بھاری مینڈیٹ کے بیانیے کے پیچھے ایک وفادار الیکشن کمیشن کے علاوہ اور کیا کیا عوامل ہیں ؟

aaj-ki-bat-logo

مسلم لیگ (ن)کے لیڈروں کا یہ بیانیہ پوسٹ مارٹم کا متقاضی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں تھوڑا ساصبر اور کرلیں۔۔۔ انتخابات ہونے والے ہیں اور انتخابات میں پتہ چل جائے گا کہ عوام اپنا فیصلہ کس کے حق میں دیتے ہیں۔۔۔ اِس ” نونی“ بیانیے میں بھی دو بیانیے پنہاں ہیں۔۔۔ ایک یہ کہ عوام عدلیہ کے فیصلوں اور فوج کی مداخلت کو مسترد کرکے اپنا فیصلہ میاں نوازشریف کے حق میں دیں گے ۔۔۔ اور دوسرا یہ کہ میاں نوازشریف کی اس خود اعتمادی کے پیچھے بڑے ٹھوس اسباب ہیں۔۔۔ جو الیکشن کمیشن اپنے اجزائے ترکیب کی بدولت ماضی میں میاں نوازشریف کی ” شاندار “ کامیابیوں کو یقینی بناتا رہا ہے وہ اللہ کو پیارا نہیں ہوا۔۔۔ وہ آج بھی قائم ہے۔۔۔ صرف چہرے بدل گئے ہیں لیکن ” اجزائے ترکیب“ وہی ہیں۔۔۔اس الیکشن کمیشن کی موجودگی میں میاں نوازشریف کی شکست ایک انہونی بات ہوگی۔۔۔ ایک فرق ضرور پڑا ہے۔۔۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی معاونت اور ہمدردیاں میاں صاحب کے ساتھ ہوتی تھیں۔۔۔ صرف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے عملاً غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا تھا اور جو نتائج تب سامنے آئے تھے وہ بڑی حد تک رائے عامہ کے حقیقی رحجانات کے عکاس تھے۔۔۔ 2013ءکے عام انتخابات میں بھی میاں صاحب کو عدلیہ اور فوجی قیادت کا بھرپور تعاون اور اعتماد حاصل تھا۔۔۔
وہ صورتحال اب موجود نہیں۔۔۔
میاں صاحب نے اپنی سیاسی قوت کا سرچشمہ اب ” حقانی نیٹ ورک“ کو بنا لیا ہے۔۔۔ یہ ترکیب ممتاز تجزیہ کار ارشد شریف کی ہے۔۔۔ اس نیٹ ورک کے روحِ رواں طالبان کے معروف سالار حقانی نہیں ` اس کے روح ِ رواں وہ حقانی ہیں جو عرصہ دراز سے امریکہ کی ” معروف“ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ منسلک ہیں اور ماضی میں میاں نوازشریف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو دونوں کے مشیر رہ چکے ہیں۔۔۔ موصوف کو آصف علی زرداری نے اقتدار سنبھالتے ہی سفیر بنا کر امریکہ بھیجا تھا اور اِسی حیثیت میں انہوں نے میموگیٹ کیس میں ” بڑا“ نام کمایا۔۔۔
مجھے اِس حقانی کے قرب کا شرف حاصل رہاہے۔۔۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو نے 1993ءمیں انہیں میڈیا اسٹریٹجی کے حوالے سے میرے ساتھ منسلک کیا تھا۔۔۔ تب وہ سی آئی اے کے ساتھ منسلک تھے یا نہیں ` میں نہیں جانتا لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ وہ دو خداﺅں کو مانتے ہیں ۔۔۔ اُن کا دوسرا خدا پیسہ ہے۔۔۔ اور یہ خدا اگر انہیں حکم دے کہ اُس خدا کو بھول جاﺅ جس کی وجہ سے تم مسلمان کہلاتے ہو تو وہ سرِ تسلیم خم کردیں گے ۔۔۔ اِس خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی خاصیت یا خصوصیت ہی اُن کے اور میاں نوازشریف کے درمیان ” وجہ ءاشتراک“ بن گئی ہے۔۔۔
باتوں ہی باتوں میں بات دور نکل گئی۔۔۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اب میاں نوازشریف نے اپنی تمام تر امیدیں موجودہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ حسین حقانی اور اُن کے نیٹ ورک سے وابستہ کررکھی ہیں جس کا ایک حصہ رابرٹی گلوبل نامی لابنگ فرم بھی ہے۔۔۔ اس نیٹ ورک نے انہیں یقین دلا رکھاہے کہ اگر پاک فوج اور پاک عدلیہ پر حملوں کا سلسلہ انہوں نے جاری رکھا اور وہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد پُل بن گئے تو انہیں موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے کسی نہ کسی ” این آر او “ کا بندوبست کرلیاجائے گا۔۔۔
میاں صاحب کی ” خود اعتمادی“ کے پیچھے ایک حکمت عملی یہ بھی ہے کہ ان کے حامیوں کے حوصلے قائم رہیں۔۔۔
اگر پاک فوج اور پاک عدلیہ دونوں میاں نوازشریف کے بیانیے کے مطابق واقعی ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن نون لیگ کو ” بھاری مینڈیٹ“ دلوانے کے لئے قائم رہے گا۔۔۔
” بھاری مینڈیٹ“ کا یہ بیانیہ اُس خطیر امداد کامرہونِ منت بھی ہے جو میاں صاحب مختلف طریقوں سے میڈیا میں موجود اپنے عقیدت مندوں کو دیتے رہتے ہیں۔۔۔ میاں صاحب کا یہ فیاضانہ رویہ بہت سارے کرایہ داروں کو بڑے بڑے پلازوں کا مالک و مختار بنا چکا ہے۔۔۔

Scroll To Top