدوں کو تباہ کر رہے ہیں اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔مسیحی برادری پر حملے انہیں مظالم کا شاخسانہ ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم مساوی طور پر ان کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل علماءاور عام مسلمانوں کے لیے بھی کبھی قابلِ قبول نہیں رہا۔ تا ہم جہاں عام مسلمان آئے روز دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں وہیں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں۔عیسائی برادری کے نام میں دہشت گردی کو جائز قرار دینے کی کوشش کرنا ایک گمراہ کن عمل ہے اور ہم چند حقائق قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ مسیحی برادری کے لوگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا ناجائز اورظ±لم ہے اور یہ داعش کی گ±مراہ کن نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔
للہ تعالیٰ سورة المائدہ کی آیت نمبر ۸۲ میں فرما تے ہیں “مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں سخت یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی میں قریب وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم نصاریٰ ہیں۔ کیونکہ ان میں راہب بھی ہیں اور عالم بھی ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے”۔ قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں عیسائیوں کے ساتھ نہ صرف امن کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتی ہے بلکہ ان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ترغیب بھی دلاتی ہے۔ تنہا یہی آیت داعش کی گمراہ کن سوچ کی نفی کرنے کے لیے کافی ہے۔لہذا عیسائیوں پر حملوں کی حمایت کرنا اور شرعی طور پر اِسے ایک درست فعل قرار دینا صریحاًغلط ہے۔ مذہبی منافرت کی بنا پربے گناہ بچوں اور عورتوں کے قاتل قرآن اور نبی کریم کی سخت نافرمانی کے مرتکب ہوں گے۔تمام علماءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام اقلیتوں کو بالعموم اور اہلِ کتاب کو بالخصوص امن کی ضمانت دیتا ہے اور ان کی جانوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔مسلمان علماءکے متعددفتوے ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گرد اہل کتاب پر حملے کر کے غیر اسلامی اور غیر انسانی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
نبی کریم نے عیسائیوں سے دوستی، تعاون اور امن کا رویہ برتا۔ درحقیقت مسلمانوں کی پہلی پناہ گاہ ایک عیسائی حکمران ہی بنا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے نبی کریم کی ہدایات پر پہلی ہجرت حبشہ کی طرف کی۔ وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو کفارِ مکہ کے مظالم سے مکمل تخفظ فراہم کیا۔ جب نجران کے عیسائی نبی کریم سے دین کے معاملات پر بحث کرنے کے لیے مدینہ آئے تو آپ نے انھیں اپنی مسجد میں تین دن ٹھہرایا۔ آپ نے انھیں مسجدِ نبوی میں اپنی عبادت کرنے کے لیے جگہ بھی مہیا کی۔ ان عیسائیوں کی درخواست پر نبی کریم نے انھیں امن کے معاہدے کے ساتھ مدینے سے رخصت کیا۔ نبی کریم کا یہ طرزِ عمل ہم سب کے لیے رہنما ا±صول ہے اور اسلام میں عیسائیت کے احترام کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ حقائق بھی داعش کے ظلم پر مبنی خیالات اور اعمال کو رد کرتے ہیں۔
سورة الحج کی آیت نمبر ۴۰ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” اگر ہم ایک کو دوسرے کے ذریعے سے نہ روکے رکھتے تو خانقاہیں، گرجا گھر، یہودی معابد اور مسجدیں جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے کب کے گرائے جا چکے ہوتے” قرآن کی یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کو ہر گز مقصود نہیں کہ مسلمان دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائیں یا ان پر قبضہ کر لیں۔ بلکہ اللہ انسانوں کو ایسا کرنے سے اپنی قدرت اور رحمت کے ذریعے روکے ہوئے ہیں۔ لہذا اسلام کا اصل درس سبھی مذاہب کی عبادت گاہوں کا تقدس اور تحفظ ہے اور شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے۔ مسیحی برادری پر حملے اور معصوم بچوں اور عورتوں کی ہلاکت کو جائز قرار دینے والے داعش کے رہنما اسلام، قرآن اور نبی کریم کے احکامات کی شدید خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں کا جو تقدس اسلام میں ہے وہ بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمر© کے طرزِ عمل سے صاف عیاں ہوتا ہے۔ وہاں کے عیسائیوں نے آپ کو دعوت دی کہ آپ ان کے گرجا گھر میں نماز ادا کر لیں مگر آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے اس عمل کو حجت بنا کر مسلمان اس گرجے کو زبردستی مسجد نہ بنا لیں۔ لہذاداعش کے رہنماکچھ ہوش سے کام لیں اور اس گمراہی سے باہر نکلیں جس میں وہ بھٹک رہے ہیں۔
