نہایت قابلِ احترام صاحبانِ فکر ۔۔۔ یہ پارلیمنٹ نہیں ضمیروں کی مارکیٹ ہے ۔۔۔

aaj-ki-bat-logo


اگر کوئی ٹی وی اینکر پرسن ` تجزیہ کار یا کالم نگار اہل الرائے نہ ہو اور اپنی مخصوص سیاسی فکری اور دینی سوچ نہ رکھتا ہو تو اسے میں ” برائے فروخت“ قرار دوں گا۔ مخصوص سیاسی وفاداریاں رکھنا ” برائے فروخت“ کے زمرے میں نہیں آتا۔ مگر مخصوص سیاسی وفاداریاں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ اگر تبدیل ہوجائیں تو خود بخود مشکوک بن جاتی ہیں۔ حکمران طبقے یا حکمرانوں کے نقطہ ءنظر ¾ ان کی پالیسیوں اور ان کے اقدامات کا دفاع کرنا یا ان کی وکالت کرنا نوے فیصد مثالوں میں ” فروخت شدہ “ سمجھا جاسکتا ہے۔ دس فیصد ایسے کیس ہوسکتے ہیں جن میں ” وفاداری “ میں ” دیانت“ کا عنصر کم یا زیادہ شامل ہو۔ میں اِس ضمن میں اِس سے زیادہ بات نہیں کروں گا۔
میرا مقصد یہاں ان تجزیہ کاروں کے افکار پر تبصرہ کرنا ہے جنہیں میں ” برائے فروخت“ کے زمرے میں شامل نہیں کرتا۔ ان میں بہت بڑی اکثریت محب وطن بھی ہے اور ایک مخصوص سیاسی سوچ بھی رکھتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک محب وطن کی سیاسی سوچ دوسرے محب وطن کی سیاسی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو۔جزوی مطابقت ہوسکتی ہے مکمل مطابقت ممکن نہیں۔ مکمل مطابقت تو آدمی کی اپنی ” آج“ کی سوچ اور اپنی بیتے ہوئے ” کل “ کی سوچ کے درمیان بھی نہیں ہوتی۔ اردگرد کے بدلتے حالات اور مختلف قسم کے واقعات سوچ کا جمود توڑ دیا کرتے ہیں۔
میں یہاں ان چند اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں کا ذکر بالخصوص کرنا چاہتا ہوں جنہیں میں کسی بھی صورت میں ” برائے فروخت“ نہیں سمجھ سکتا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کا احترام کرتا ہوں۔ بعض کو بعض پر ” سوچ کی مطابقت“ کی بنیاد پر فوقیت دیتا ہوں بعض سے شدید فکری اختلاف بھی رکھتا ہوں مگر اس اختلاف کے باوجود قابلِ احترام سمجھتا ہوں۔کاشف عباسی ` رﺅف کلاسرا ` عامر متین ` ڈاکٹر شاہد مسعود ` ندیم ملک ` آغا ہلالی ` ارشاد عارف اوریا مقبول جان ` احمد قریشی ` ارشد شریف ` سمیع ابراہیم ` معید پیرزادہ ` صابر شاکر ` عارف بھٹی ` شازیہ ذیشان ` خاو ر گھمن اور حسن نثار ایسے اہل الرائے ہیں جن پر ” برائے فروخت “ کا الزام شاید کبھی نہیں لگ سکتا۔ ان میں ڈاکٹر شاہد مسعود ` کاشف عباسی ` رﺅف کلاسرا ` عامر متین ` آغا ہلالی ` ارشاد عارف ` ارشد شریف ` سمیع ابراہیم ` صابر شاکر اور عارف حمید بھٹی کو گاہے بہ گاہے سنتا رہتا ہوں۔ میری چونکہ اپنی مخصوص سوچ ہے ` اس لئے سوچ کی مطابقت کی بناءپر اِن قابلِ احترام اصحاب میں سے بعض کو میں زیادہ پسند کرتاہوں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہ لیا جائے کہ میں دوسروں کو ناپسند کرتاہوں۔
مثال کے طور پر میری رائے میں کاشف عباسی اور رﺅف کلاسرا بڑے کھرے اور سچے تجزیہ کار ہیں مگر کچھ معاملات میں اِن کی سوچ سے میں اختلاف رکھتا ہوں۔
