’’پدماوت‘‘ پر غصہ؛ ہندوانتہا پسندوں نے اسکول پرحملہ کردیا

rواقعے میں ایک طالبعلم زخمی ہوگیا جسے طبی امداد فراہم کردی گئی؛ فوٹوفائل

رتلام: فلم’’پدماوت‘‘اور سنجے لیلا بھنسالی کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں اشتعال انگیز ہندو انتہا پسندوں نے فلم’’پدماوت‘‘کا غصہ اسکول پر اتارتے ہوئے ہنگامہ مچایا اور اسکول میں توڑ پھوڑ کی۔

ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کی فلم’’پدماوت‘‘کی پچھلی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں کہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی۔ فلم ابتدا ہی سے بھارتی ہندو انتہا پسندوں کو ایک نہیں بھارہی، فلم کی ریلیز کی صورت میں کرنی سینا سمیت متعدد ہندو انتہا پسند جماعتوں نے  سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کو دھمکی دی تھی کہ اگر فلم ریلیز ہوئی تو انجام اچھا نہیں ہوگا۔ انتہا پسندوں کے فلم پر دو بڑے اعتراض ہیں جس کی وجہ سے وہ فلم کی ریلیز میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ پہلا اعتراض فلم میں رانی پدمنی کے کردار پر ہے، انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ فلم میں رانی پدمنی کے کردار کو حقیقت کے برعکس دکھایا گیا ہے اوران کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب کہ دوسرا اعتراض فلم کے مقبول ترین گیت’’گھومر‘‘ پر اٹھایا گیا ہے۔ اس حوالے سے انتہا پسندوں کی رائے  ہے کہ راجستھان میں رانیاں گھومر نہیں کرتیں لہٰذا اس گانے کو فلم سے نکالا جائے۔

یہ اعتراض اتنی زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے کہ مدھیہ پردیش کے شہر رتلام  کے سینٹ پول کانونٹ اسکول میں فنکشن کے دوران جب  ننھی طالباؤں نے اس گانے پر پرفارم کیا تو ہندو انتہا پسندجماعت شیری راجپوت کرنی سینا سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسکول پر حملہ کردیا اور اسکول میں توڑ پھوڑ مچائی۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے اطلاع کرنے پر پولیس فوراً اسکول پہنچی اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کیا، تاہم اس واقعے میں ایک طالبعلم زخمی ہوگیا جسے طبی امداد فراہم کردی گئی۔

ولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے نہ صرف اسکول میں ہنگامہ مچایا بلکہ بچوں کے والدین اور ٹیچرز کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، پولیس نے حملہ کرنے والے افرادمیں سے چارکو گرفتار کرلیا ہے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغا زکردیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سنسر بورڈ نے فلم’’پدماوت‘‘کو 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت دےدی ہے تاہم ہندو انتہا پسند جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ فلم کو کسی حال میں ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔

Scroll To Top