اسلام میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی کوئی گنجائش نہیں اور قرآن مجید کی متعدد آیا ت ایسی روش کی مذمت کرتی ہیں۔لہذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ، داعش اور طالبان کی جہالت ان کے فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرت پر مبنی نظریات کا باعث ہیں۔یہاں ہم قرآنی آیات کی روشنی میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی اسلام میں نا پسندیدگی کو مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔سورة البقرہ کی آیت ۲۵۶ میں اللہ کا ارشاد ہے کہ “دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔”یہ آیت ہمیں بڑا واضح حکم دیتی ہے کہ اسلام میں دینی معاملات میں جبر اور زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔چنانچہ سورة یونس کی آیت ۹۹ میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے “اگر آپ کا پروردگار چاہتا توزمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے۔ تو کیا آپ لوگوں پر سختی کرناچاہیں گے یہاں تک وہ ایمان لے آئیں”۔اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحان و تعالیٰ کا نبی کریم کو اسلام کی تبلیغ میں سختی برتنے سے منع کرنا ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ سورة الکافرون سے بڑھ کر فرقہ وارنہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پر کوئی سبق نہیں ہو سکتا۔سورة الکافرون میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے آپ فرما دیجیے کہ”اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا تم جس کی عبادت کرتے ہو۔میں جس کی عبادت کرتا ہوں تم اس کی عبادت نہیں کرتے۔میں اس کی ہرگز عبادت نہیں کروں گا جس کی عبادت تم کرتے ہو۔تم اس کی عبادت نہیں کرو گے جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین”۔اس سورة مبارکہ کا پیغام بڑا واضح اور پر زور ہے۔ مسلمانوں کو دیگر فرقوں یا مذاہب کی عبادت اور ان کی عبادت گاہوں میں ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔یہی ہمارے دین کا درس ہے اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔
ان آیات کی روشنی میں اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلا م میں فرقہ واریت ،مذہبی انتہا پسندی اور منافرت کی ہرگز گنجائش نہیں۔لہذا عوام کو ہر قسم کے گروہ سے اجتناب کرنا چاہیے جوا سلام کے نام میں جبر اور تشددکرنے کے مرتکب ہوں۔ القاعدہ ،داعش اور طالبان اپنی جہالت کے سبب سے قرآن کی محض جہاد سے متعلق آیت کی غلط تشریح پیش کرتے ہیں اور یہ گروہ قرآن کی مکمل تعلیمات سے
آگاہی نہیں رکھتے۔سورة الحجرات کی آیت ۹۱،۹۲ میں اللہ کا فرمان ہے۔”اور جنھوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا آپ ﷺکے پروردگار کی قسم ، ہم ان سب کاضرور مواخذہ کریں گے”۔یقیناً یہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ ایسے ہی انجام کے مستحق ٹھہریں گے۔ ہمیں اس انجام سے بچنے کے لیے ان گروہوں کو مکمل طور پر رد کردینا چاہیے۔
اسلام امن کا دین ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ ونسل سے ہو،جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو ہمیشہ بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ عہدِ رسالت مآب ﷺہو یا دورِ صحابہ اکرامؓ، اسلامی تاریخ غیرمسلم شہریوں سے مثالی حسن سلوک کے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ دیگر مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد اسلامی ریاست میں ہمیشہ سے ہی ±پر سکون زندگی گزارتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی ہمیشہ سے ہی امن و امان سے اپنی زندگیاں بسر کرتی رہی ہیں جہاں انھیں اپنی مکمل مذہبی آزادی حاصل رہی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں دہشت گرداپنے ناپاک عزائم کے لیے انھیں اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان سفاک دہشت گردوں کے قبیح افعال اسلام کے چودہ سو سالہ روشن چہرے کو بھی داغ دار بنا رہے ہیں اور اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ ان ظالم دہشت گردوں کے ہاتھوں مساجد ، مدارس، امام بارگاہوں، محرم کی مجالس نمازِ جنازہ اور گرجا گھروں کی مسلسل پامالی ہو رہی ہے۔انھوں نے کسی بھی عبادت گاہ کا کوئی تقدس سلامت نہیں چھوڑا۔

Scroll To Top