اپوزیشن کا کامیاب پاور شو

zaheer-babar-logo
ڈاکٹرطاہر القادری کی آواز پر اپوزیشن جماعتوں کا مال روڈ پر احتجاج سانحہ ماڈل ٹاون کے ورثاءکو انصاف کے علاوہ قصور واقعہ پر مجرموں کو گرفتار کرکے انھیں کفیر کردار تک پہنچانے کے لیے بھی ہے۔ مذکورہ احتجاج اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی پہلی مرتبہ ایک ہی مقام پر احتجاج کرتی ہوئی نظر آئیں۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق کہ دس سال گزرنے کے باوجود وزیر اعلی پنجاب کا صوبہ کے اہم مسائل پر قابو نہ پانا دراصل مسلم لیگ ن کی مشکلات دوچند کرگیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ ایک طرف پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف اور ان بچے آئے روز احتساب عدالت میں پیش ہورہے تو دوسری جانب حکمران جماعت کی طاقت کے واحد سیاسی مرکز پنجاب میں انصاف کے حصول کی دہائی دی جارہی۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی وفاق اور سندھ میںبرسر اقتدار آئی۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق مسلم لیگ ن اس موقعہ کا فائدہ اٹھایا اور دوہزار تیرہ کے عام انتخابات تک تمام تر مسائل کا زمہ دار سابق صدر آصف علی زرداری کو قرار دے دیا جاتا رہا۔ایک طرف پی پی پی کی کارکردگی اور دوسری جانب آصف علی زرداری پر مبینہ کرپشن کرنے کے الزامات نے پاکستان پیپلزپارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ،الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب میں واضح کامیابی حاصل کرلی جو وفاق اور صوبہ میں باآسانی حکومت بنانے کی راہ ہموار کرگی۔
پانامہ لیکس نے مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا دیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس عالمی مالیاتی سیکنڈل کو جس طرح اٹھایا اس کے نتیجے میں معاملہ عدلیہ تک جا پہنچا۔ قانونی اور سیاسی حلقوں کے مطابق کہ گزرے ماہ وسال میں شریف خاندان جس طرح عدالتوںسے سرخرو ہوکر نکلتا رہا اس بار بھی ایسا ہی کچھ ہونے کی توقع کی گی جو باجوہ پوری نہ ہوسکی ۔ کئی مہینوں کی لگاتار سماعت کے بعد عدالت عظمی نے شریف خاندان کے مالی معاملات کی چھان بین کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ نے پانامہ لیکس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں میاں نوازشریف کے مالی معاملات بارے مذیدانکشافات کرڈالے۔ پانچ ججوں نے میاں نوازشریف اور ان کے تین بچوں کے خلاف تمام شوائد کا جائزہ لینے کے بعد سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار د ے ڈالا مگر میاں نوازشریف نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔
آج سابق وزیر اعظم ان کی صاحبزادی اور ان کے قریب سمجھے جانے والے افراد ایک طرف عدالتوں کو نشانے بنارہے ہیں تو دوسری جانب قومی ادارے بھی ان کی الزام تراشیوں سے محفوظ نہیں۔
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے تحت سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ اس واقعہ کو نئی طاقت دے گیا۔ جناب جسٹس باقر نجفی نے جس انداز میں جوڈشیل انکوائری کی وہ اس تاثر کو مضبوط کرگیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر قانون کا کردار تسلی بخش نہ تھا۔ آج ڈاکڑ طاہر القادری ایک بارپھرسڑکوں پر ہیں مگر اس بارے حزب اختلاف کی نمایاں سیاسی قوتیں ان کے ہم قدم ہیں۔
یقینا پنجاب کی سیاست میں مسلسل ہلچل ہے۔ سابق وزیر اعظم میاںنوازشریف اپنے سیاسی دور کے مشکل ترین وقت سے گزر رہے ۔ 1999میں سابق صدر پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے سے انھوں نے خود کو کامیابی سے مظلوم ثابت کیا ، معاہدہ کرکے سعودی عرب بھی گے مگر وطن واپس آکر دوبارہ قومی سیاست میں فعال ہوکر برسر اقتدار آگے ۔ پرویز مشرف کے ساتھ درپردہ معاملات طے ہونے کے باعث سابق وزیر اعظم سے خلاف مقدمات کا خاتمہ بھی ہوا جو بالاآخر انھیں تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر براجمان ہونے میں خاصا مددگار ثابت ہوا، مگر آج صورت حال بدل چکی۔ اہل پنجاب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ن لیگ نے پانچ سالوں میں ان کے لیے کیا اقدمات اٹھائے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پانچ دریاوں کی سرزمین پنجاب کا شائد ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں پینے کا صاف پانی میسر ہو۔ جی ٹی روڈ کی جماعت کہلانے والی مسلم لیگ ن نے جی ٹی روڈ کے لیے بھی کچھ نہ کیا۔ ثبوت یہ کہ اس تاریخی شاہراہ پر دس سالوں میں شائد ہی کوئی نمایاں ہسپتال بنایا گیا ہو۔ادھر مسلم لیگ ن 35سالوں سے پنجاب کی سیاست میں متحرک ہے مگر کسی بھی شہر میں تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات دسیتاب نہیں۔
سانحہ ماڈل ٹاون اور سانحہ قصور نے اہل پنجاب کے ان زخموں کو تازہ کردیا جو کئی دہائیوں سے وہ اپنے دلوں پر محسوس کررہے۔ قصور میں زینب سمیت بارہ بچیوں کا زیادتی کے بعد قتل ہوجانا خادم اعلی کی کارکردگی کو داغ لگایا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میاں شبہازشریف اپنی غلطیوںسے سیکھنے کو تیار نہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مسلسل یہ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیںکہ کارکردگی نہیں اشتہاربازی سے لوگوں کو باآسانی بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں اب تک لاکھوں نہیں کروڈوں روپے کے اشتہارات دیے جاچکے۔ صوبائی حکومت یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ پنجاب میں دودہ اور شہید کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔افسوس کہ مسلم لیگ ن یہ سمجھ نہ سکی کہ پاکستان تیزی سے بدل رہا ہے۔ نجی ٹی وی چنیلز اور سوشل میڈیا نے ملک میں انقلاب برپا کردیا ۔ اب زبانی جمع خرچ کی بجائے باشعور پاکستان اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے یہی وجہ ہے لاہور میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں لوگوں کثیر تعداد میں شرکت حکومتی کارکردگی پر عدم اعتماد کا ثبوت دے گی۔

Scroll To Top