سکھ ۔بھارتی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ

  • سعدیہ نواز

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ “اکھنڈ بھارت”کا خواب دےکھنے والے بھارت کی 22 ریاستوں مےں علےحدگی پسندی کی تحریکےں اپنے عروج پرہےں۔ان تحریکوں مےں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی سرِ فہرست ہے جہاں بھارت کی سات لاکھ قابض افواج اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کوظلم وستم کی چکّی مےں پیس رہی ہےں اور 1989سے لےکر جب کشمیریوں نے بھارت کے غاصبانہ قبضہ کےخلاف کھلم کھلا جنگ شروع کی، آج تک اےک لاکھ کشمیری شہید ہوچکے ہےںاور مقبوضہ وادی مےں شہیدوںکے قبرستان اس بات کے گواہ ہےں۔ مزیدبرآں ہزاروں بے نام کشمیریوں کی قبریں بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہےں کہ ان لاپتہ کشمیری نوجوانوں کو زےرِ حراست تشدد سے ماورائے عدالت قتل کیا گےا اور انکا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔ ان کشمیری شہداءکے ورثاءآج بھی اپنے پیاروں کو تلاش کرتے پھر رہے ہےں۔اسی فہرست مےں سکھ برادری بھی شامل ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے اےک آزادریاست “خالصتان” کے حصول کےلئے آزادی کی جنگ لڑرہی ہے اور بھارت کے ظلم و ستم برداشت کر رہی ہے۔ اس حقیقت سے قفعِ نظر کہ سکھوںنے بھارتی افواج کےساتھ ملکر کئی جنگےں لڑیں،انہیںدیوار کےساتھ لگادیا گےا۔ سکھوں کےساتھ امتیازی سلوک کے نتیجے مےں سنت جرنےل سنگھ بھنڈرانوالہ کی رہنمائی مےں سکھوں کی آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔
جون 1984مےں اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹمپل پر، جہاں سنت جرنےل سنگھ اپنے ساتھوں کےساتھ موجود تھے، فوجی آپرےشن کا حکم دیا۔آزادی کی اس تحریک کو اس وقت طاقت سے دبا دیا گےا لےکن گولڈن ٹمپل مےں موجود بھنڈرانوالہ کے ہزاروں پےروکار اور سکھ زائرین شہید کر دئےے گئے۔ اسکے بعد سکھوںکے مقدس مقام کی بے حرمتی، زائرین اور انکے رہنما کے قتل کے ردعمل مےں اندرا گاندھی کو اسکے اپنے سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھارت بھر مےں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے اور ہندوو¿ں نے سےنکڑوں گردواروں کو نذرِ آتش کردیا، ہزاروں بے گناہ سکھوں کو بے دردی کےساتھ قتل کردیا، انکی املاک کو لوٹ لیا گےا اور ہزاروں سکھ خواتین کی آبرو رےزی کی گئی۔ خالصتان تحریک کے دوران پنجاب مےں سکھوں پر کئے گئے تشدد پر کی گئی کئی تحقیقاتی رپورٹوں مےں بتاےا گےا کہ کس طرح سکھوں پر تشدد کے مختلف طریقے آزمائے گئے اور بتاےا گےا کہ تقریباً تمام ہی کیسز مےں زےرِ حراست سکھوں کو مجبور کیا گےا کہ وہ اپنے کپڑے اتار دےں۔ اسکے بعد انہیں چمڑے کے کوڑے اور لکڑی کی لاٹھیوں سے بہت مارا گےا۔ اےسے واقعات اتنی معمول کی بات تھی کہ انہےں تشدد ہی شمار نہیں کیا گےا۔ اےک پولیس افسر کےمطابق صرف اسکے پولیس سٹےشن مےں 1985 سے 1990کے دوران ہرسال چار سے پانچ ہزار افراد کو تشدد کا نشانہ بناےا گےا۔ستم ظریفی کی انتہا یہ تھی کہ تشدد کا شکار ہونےوالے ان افراد کی اکثریت کا تعلق خالصتان تحریک سے بھی نہیں تھا وہ معصوم اور عام سکھ شہری تھے ۔تشدد کا شکار ہونےوالوں مےں مرد و عورتےں دونوں شامل تھے جنکی عمرےں17سے 83 سال کے درمیان تھےں۔ ان رپورٹس مےں یہ نتیجہ اخذ کیا گےا کہ پولیس نے بغےر کسی الزام کے سکھوں کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کےساتھ بڑے منظم انداز مےں ہزاروں سکھوں کو محض اس شک کی بنیاد پرکہ وہ اپنے دل مےں خالصتان تحریک کے بارے مےں نرم گوشہ رکھتے ہےں، تشدد کرکے موت کی نیند سلا دیا۔ آئندہ آنےوالے سالوں مےں سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کو تو طاقت سے کچل دیا گےالےکن ان سکھ مہاجرین کے دل و دماغ پر جو ےورپ، امریکہ اور کےنےڈا مےں مقیم ہےں،1984کے زخم نقش ہو چکے ہےں اور وہ اپنی برادری پر کئے جانےوالے حملوں کو نہیں بھول پائے۔
سکھوں کےساتھ آج بھی وہی سلوک کیا جارہا ہے۔ حال ہی مےں 30سالہ سکاٹ لےنڈ کے بھارت نژاد سکھ شہری جگتار سنگھ جوہل (جگی)کو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری کے بعد دنیا بھر مےں بسنے والے سکھوں مےں شدید غم و غصہ پےدا ہوا اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔جگتار سنگھ اکتوبر 2017مےں اپنی شادی کےلئے بھارت آےا تھا جسکے اےک ماہ بعد اسے گرفتار کر لیا گےا۔اس پر الزام یہ تھا کہ وہ پچھلے دوسالوں کے دوران پنجاب(بھارت) مےں ہونےوالی ٹارگٹ کلنگ مےں ملوث ہے۔ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونےوالوں مےں 2016مےںبرےگےڈئیر (رےٹائرڈ) جگدیش، اپرےل2017مےں پادری سلطان مسیح اور اکتوبر2017 مےں راوندرا گوسےن سمےت انتہا پسند تنظیم راشٹریا سواےم سےوک سنگھ (RSS) اور دےگر دائےں بازوکی تنظیموں کے رہنما شامل ہےں۔پنجاب پولیس کےمطابق ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات مےں جگتار سنگھکا ہاتھ ہے اوریہ الزام بھی لگاےا گےا کہ وہ دہشتگرد تنظیم خالصتان لبرےشن فورس کو فنڈز اور ہتھےاروں کی فراہمی مےں ملوث ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے اپنے ذرائع ابلاغ کو بتاےاکہ وہ جوہل کے بارے مےں لاحق خدشات سے آگاہ ہے اور سکاٹش نےشنل پارٹی کیجانب سے یہ معاملہ ہاو¿س آف کامنز مےں بھی اٹھاےا گےا ہے۔ برطانیہ کے خارجہ و کامن وےلتھ امور کی وزارت نے بھی بھارتی حکومت سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی “عام آدمی پارٹی” (AAP)کے رکن اسمبلی کنور سندھو نے بھی کہا ہے کہ وہ پنجاب حکومت کیجانب سے جگتار سنگھ پرقائم کئے گئے مقدمات پر مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات شاےد کاروباری اور سیاسی پارٹیوں کی آپس کی دشمنی کا نتیجہ ہوںاور ان کا اس سازش کےساتھ کوئی تعلق نہ ہو جسکے بارے مےں پولیس بات کررہی ہے۔
دنیا بھر مےں بسنے والی سکھ برادری جگتار سنگھ جوہل کےلئے انصاف کا مطالبہ کررہی ہے۔کےنےڈا کے نامور سیاستدان اور نیو ڈےموکرےٹک پارٹی (NDP) کے رہنما جگمیت سنگھ نے اس سلسلے مےں تعاون کی بھی پےشکش کی ہے۔ کےنےڈا کی پارلیمنٹ کے رکن راج گرےوال اور رندیپ گرائی نے کےنےڈا مےں بھارتی ہائی کمشنر وکاس سروپ سے بھارت مےں ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ مےں سکھ فےڈریشن بی جگتار سنگھ کو انصاف دلوانے کےلئے اپنی برادری کی حماےت کےساتھ لندن مےں برطانوی پارلیمنٹ اور فارن آفس کے باہر احتجاجی مظاہرے کررہی ہے۔