رﺅف کلاسرا سیکولر سوچ رکھتے ہیں اور فوج کا سیاسی کردار انہیں سخت ناپسند ہے۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے وہ ان معاملات کے بارے میں قومی شدت پسندی پر نظر ثانی کے حامی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ اس قدر شدید لگاﺅ رکھتے ہیں کہ زمینی حقائق خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوں پارلیمنٹ کا تقدس مجروح نہیں ہونا چاہئے۔
تقریباً ایسی ہی سوچ کا شف عباسی کی ہے۔
میں اِن معاملات میں اِن سے اختلاف رکھتا ہوں۔بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ سمندر میں چھوٹی مچھلی شارک مچھلی سے اچھے تعلقات قائم نہیں کرسکتی۔ اسے ہمیشہ اپنے تحفظ ` اپنے دفاع اور اپنی بقاءکے بارے میں سوچنا ہوگا۔ بھارت اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے حریف اور دشمن رہیں گے۔ پاکستان کو یہ حقیقت ہمیشہ سامنے رکھنی ہوگی اور اسی حقیقت کی روشنی میں اپنی ہر پالیسی کی تشکیل کرنی ہوگی۔
پارلیمنٹ یقینا بڑا مقدس لفظ ہے۔ مگر کون سی پارلیمنٹ ۔؟وہ پارلیمنٹ جس کے اراکین ملک کے قوانین بنانے اور قوانین میں مناسب وقت پر مناسب ترمیم کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔؟ یا وہ پارلیمنٹ بھی جس کی بہت بڑی اکثریت ایسے اراکین پر مشتمل ہو جو آنکھیں بند کرکے ہاتھ اٹھاتے ہوں اور جنہیں یہی معلوم نہ ہو کہ قانون کیا چیز ہے اور ریاست کو قانون کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔؟
ہم فرسودہ نظام سے نجات حاصل کرنے کی بات تو کرتے ہیں مگر جو ادارے اس نظام کی فرسودگی کا باعث ہیں ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ان اداروں میں سرفہرست پارلیمنٹ ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پارلیمنٹ نہیں ہونی چاہئے۔پارلیمنٹ کے بغیر تو مطلق العنان حکمران ریاست کے مالک بن جائیں گے۔ مگر پارلیمنٹ ایسے لوگوں پر مشتمل ہونی چاہئے جنہیں ملک کے مسائل کو سمجھنے اور قانون سازی کے تقاضوں کو پورا کرنے کا شعور حاصل ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ شیخ رشید اور عمران خان نے اِس پارلیمنٹ کے بارے میں جو کچھ بھی کہا درست کہا۔ جوا خانے کا نام مسجد رکھ دیا جائے تو وہ مسجد نہیں بن جاتا۔ یہ پارلیمنٹ جس کے تقدس پر میاں برادران کے ساتھ ساتھ پی پی پی کے قائدین بھی قربان ہوتے رہتے ہیں یہ ایسے طالع آزماﺅں کا کلب ہے جو کروڑوں کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد اس کی رکنیت حاصل کرتے اور رکنیت حاصل کرنے کے بعد ارب پتی بننے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں۔
اس پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ سے مجرم قرار پانے والے شخص پر قیادت کا تاج رکھنے والا قانون تو ایک دن میں بنا لیا مگر کمسن بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والے سفاک حیوانوں کو فوراً کیفرکردار تک پہنچانے کا قانون بنانے کے لئے ان کے پاس کوئی وقت نہیں۔
میرے بھائیو۔۔۔ یہ جمہوریت نہیں۔۔۔ یہ ضمیروں کا کاروبار ہے۔۔۔
جب تک آپ لوگ اِس نظام کو گرانے اور نئی بنیادوں پر نیا جہاں آباد کرنے کے لئے نہیں اٹھیں گے ۔۔۔ یہ قوم اِسی طرح ظلم کی چکی میں پستی رہے گی یا گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی۔۔۔

Scroll To Top