افغان مہاجرین اور ےورپ مےں جرائم

  • یہ آرٹیکل فرانسیسی رائٹرDidier Chaudet کے آرٹیکل کا اردو ترجمہ ہے

شام، عراق اورافغانستان کے مہاجرین کا ےورپ مےں آنےوالا سےلاب اب اخباروں کی شہہ سرخیوں کا سبب نہیں بنتا لےکن آج بھی مہاجرین کی ےورپ مےں آمد کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد تو اس سےلاب مےں مزید تےزی آنے کا امکان ہے۔افغانستان کے مسئلے کو خالصتاً فوجی نکتہ¿ نظر سے دےکھنے اور وہاں ہونےوالی بھاری گولہ باری کی وجہ سے ، جس مےں عام شہریوں کی ہلاکتےں بھی ہوئیں، مستقبل قریب مےں افغانستان کے مسئلے کے حل کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ےورپ مےں افغان مہاجرین کی تعداد مےں مزید اضافہ ہوگا۔ جب ےورپ مےں مہاجرین ےا پناہ گزینوں کے معاملے پر غور کیا جاتا ہے تودو قسم کے نکتہ¿ نظر سامنے آتے ہےں، اےک گروہ یہ ےقین رکھتا ہے کہ تمام مہاجرین ہی مصائب کا شکار ہےں اوریہاں پناہ حاصل کرنے کےلئے آئے ہےں، جبکہ دوسرا گروہ نہاےت دائےں بازو کی سوچ کا حامل ہونے کی وجہ سے یہ ےقین رکھتا ہے کہ یہ مہاجرین چونکہ مسلمان ہےں اور جنگ زدہ علاقوں سے آئے ہےں اسلئے اوہ دہشت گردبننے کی تمام خصوصیات رکھتے ہےں۔ ان مہاجرین مےں چونکہ والدےن بھی شامل ہےں جو اپنے بچوں کو بہتر زندگی دےنا چاہتے ہےں وہیں اس افراتفری کی صورتِ حال مےں اےسے لوگ بھی موجود ہےں جنہوں نے ان حالات سے فائدہ اٹھاےاا ور اپنے ملک مےں ظلم و زیادتی کرتے رہے ہےں اور وہ قانون کا کم ہی احترام کرتے ہےں۔
اس مسئلے کا اےک پہلو یہ بھی ہے ،جسے بعض اوقات مغربی معاشرے کے ترقی پسند حلقے مسترد کرتے ہےں،کہ مخصوص جرائم کچھ مخصوص اقوام کے مہاجرےن سے منسوب کر دیے جاتے ہےں۔امریکہ کی اےک پبلی کےشن مےں جسکا ٹائٹل “National Interest” ہے مےں اےک مضمون چھپا ہے جس کے متن سے اےسا محسوس ہوتا ہے کہ اگرےورپ مےں بسنے والے کسی مہاجر سے اگر کوئی جرم سرزد ہو جائے تو اس کا تعلق ہمےشہ افغان قومیت کےساتھ ہی ہوتا ہے۔اس بات کو ثابت کرنے کےلئے اس مضمون مےںآسٹرین پولیس کے اےک کےس کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا گےاہے کہ اعداد و شمار بتاتے ہےں 10 فیصد شامی اور 50فیصد افغان مہاجرین وہاں ہونےوالے جنسی جرائم کے ذمہ دار ہےں ۔ اےسے اعداد و شمار بھی موجود ہےں جو یہ اشارہ دےتے ہےں کہ فرانس مےںہونےوالے جرائم مےں بھی افغان مہاجرین ہی ملوث ہےں۔ منشیات کی سمگلنگ مےں ملوث جرائم پےشہ اور مافیا تنظیموں کا تعلق بھی افغان مہاجرین سے ہے اور مغربی پرےس مےں انکی منفی سرگرمیوں کو باقاعدگی کےساتھ رپورٹ کیاجارہا ہے۔
یہ تمام حقائق اور اعداد و شماراپنی جگہ درست ہو سکتے ہےں لےکن اصل حقیقت کی اےک متوازن تصوےر کشی کےلئے باریک بینی کےساتھ تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔ اصل حقائق اور حاصل شدہ معلومات بہرحال اےک سنگین مسئلے کی نشاندہی ضرور کرتے ہےں جس سے انکار کرنا بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی خاص قومیت کےساتھ منسوب کئے جانےوالے مجرمانہ افعال کی وجوہات تلاش کرنا اےک مشکل کام ہے لےکن کچھ تجزیہ نگار اسکی سادہ سی ثقافتی وضاحت پےش کرتے ہےں لےکن انتہائی دائےں بازو کی سوچ کے حامل اور اسلامو فوبیا مےں مبتلاءگروہ اس سے اےک قدم آگے بڑھ کر ان تمام مسائل کےلئے “اسلام” کو ذمہ دار قرار دےتے ہےں۔بےشک ثقافتی اور اسلامو فوبیا کی وضاحتےںدرست نہیں۔ یہ بات تواظہر من الشمس ہے کہ مجرموں اورمتاثرین دونوں کا تعلق اےک ہی “ثقافت ” اور “مذہب “ےعنی اسلام کےساتھ ہے۔