جگتار سنگھ کے معاملے مےں بھارت کی انتظامیہ، عدلیہ حتٰی کہ تمام تر سٹےبلشمنٹ اےک شخص کےخلاف سرگرم ہے۔ جگتار سنگھ کی گرفتاری کے بعد وزیرِ اعلیٰ کےپٹن امرےندر سنگھ نے اےک پرےس کانفرنس کی اور یہ الزام لگاےا کہ وہ کئی اہم افراد کے قتل کی وارداتوں مےں ملوث ہے اور یہ کہ اس گرفتاری کےساتھ ہی قتل کے ان واقعات کی گتھی سلجھ گئی ہے۔یہ اےک غےر معمولی بات ہے کہ کسی ریاست کا وزیرِ اعلیٰ کسی اےک شخص کے کےس مےں اس قدر دلچسپی لے۔ سچ تو یہ ہے کہ جگتار سنگھ کو پہلے ہی دن سے تعصب کا نشانہ بنادیا گےا اور اس پر مقدمہ چلانے سے پہلے ہی اسے مجرم قرار دے دیا گےا۔ جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے تو اس نے اس سلسلے مےں اپنہ ذمہ داری نہیں نبھائی اور تشدد کی کئی سنگین شکاےات کے باوجود پولیس ریمانڈ مےں توسیع کردی جس سے پولیس حراست کے دوران تشدد اور بدسلوکی کی راہیں ہموار ہو گئی ہےں۔جبکہ بھارتی پولیس اس جھوٹے مقدمے مےں اعترافِ جرم کروانے کےلئے اس پر تشدد کررہی ہے۔ پولیس جگتار سنگھ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی ہراساں کررہی ہے۔ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہےں کہ انکے ساتھ بھی اےسا ہی سلوک کیا جائےگا جسکی وجہ سے وہ بھارتی پولیس سے چھپتے پھررہے ہےں۔
یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جگتارسنگھ کا کےس بھائی جسونت سنگھ سے ملتا جلتا ہے۔1995مےں پنجاب(بھارت) پولیس نے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کو پہلے اغواءکیا، زےرِحراست تشدد کا نشانہ بناےااور پھر قتل کردیا۔ اس کا قصور محض یہ تھا کہ وہ خالصتان تحریک کے کارکنان کےخلاف بھارتی ریاست کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو منظرِ عام پر لانے کےلئے کام کررہا تھا۔ جسو نت سنگھ نے اپنی رپورٹس مےں اےسے ناقابلِ تردید ثبوت مہےّا کئے تھے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ پنجاب پولیس نے ہزاروں سکھوں کو ماورائے عدالت قتل کیا اورپھر رازداری کےساتھ انکی لاشوں کو جلا دیا۔ جسونت سنگھ پر بھی یہی الزام لگاےا گےا تھا کہ وہ خالصتان تحریک کا کارکن اور پاکستان کی خفیہ اےجنسی آئی۔اےس۔آئی (ISI) کا اےجنٹ ہے۔ جگتار سنگھ پر بھی یہی الزامات لگائے جارہے ہےں۔ پاکستان کی خفیہ اےجنسی کےساتھ تعلقات کا الزام خاص طور پر اسلئے لگاےا گےا تاکہ جگتار سنگھ کےساتھ کسی انسانی سلوک کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کےساتھ ہر قسم کے سلوک کو روا رکھنے کا جواز مل سکے اور بھارتی پولیس جو چاہے اس کےساتھ سلوک کرے۔جسونت سنگھ کے کےس مےں بھی ان الزمات کو اسے اغواءکرکے تشددکرنے اور پھر ماورائے عدالت قتل کرنے کےلئے استعمال کیا گےا تھا۔
بھارتی حکومت جگتار سنگھ جےسے لوگوں کو جو سکھوں کے حقوق کے تحفظ کی تحریک کےلئے کام کررہے ہےں، دوسروں کےلئے نشانِ عبرت بنا رہی ہے۔بھارت مےں اقلیتوں کےخلاف دہشتگردی کے مقدمات قائم کرنا معمول کی بات بن چکی ہے۔ انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں اور بھارت مےں اقلیتوں کےساتھ جاری یہ سلوک یہ تقاضا کرتا ہے کہ دنیا کشمیر کی تحریکِ آزادی اور سکھوں کی خالصتان تحریک کی جدوجہد کو بھی تسلیم کرے تاکہ بھارت مےں بسنے والی اقلیتوں کےساتھ جاری ظلم و ستم کا خاتمہ ہوسکے۔

Scroll To Top