ہمارے بچوں کی موت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کتنی پستی میں گرچکے ہیں، نادیہ جمیل

sزینب کےانصاف کیلئے آواز اٹھانے والوں میں نامور اداکارہ نادیہ جمیل پیش پیش رہیں؛ فوٹوفائل

لندن: قصور کی معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی بہیمانہ زیادتی اور قتل کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ نادیہ جمیل پیش پیش رہیں۔

نادیہ نے نہ صرف زینب کے قتل کی مذمت کی بلکہ احتجاجاً اپنے ساتھ ہونےوالے جنسی ہراسانی کے واقعات کو دنیا کوبتا کرباورکرایا کہ بچوں کے ساتھ ہونے والے اس گھناؤنے فعل کے بارے میں اب خاموش رہنے کی نہیں بلکہ بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی آواز اتنی موثر تھی کہ بیرون ممالک بھی اس کی گونج سنی گئی۔

نادیہ جمیل نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں معاشرے میں پھیلی بے راہ روی کے لیے نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اتنا گھٹیا معاشرہ بن چکے ہیں کہ ہمارے بچوں کی موت ہمیں سکھاتی ہےکہ ہم کتنی پستی میں گرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کبھی کسی بچی کی لاش کی تصویر ٹوئٹر یا فیس بک پرشیئر نہیں کرتی لیکن میں نے زینب کی تصویر شیئر کی، حالانکہ ایسا کرتے ہوئے مجھے بہت برا لگا لیکن یہ لازم تھا کہ میں اس کی گلابی رنگ کے کورٹ میں ملبوس مسکراتی ہوئی کانفیڈنٹ اور شرارتی لڑکی کی تصویر کے ساتھ اس کی کوڑے کے ڈھیر پر موجود  ٹوٹی ہوئی لاش کی تصویر شیئر کروں اور لوگوں کو دکھاؤں کہ دیکھو یہ اپنا مستقبل جو تم لوگ بنارہے ہو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل پر پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہوا لیکن صرف زینب کی بات نہیں ہے اخبارات میں روزانہ اسی قسم کی 5 سے 6 خبریں موجود ہوتی ہیں تو اس میں نیا کیا ہے، 2015 میں بچوں  کے ساتھ زیادتی اور قتل کے 200 سے 300 کیسز رپورٹ ہوئے لیکن یہ وہ کیسز ہیں جو منظرعام پر آئے تاہم یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

واضح رہے کہ نادیہ جمیل اس سے قبل اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی کے متعدد واقعات کو ٹوئٹر پر شیئر کراچکی ہیں کہ کس طرح بچپن میں انہیں ان کے قاری، ڈرائیور اور ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص نے ہراساں کیا بعد میں لندن میں ایک شادی شدہ بزنس مین نےان کے ساتھ یہی فعل کیا۔

Scroll To Top