شاےد اس مسئلے کی اصل وجوہات جاننے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ افغان مہاجرین کو مذہبی و ثقافتی طور پر نہاےت مختلف گروہ سمجھناترک کر دےں اور اسکی بجائے انہیں صرف انسان سمجھےں۔ افغانوں کی اس مجرمانہ طبیعت کی خصوصیات کو سمجھنے کےلئے دو اہم نکات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے:اوّل یہ کہ کبھی بھی افغان پناہ گزینوں کی اس ہنگامی صورتِ حال کو کبھی اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا گےا جےسے شامی پناہ گزینوںکے مسائل کو لیا گےا اور یہ بات افغان مہاجرین کی مشکلات مےں کئی گنا اضافہ کردےتی ہے۔ لےکن یہاں یہ بات ےاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان شام ہی کی طرح جنگ سے متاثرہ اےک ملک ہے اور وہاں کی مشکلات اور مصائب شام کی صورتِ حال سے مختلف نہیں۔ پچھلی تقریباً چار دہائیوں سے افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہے۔ انہی حالات مےں افغانستان کے جغرافیائی و سیاسی محل وقوع کے باعث عالمی اور علاقائی طاقتوں کی گرےٹ گےم نے بھی کسی حد تک جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ناانصافی، حوصلہ شکنی اور مسلسل ذہنی دباو¿ کسی خاس قوم (کے اےک اقلیتی گروہ کو) مجرمانہ افعال اور تخرےب کاری کی کارروائیوں کیجانب دھکےل سکتاہے۔چونکہ شام کے رہنے والوں نے جنگ اور خانہ جنگی کے باعث جن خوفناک حالات کا سامنا کیا ہے اسے دستاوےزی شکل مےںدنیا کے سامنے بھرپور انداز مےں پےش کیا گےا لےکن یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہےں کہ افغانستان مےں بھی حالات کچھ کم گھمبیر نہیں رہے اور مزید برآں یہ کہ یہ خانہ جنگی چالیس سالوں پر محیط ہے۔ افغانستان اور افغانیوں کی اس حالت کےلئے ہر اےک مجرم ہے، طالبان بھی اور ماضی کی کمیونزم کی حامی افغان حکومت بھی اور بے شک اےسے عناصر بھی ذمہ دار ہےںجن کےساتھ ماضی مےں فرانس اور دیگر مغربی ممالک کو ہمدردی تھی۔ مثال کے طور پر 1980کی دہائی مےں کمیونسٹ مخالف باغی ، جن مےں وہ لوگ بھی شامل ہےںجوآج انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار سمجھے جاتے ہےں، مغرب ممالک کے بہت قریب تھے۔ طالبان کا ظہور ہوا اسی ظلم و ستم کے ردعمل مےں ہوا۔ افغانیوں کے ان مسائل کےلئے افغان حکومت بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔ افغان حکومت کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے ماحول مےں جب انصاف دےنے والی عدلیہ نے بھی انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں پر آنکھوں پر پٹیاں باندھ لیں تو مختلف صوبوںمےں چھوٹے چھوٹے ظالم حکمرانوں نے سر اٹھالیا۔
ان تمام حقائق کے ساتھ ساتھ ہمےں جنسی زیادتیوں کے ان واقعات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جو ہم (مغرب) نے اور ہمارے اتحادیوں نے کئے تھے اور جن کے بارے مےں اےنگلوسےکسن پرےس کو کبھی کھل کربات کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی۔ جنسی زیادتی تشدد ہی کی اےک قسم ہے ۔ افغان مہاجرین اس جہنم مےں پےدا ہوئے اورکوئی کچھ بھی کہے کم از کم یہ بات کہی جاسکتی ہے کہNATO کی افغانستان مےں مداخلت نے صورتِ حال کو بہتر نہیں کیا بلکہ مزید خراب کر دیا ہے۔اس ماحول سے افغان شہریوں کی نفسیات پر جو بہت برے اور گہرے اثرات مرتب ہوئے انکے جائزے سے ہمےں افغان مہاجرین کے مسئلے کی نوعیت کوسمجھنے اور حالات جاننے مےں مدد مل سکتی ہے۔

Scroll To Top